ماہی پروری ۔۔۔جدید بائیوفلوک سٹم   


کو شائع کی گئی۔ July 11, 2021    ·(TOTAL VIEWS 92)      No Comments

تحریر۔۔۔ مہرسلطان محمود
دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کوبنیادی غذاءکی قلت کا سامنا ہے کاربو ہائڈریٹس تو کسی حد تک آسانی سے دستیاب ہو جاتے ہیں لیکن جسم کی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرنے والی پروٹین ہر شخص کو آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔ پروٹین کے بنیادی ذرائع میں سے ایک مچھلی ہے جسے لوگ بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ لیکن آبادی کے زیادہ ہونے اور کچھ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دریا¶ں اور سمندروں میں پائی جانے والی مچھلی ایک تو بہت کم ہے دوسرا بہت مہنگی ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ سے باہرہے۔ جس کی وجہ سے مچھلی کے ذریعے انسانی جسم کو حاصل ہونے والی پروٹین کی کمی کا سامنا ہر دوسرے شخص کو ہے۔ پروٹین کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھرکے سائنسدانوں کی کوششوں سے مچھلیوں کو فارمز میں تیار کرنا شروع کیا گیا۔ پاکستان میں بھی فشریز کے نام سے ایک ادارہ کام کر رہا ہے۔ پچھلے دنوں ایک بہت ہی پیارے دوست حافظ معاظ مہتاب(انسپکٹر فشریز ڈیپارٹمنٹ) سے ملاقات ہوئی۔دعوت پر ہمراہ پروفیسر ابو حنظلہ ادریس فشریز ڈیپارٹمنٹ گئے اور وہاں پر تعلقات عامہ ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران سہیل اسلم صاحب سے سیر حاصل گفتگو ہوئی جس میں محکمہ فشریز کی کارکردگی سمیت اس صنعت کو فروغ دیکر مچھلی کی فارمنگ کے جدید طریقوں کو اپنا کر پیداوار بڑھانے کے حوالے سے موجودہ سرکار کی طرف سے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اس حوالے سے چند گزاراشات پیش خدمت ہیں۔ ایک عمیق جائزے اور مختلف لوگوں کی جانب سے بنائی جانے والی سروے رپورٹس کا مطالعہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ پاکستان میں لوگ ماہی پروری سے آگاہ تو ہیں لیکن بہت کم ہیں اور جو لوگ پاکستان میں ماہی پروری کر رہے ہیں وہ سب روائتی تالابوں کا استعمال کر رہے ہیں جو زیادہ جگہ، زیادہ خرچہ اور کم منافع کے ساتھ ساتھ کم پیداوار کا حامل طریقہ ہے۔جبکہ دوسروں ملکوں میںماہی پروری کی صنعت سے وابستہ لوگ جدید بائیوفلاک سسٹم کی جانب منتقل ہوچکے ہیں۔ جو کہ کم جگہ، کم خرچ اورزیادہ منافع کے ساتھ ساتھ زیادہ پیداوار کا حامل طریقہ ہے لیکن پاکستان میں ابھی تک ہماری گورنمنٹ نے اس بائیوفلوک طریقے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔اس جدید بائیوفلوک سسٹم کے پاکستان میں تجربے کے حوالے سے جب میں نے تھوڑی بہت تحقیقات کیں تو پتا چلا کہ کچھ لوگوں نے اپنے طورپر اس بائیوفلوک سسٹم کو اپنانے کی کوشش کی لیکن بہت کم معلومات اور رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً سب کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں ماہی پروری میں بائیو فلوک سسٹم پر ریسرچ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے اور جو افراد گورنمنٹ کے اداروں میں بیٹھے ہوئے ہیں ان میں سے بھی ذیادہ تر لوگوں کی رہنمائی کرنے سے قاصر ہیں۔