مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی میں سرد جنگ شدت اختیار کر گئی   


کو شائع کی گئی۔ December 24, 2017    ·(TOTAL VIEWS 132)      No Comments

اسلام آباد(یو این پی) حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی میں چیئرمین سینیٹ کے لئے سرد جنگ شدت اختیار کر گئی، نواز شریف سینیٹر مشاہد اللہ کو چیئرمین سینیٹ بنانے پر رضا مند، چیئرمین سینٹ رضا ربانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے بھی چیئرمین سینیٹ بننے سے انکار کر دیا، پیپلز پارٹی رحمان ملک اور اعتزاز احسن میں سے کسی ایک کو چیئرمین سینیٹ بنانے کے لئے لابنگ کر رہے ہیں، مارچ 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) سینیٹ میں 38 ممبران کے ساتھ اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئے گی۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی اپنی جماعت میں سے منظور نظر شخصیت کو چیئرمین سینیٹ بنانے کے لئے رابطے کر رہے ہیں، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سابق وزیر اعظم نواز شریف سے رابطے میں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن یا سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کو اس نشست پر براجمان کرایا جائے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق دونوں جماعتیں اس سلسلے میں رابطوں میں ہیں تاہم سابق وزیر اعظم نواز شریف سینیٹ میں وفاقی وزیر برائے موسمی تغیرات مشاہد اللہ خان یا نہال ہاشمی میں سے کسی ایک کو اس منصب پر لانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئندہ الیکشن میں حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کی سینیٹ میں نشستوں کی تعداد 38 ہو جائے گی، پیپلز پارٹی 14 جبکہ پی ٹی آئی 12 نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی سیاسی جماعت ہو گی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مارچ 2018ء میں سینیٹ میں ہونے والے الیکشن میں مسلم لیگ(ق)، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نمائندگی سے سینیٹ کے اندر محروم ہو جائیں گی۔ پیپلز پارٹی کے مارچ 2018ء میں سب سے زیادہ سینیٹر 19 ریٹائرڈ ہو جائیں گے، جن میں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن بھی شامل ہیں، اس وقت مسلم لیگ(ن) کے سینیٹ میں اراکین کی تعداد 26 ہے جبکہ 8 سینیٹرز آئندہ سال ریٹائرڈ ہو جائیں گے، ریٹائرڈ ہونے والوں میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سردار ذوالفقار کھوسہ، سعود مجید، نزہت صادق، کامران مائیکل، نثار محمد اور ظفراللہ ڈھانڈا شامل ہیں۔ مسلم لیگ(ق) کے سینیٹر مشاہد حسین سید، کامل علی آغا سمیت چاروں سینیٹرز اپنی مدت پوری کر کے سبکدوش ہو جائیں گے۔ جمعیت علماء اسلام کے 5 میں سے 3 سینیٹرز ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔عوامی نیشنل پارٹی کے 6 میں سے 5 سینیٹرز ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ مسلم لیگ فنگشنل کے واحد رکن مظفر شاہ بھی سبکدوش ہو جائیں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے 8 میں سے 4 سینیٹرز مارچ میں سبکدوش ہو جائیں گے تاہم ان کے چار نئے سینیٹرز بننے کا امکان ہے۔ پنجاب میں سے سینیٹ کی خالی ہونے والی 11 نشستیں مسلم لیگ(ن) کے حصے میں آئیں گی۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

Weboy