مقبوضہ کشمیر:ایک اورنوجوان شہید، شہلا رشید کیخلاف غداری کا مقدمہ درج   


کو شائع کی گئی۔ September 7, 2019    ·(TOTAL VIEWS 26)      No Comments

سرینگر: (یواین پی) مقبوضہ کشمیر میں کرفیو برقرار ہے، ہندوارا میں بدترین تشدد کے بعد ایک اور نوجوان کو شہید کر دیا گیا، مسلسل پانچویں نماز جمعہ کی ادائیگی نہ کر دی گئی۔ مظلوم شہریوں کی آواز اُٹھانے پر مودی سرکار نے شہلا رشید کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ قابض سرکار کی جانب سے وادی میں مزید دو بٹالین بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وادی میں ہر گزرتے دن کیساتھ انسانی المیہ جنم لینے لگا، بھارتی فوج نے کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کر رکھا ہے۔ ٹرانسپورٹ، کاروبار، دکانیں مکمل بند ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی قلت ہے۔ گیارہ ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق سمیت تقریبا تمام حریت رہنما گھروں اور جیلوں میں بند ہیں۔سرینگر کی مشہور جامعہ مسجدسمیت بڑی مساجد میں نماز جمعہ نہ ہو سکی۔ چند جگہوں پر جمعہ کی نماز کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئے اور ہند مخالف نعرے لگائے گئے، سرینگر، سو پور، ہاجن، اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں سمیت وادی کے جنوبی اور شمالی علاقوں میں زبردست احتجاج دیکھنے میں آیا، ہر طرف’’ہم کیا چاہتے آزادی‘‘اور ’’بھارتیو کشمیر چھوڑ دو‘‘ کے نعرے لگائے۔ بھارتی قابض فوج اور پولیس اہلکار پیلٹ گنز اور شیلنگ کے باوجود بے بس نظر آئے۔
دریں اثناء بھارتی پولیس نے ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر ڈالا، شہید ہونے والے نوجوان کا نام ریاض احمد ہے جنہیں بد ترین تشدد کے بعد شہید کیا گیا، یہ واقعہ ہندوارا ٹاؤن میں پیش آیا۔ شہید ریاض احمد کو بدھ والے دن گرفتار کیا گیا تھا اور مقامی تھانے قلم آباد میں رکھا گیا تھا جہاں ان پر بد ترین تشددکیا گیا جس کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔ 9 لاکھ فوج کے باوجود بھارتی سرکار خوف میں مبتلا ہے اب نیا ڈرامہ رچا رہی ہے جسکے مطابق کشمیریوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے نوکریوں کا جھانسہ دیا جائے گا۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

WordPress Themes