ہماری قومی وصوبائی حکومتوںنے اس حوالے سے کوئی جامع حکمت عملی مرتب نہیں کی ہے۔موجودہ گورنمنٹ کا وژن ہے کہ برآمدات بڑھائی جائیں اور درآمدات کو کم کیا جائے اسی لیے وزیراعظم کے اس پلان کو کامیاب کرنے کے لیے محکمہ فشریز کو چاہیے کہ وہ ماہی پروری پر خاص توجہ دے اور خاص طور پر بائیوفلوک سسٹم کو کامیاب بنانے میں ان لوگوں کی مدد کرے جو اس پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں مچھلی کی درج ذیل اقسام ہیںجن میںرہو،موری ،گراس کراپ،تھیلا ،سلور کارپ یا بگ ہیڈ شامل ہیںان کی افزائش ریجن وائز میں پاکستان میں کی جاتی ہے ۔اس سلسلے میں جدید بائیوفلوک سسٹم سے کم خرچ اور جگہ میں ذیادہ سے ذیادہ مچھلی کی پیدوار کے حصول کی لیے ماہرین کی ٹیم سے اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو رہنمائی فراہم کروائی جائے ساتھ میں چونکہ پاکستان میں سرکاری نوکریوں کا حصول انتہائی مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ ہے پرائیویٹ سیکٹر بھی اس سلسلے میں مختلف چیلنجز کی وجہ سے گرداب کا شکار ہے اور پڑھے لکھے نوجوانوں میں مایوسی کا سبب بن رہاہے ۔نوکری کے حصول کی بجائے ہمیں اپنی نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے فوائد سمیٹنے کے لیے کاروبار کی طرف راغب کرنا ہوگا ۔اس سلسلے میں مختلف یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل طلباءکو ماہی پروری کے اس منافع بخش کاروبار پر تسلی بخش رہنمائی فراہم کی جائے خاص کر دیہات سے تعلق رکھنے والے طلباءوطالبات جو کے زمیندار گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کو اس کاروبار کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ اس کاروبار کو بھی شروع کرکے لاکھوں روپے منافع کما سکتے ہیں ۔جس سے ملکی برآمدات میں اضافے کے ساتھ زرمبادلہ کے زخائر میں اچھا خاصا اضافہ یقینی ہے ۔محکمہ فشریز پنجاب کی کارکردگی اس حوالے سے بہتر ہے نئے افسران کو اگر بہتر انداز میں ٹریننگ فراہم کی جائے تووہ عوام میں اس حوالے سے بہترین انداز میں کمپئین چلا کر ماہی پروری کو فروغ دینے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں گے۔اس سلسلے میں فارم کے ڈیزائن ودیگر امور پر محکمہ ماہی پروری پنجاب کی توسعی عملہ کے زریعے بلا معاوضہ فنی معلومات ومشورہ جات کی فراہمی ،سرکاری ناکارہ زمین کا محکمہ مال سے پٹہ پر حصول ،فارم بنانے کے لیے محکمہ زراعت سے بلڈوزر کی رعائتی نرخوں پر فراہمی ،زرعی ترقیاتی بنک سے قرضے کی سہولت ،مچھلی فارم کے لیے نصب ٹیوب ویل کے لیے واپڈاکی طرف سے زرعی نرخوں پر بجلی کی فراہمی ،محکمہ ماہی پروری پنجاب کی جانب سے فش فارمنگ سے منسلک افراد کے لیے مفت تربیت فنی معلومات اور محکمہ ماہی پروری پنجاب کی طرف سے قابل افزائش مچھلیوں کی سستے نرخوں پر فراہمی کے لیے حکومت نے مراعات فراہم کی ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر نوجوان اس بہترین کاروبار سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں سرکار کو چاہیے کہ اس سارے طریقہ کار کو مزید آسان اور سہل بنائے ورنہ فائل ورک کی زلالت سے لوگ اس کاروبار پر توجہ نہیں دیں گے ۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress Themes