متاثرین بالاکوٹ کے مسیحا۔۔ جنرل صلاح الدین ترمذی اور جنرل پرویز مشرف   


کو شائع کی گئی۔ January 10, 2020    ·(TOTAL VIEWS 81)      No Comments

 تحریر۔۔۔ راشد علی راشد اعوان
میں8اکتوبر2005کا وہ غازی ہوں جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے قیامت خیزی دیکھی ہے،میں وہ چشم دید گواہ ہوں جس نے اس سانحہ میں فوج کا کردار دیکھا ہے،میں وہ لکھاری ہوں جس نے8اکتوبر2005سے پہلے جنرل مشرف کو ہدف تنقید کا نشانہ بنایا،میں نے جنرل مشرف کے حوالے سے سخت اور ترش الفاظ کا استعمال کیا،میں نے اپنے اداریوں اپنے کالمز،ریڈیوز اور ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں بھی کھل کر مخالفت کی۔۔۔۔مگر چند سالوں بعد ہی مجھ جیسے لاکھوں افراد 8اکتوبر2005کے زلزلہ کا شکار ہوئے،میں بھی اسی زلزلہ کا ایک زخمی تھا جو زندہ بچ گیا،ملبہ کے ڈھیر سے باہر نکلا اور میں نے اپنی آنکھوں سے حالات دیکھے کہ جگہ جگہ لاشیں ہی لاشیں تھیں،زخمی تڑپ رہے تھے ۔۔ایک صبر آزما دور شروع ہو چکا تھا،ہم بلندیوں سے گر چکے تھے،اہلیان بالاکوٹ کا ہر فرد بے سرو سامان ہو چکا تھا،اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا تھا،مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی کہ نفسا نفسی کے حالات پیدا ہو گئے تھے،زلزلہ سے متعلق میں نے اپنے علاقے کے جنرل صلاح الدین ترمذی صاحب کو اطلاع دی جب انہیں تو کیا کسی حکومتی مشنیری اور ذمہ دار کو بھی بالاکوٹ کے حالات اور پیش آنے والے سانحہ کی کوئی خبر نہ تھی،میں اپنے ایک پہلے کے کالم میں اس حوالے سے تفصیلی ذکر کر چکا ہوں کہ جناب جنرل صلاح الدین ترمذی صاحب کی اہلیہ اللہ کریم انہیں غریق رحمت فرمائے جنہوں نے پل پل مجھ سے بذریعہSmsرابطہ رکھا اور میں زلزلہ والے روز ان سے رابطہ میں رہا،ان ہی کی بدولت میری میڈیا خاص کر جیو کے اس وقت کے کامران خان صاحب سے ان کے پروگرام آج کامران خان کے ساتھ میں رابطہ ہوا،مجھے معلوم نہیں کہ میں نے بالاکوٹ کا مدعا کیسے بیان کیا اور اپنی اور اپنوں کی خبر کیسے ان تک پہنچائی تاہم اس ساری صورتحال کا تمام تر کریڈٹ جنرل صلاح الدین ترمذی صاحب کو جاتا ہے جو کہ زلزلہ زدہ بالاکوٹ کی خبر ایوان بالا خاص کر اپنے سروس کے ساتھ جناب جنرل پرویز مشرف صاحب تک پہنچانے اورانہیں باخبر رکھنے میں کامیاب ہوئے،زلزلہ کے بعد جب کہیں بھی کوئی امید کے آثار نہ تھے تو تب اس وقت کے سربراہ مملکت پاکستان جنرل پرویز مشرف صاحب آگے بڑھے،اپنی حکومتی ذمہ داریوں کو نبھایا،متاثرین کوحوصلہ دیا،اپنے عمل سے سانحہ عظیم سے نمٹنے کیلئے نہ صرف اقدامات اٹھائے بلکہ عملی طور پر خود مصروف عمل رہے۔زلزلہ کی اگلی صبح پاک فوج کے جوان بالاکوٹ پہنچے اور انہوں نے ہزاروں زخمیوں کو ملبے کے ڈھیر سے نکالا،کئی لاشیں نکال کر دفنائیں اور میں نے اپنی آنکھوں سے اس کے بعد جناب جنرل پرویز مشرف صاحب اور ان کی قیادت میں پاک فوج کے جوانوں کو جذبہ حب الوطنی سے سرشار دیکھا،میں نے دیکھا کہ کس طرح ہزاروں فٹ پہاڑوں کی بلندیوں پر ایک ایک متاثرہ شخص کے پاس وہ کیسے راشن اور اشیائے ضرورت کا سامان لیکر پہنچے،میں جنرل مشرف صاحب کو پوری دنیا میں اس عظیم سانحہ سے نمٹنے اور آزمائش کی اس گھڑی میں مصروف رہتے دیکھ چکا ہوں،مجھے وہ وقت بھی یاد آیا جب انہوں نے زلزلہ سے قبل اپنے دورہ انڈیا کے موقع پر سخت اور کھری کھری باتیں میڈیا کے سامنے کیں میں نے انہیں پرعزم دیکھا،میں جنرل پرویز مشرف کو کرخت بھی دیکھااور میں نے اس جنرل پرویز مشرف صاحب کی آنکھوں میں اس زلزلہ سے متاثر ہونے والے لوگوں کیلئے ان کی آنکھوں میں آنسو بھی دیکھے جب ان کا بھی ضبط ٹوٹ گیا تھا،دنیا کو باخبر کرنے اور متاثرین زلزلہ کی بحالی کیلئے جنرل پرویز مشرف صاحب جھولی لیکر پھرے اور جہاں تک ان کی پہنچ تھی انہوں نے امداد،فنڈز حاصل کیے،دن اور ہفتے بدلتے گئے اور کڑاکے کی سردی جب جوبن پر تھی تو اس وقت بھی حاکم وقت جنرل پرویز مشرف صاحب نے متاثرین زلزلہ کو بھلایا نہیں ان کے دورہ کشمیر کے دوران ایک تصویر اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنی جس میں ایک باپ نے اپنی زخمی بچی کو اپنی کمر پر اٹھا رکھا تھا اور وہ وہاں ان زخمیوں سے ایسے محو گفتگو دکھائی دے رہے تھے کہ یہ قیامت کے پہاڑٹوٹے ضرور ہیں مگر ابھی ہمت باقی ہے،ان ہی تصاویر کو سامنے رکھ کر جب عالمی ادارے یونیسف نے کہا تھا کہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں اب بھی ایک لاکھ بیس ہزار بچے پھنسے ہوئے ہیں ،جن کیلئے اقوام متحدہ میں بچوں کی بھلائی کے ادارے”یونیسیف” نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ آگر آئندہ دو ہفتوںتک زلزلے میں متاثرہ ان بچوں تک امداد نہ پہنچائی گئی تو ان میں سے دس ہزار سخت سردی، بھوک اور پھیلنے والی بیماریوں سے مر جائیں گے،حاکم وقت نے ان آزمائشوں میں اس قوم کو اکیلا نہیں چھوڑا،ان کیلئے جب دیگر محاذ بھی کھلے ہوئے تھے انہوں نے کسی کو بھی خاطر میں نہ لایا اور زلزلہ زدہ علاقوںکے لاکھوں افراد کیلئے مسیحائی کا کردار ادا کرنے والے جنرل پرویز مشرف صاحب کبھی متاثرہ علاقوں میں پہنچتے تو کبھی بیرونی دنیا میں آواز بلند کرتے ہوئے دکھائی دیتے،عالمی میڈیا نے اس وقت بیان کیا تھا کہ حقیقت یہی ہے کہ ہمالیہ ہمت ہار گیا تھامگر پرویز مشرف جیسے حاکم نے اپنی قوم کے حوصلے بلند کیے اور انہیں صبر کی تلقین کے ساتھ انہیں ہر طرح کی مدد و سہارا بخشا۔اس وقت ملک میں وردی والے اور بغیر وردی والے صدر کی گردان ہو رہی تھی،ملک عزیز کا کوئی باشندہ بھی یہ سوچ نہیں رکھتا تھا کہ کیا اتنا بڑا سانحہ رونما ہوگا اور اس سانحہ کے بعد کے حالات کا کیسے مقابلہ کیا جائے گا،زلزلہ کے دو روز بعد بین الاقوامی میڈیا کی بالاکوٹ اور کشمیر آمد کے بعد مغربی ممالک کے اخبارات کی شہ سرخیاں تھی کہ پاکستان تن تنہا اس آزمائش کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں،ایک اوربین الاقوامی جریدے نے ایک عالمی امدادی تنظیم کیتھولک ریلیف سروس کے حوالے سے لکھا تھا کہ اگر یہ پاکستان کا زلزلہ بحر ہند میں سونامی اور امریکہ میں قطرینہ سے پہلے آیا ہوتا تو وہ انیس سو اٹھانوے کے بعد وسطی امریکہ کو برباد کرکے رکھ دیتا،حاکم وقت کی کوششوں کے سبب عالمی میڈیا نے آنکھوں دیکھے حال کو عالمی سطح پر بیان کیا کہ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں جب وردی والے اور بغیر وردی والے کی گردان میں قوم کو تقسیم کیا جا چکا تھا تب ملکی قیادت نے کس طرح پوری قوم کو اکٹھا کیا،یہ وہی جنرل پرویز مشرف تھا جو ہمارا مسیحا بن کر میدان عمل میں آیا،لیکن بالاکوٹ کے لوگوں کیلئے یہی مسیحائی دیرپا قائم نہ رہ سکی اور جب جنرل پرویز مشرف صاحب اقتدار سے الگ ہوئے تو اس وقت اہلیان بالاکوٹ کی حق تلفی کی شروعات ہوئیں اور آج14برس بعد بھی بالاکوٹ کے دکھیاری وہی سختیاں جھیل رہے ہیں،انہیں ان کا وہ حق نہ مل سکا،زلزلہ2005کے بعد کے حالات کیا ہیں یہ پھر کسی اور آئندہ کے کالم میں ایک بار پھر تحریر کروں گا البتہ ایک آخری بات کہ کچھ نادیدہ قوتیں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف صاحب کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر رکھتی ہونگی مگر یہ حقیقت ہے کہ میرے لیے اور میرے بالاکوٹ کی اس مسیحائی کی منتظر قوم سے اگر پوچھ جائے جو14برس بارود کے ڈھیر پر گزار چکی ہے کہ ان کا مسیحا کون ہے تو،،تواس کا یہی جواب ہو گا کہ پہلا مسیحا ایک جنرل صلاح الدین ترمذی اور دوسرا مسیحا جنرل پرویز مشرف ہی ہے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Free WordPress Theme