مسئلہ کشمیر عالمی جنگ کا موجب بن سکتا ہے ؟    


کو شائع کی گئی۔ March 8, 2019    ·(TOTAL VIEWS 29)      No Comments

مقصودانجم کمبوہ
دہشت گردی کے ناسور نے اس ملک کے ستر ہزار سے زائد معصوم شہریوں ،فوجی جوانوں اور پولیس افسران واہلکاران کو موت کی نیند سلایا دیا ہے دہشت گردی نے خوف وہراس کا ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ عوام تو درکنار کوئی حکومتی ادارہ بھی اس ظالم چیز سے محفوظ نہیں رہا ۔ہر طرف لاشوں کے ڈھیر لگ گئے معاشرے کا ہر طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے پورا ملک ایمرجنسی کی کیفیت سے دوچار ہوا کروڑوں نہیں اربوں روپے ماہانہ سیکورٹی تحفظ پر خرچ ہونے لگے کبھی نجات اور کبھی ضرب کے آپریشنوں میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے الغرض پوری قوم حالت جنگ میں مبتلا ہوگئی ،دہشت گردی کوئی ایک آدھ گروہ کی طرف سے نہیں بلکہ ہمارے دشمن ممالک نے جی بھر کر ملک پاکستان کو لہو لہو کئے رکھا اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے کی جائیدادوں کو جلا کر راکھ کردیا افغانستان کو دشمنوں نے دہشت گردی کا گھر بنا دیا امریکی چالوں اور سازشوں نے نہ صرف افغانستان کو خطرناک بموں اور میزائلوں سے ملیا میٹ کیا بلکہ پاکستان کو بھی ایک لمبی چوڑی سازش کے تحت دہشت گردی کا نشانہ بنایا افغانستان میں بھارت کو کھلی آزادی دے دی کہ وہ پاکستان کو ہر طرح سے تباہ وبرباد کرتارہے جہادی تنظیموں کو خرید کر ان کے ذریعے ان کے اپنے مسلمان بھائیوں کا خون بہانے کی ذمہ داری سونپی گئی افغانستان کے کٹھ پتلی حاکموں نے بھی پاکستان کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا نہ صرف افغان بارڈر بلکہ بھارتی سرحدوں پر بھی پاکستان کو دباو میں رکھا جانے لگا نریندر مودی کے اقتدار میں آجانے کے بعد پاکستان آرمی کو الجھانے کیلئے ہر نوع کا حربہ استعمال کیا ایل اوسی پر بلا ناغہ فائرنگ کے ذریعے اشتعال پید اکیا جانے لگا آئے روز بارڈر پر ہونے والی فائرنگ سے شہریوں کی شہادتوں میں اضافہ ہونے لگا ۔
مقبوضہ کشمیر کے بارڈر سے آزاد کشمیر میں بسنے والے شہریوں کو خوف وہراس میں مبتلا کیا مقبوضہ کشمیر کی آزادی کو دبانے کیلئے بھارت نے اپنی آٹھ لاکھ فوج کو کھلی آزادی دے دی کہ وہ جو دل چاہے کرے آج تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں آٹھ ہزار کو قید یا پھر گمنام موت ماردیا گیا ہے سات ہزار سے زائد کشمیری خواتین کی عصمت دری کی گئی نوجوان لڑکیوں کی عزتوں کو داغدار کیا بھت سے کشمیری نوجوانوں کو بغاوت کے الزامات لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بعض کو شہید کردیا جاتا ہے ان دنوں نریندر مودی نے قومی انتخابات میں جیتنے کے چکر میں پاکستان کی سرحدوں پر خوف وہراس کی فضا کو جنم دے رکھا ہے گزشتہ دنوں بھارتی فضائیہ نے جعلی سرجیکل سٹرائیک کے بھونڈے ڈرامے سے دنیا کو بتایا کہ ہم نے بالا کوٹ میں چھپے تین سو دہشت گردوں کا صفایا کردیا ہے جبکہ عملی طور پر کچھ نہیں تھا نہ صرف بھارتی حکمران اپنی عوام کی تنقید کا نشانہ بنے بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی بدنامی کا تمغہ حاصل کیا بھارتی حکومت کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی مودی سرکار کی خوب درگت بنائی آخر دوسرے روز پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کا پول کھول کر رکھ دیا اور دو جنگی جہاز مارگرائے ایک پائلٹ جل کر راکھ ہوا دوسرے کی چھترول پاکستانی عوام نے کی فوجی جوان موقع پر نہ پہنچتے تو ابھی نندن بھی اپنے انجام کو پہنچ جاتا پاکستانی حکمرانوں کی شرافت دیکھئے دوسرے ہی روز گرفتار پائلٹ (ابھی نندن)کو بھارتی فوج کے حوالے کردیا اس اقدام کو پوری دنیا نے سراہا بلکہ بھارتی دانشور طبقے نے بھی پاکستان کی تعریف کی ،بین الاقوامی اداروں اور میڈیائی تنظیموں نے بھی تعریفوں کے پل باندھے ۔
اس پر پاکستانی وزیراعظم عمران خاں نے نریندر مودی کو مذاکرات کی دعوت دے دی جس کو انہوں نے مسترد کردیا امریکی صدر کے علاوہ دیگر بڑی طاقتوں نے بھی پاکستان کے صبر کو سراہا ہے نریندر مودی کے حالیہ رویئے اور جنگی فلسفے نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کردیا ہے اب یہ مسئلہ پوری دنیا کے دردمند اور سنجیدہ شہریوں کا اہم موضوع بن گیا ہے چین اور ترکی کے سربراہوں نے حمائت کا یقین دلایا ہے او آئی سی کے حالیہ اجلاس میں بھارتی رویئے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کشمیریوں کی کھل کر حمائت کی ہے یہ سچی حقیقت ہے کہ پاکستان آجکل کے حالات میں ایک اہم ملک بن چکا ہے 1965 ء میں اتنا مقبول نہیں ہوا تھا جتنا آج ہوا ہے اور ایک بڑی فوجی طاقت کے طور پر بھی ابھرا ہے دنیا کا ہرفرد پاکستان کے عسکری معاملات میں دلچسپی لینے لگا ہے ہندو،سکھ اور کریسچن برادری ن ے بھی پاکستان کی حمائت میں ریلیاں اور جلسے کیئے ہیں اور اپنی پاکستانی افواج کی حوصلہ افزائی کی ہے مودی سرکارکے جنگی اقدامات کو برابھلا کہا ہے اگر جرمن جس کو ہر لحاظ سے منفی تنقید کا نشانہ بنایاجاتا تھا آج وہ حقیقی طور پر پر امن ملک بن چکا ہے بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ وقت کے لحاظ سے سیاسی و عسکری پنگے چھوڑ کر امن کی طرف راغب ہو ہمارے خطے کو غربت و بھوک سے نجات دلانے کیلئے مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کی ترغیبات کا اہتمام کیا جانا چاہیے اس میں ہم سب کی بھلائی اور فلاح ہے تین جنگوں میں علاقے کی عوام کوجو نقصان اٹھانا پڑا ہے اب یہ ہمت نہیں رہی ہے خدارا مودی کو سمجھایئے کہ وہ انتخابات میں جیت کو شکست میں بدل چکا ہے اب تو بازآجائے خطے کے غریب عوام کی خاطر ہی امن کا دامن تھام لے ۔ 

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Free WordPress Theme