ملکی تاریخ کے گیارہویں مہنگے انتخابات    


کو شائع کی گئی۔ July 25, 2018    ·(TOTAL VIEWS 328)      No Comments

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر بی اے خرم
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج گیارہویں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں انتخابات میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت کل 122 سیاسی و مذہبی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں تین بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان بھی اس بار کراچی سے میدان میں ہیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کراچی سے الیکشن لڑرہے ہیں تینوں بڑی جماعتوں کے سربراہ ایک سے زائدحلقوں سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں 1970ء سے قبل عوام کو برائے راست ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہ تھا، 1970ء سے قبل ملک میں جنرل ایوب خان کا دورے حکومت ایک صدارتی نظام کے تحت قائم تھا جس میں عوام کو برائے راست ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہ تھا اس پاکستان میں جنرل الیکشن دسمبر 1970،دوسرا جنوری 1977ء تیسرا فروری 1985 ء چوتھا نومبر 1988ء پانچواں اکبوتر1990چھواں اکبوتر 1993ء ساتواں فروری 1997ء آٹھواں اکبوتر 2002 ء نواں جنوری 2008دسواں مئی 2013ء میں الیکشن ہوتھا اور اسطرح ملک تاریخی میں 11واں جنرل الیکشن 25جولائی 2018کا ہونے جارہا ہے الیکشن 2018ء کی پولنگ آج صبح آٹھ بجے شروع ہو گی اور بغیر کسی وقفے شام چھ بجے تک جاری رہے گی آج ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر قومی شناختی کارڈ کے علاوہ کوئی دیگر دستاویزات قابل قبول نہیں ہونگی اس لئے ووٹرز پولنگ سٹیشن جاتے وقت اپنا قومی شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں زائد المعیاد اصل قومی شناختی کارڈ پر بھی ووٹ ڈالا جا سکتا ہے الیکشن کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی پولنگ ڈے پر شکایات کے ازالے کے لئے الیکشن کمیشن میں ڈی جی ایڈمن کی سربراہی میں مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے پولنگ ڈے پر سیکیورٹی کے لیے چار لاکھ پولیس اہلکار ڈیوٹی انجام دینگے جبکہ ایک لاکھ حاضر سروس، ایک لاکھ نوے ہزار ریزرو فورس پر مشتمل کل 3 لاکھ 70 ہزار فوجی اہلکار تعینات ہوں گے یہ ملکی تاریخ کے مہنگے ترین الیکشن ہیں عام انتخابات کے انعقاد پر 21 ارب روپے سے زائد کے اخراجات آئیں گے 2018ء کے انتخابات ، 2013ء کی نسبت اخراجات میں پانچ گنا اضافہ ہوادستاویزات کے مطابق عام انتخابات میں اس بار مہنگا امپورٹڈ بیلٹ پیپر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ پولنگ سٹاف کا اعزازیہ بھی 3000 سے بڑھا کر 8000 روپے کر دیا گیا ہے۔یوں 2013ء میں ایک ووٹر پر آنے والا 58 روپے کا خرچہ 140 روپے اضافے کیساتھ اس بار 198 روپے ہو چکا ہے۔ 2013ء میں الیکشن کمیشن نے انتخابات پر 4 ارب 73 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے امیدوار کے لیے حلقے میں انتخابی اخراجا ت کی حد 40 لاکھ جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے 20 لاکھ روپے مقرر کی ہے امیدواروں کی اکثریت اس حد سے تجاوز کر چکی ہے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایک ہی روز پولنگ ہوگی قومی اسمبلی کی 272نشستوں پہ3675امیدوار،پنجاب میں قومی اسمبلی کی144اورپنجاب اسمبلی کی 297نشستوں پہ 4742 امیدوارسندھ میں61قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی 130نشستوں کیلئے2382امیدوار،کے پی کے کی قومی اسمبلی کی51اور صوبائی اسمبلی کی 99 نشستوں کے لئے 1264جبکہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کی16اور صوبائی اسمبلی کی51 نشستوں پہ1007امیدوار مختلف سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم اور آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 ہے جن میں سے چار کروڑ 58 لاکھ 4 ہزار 353 خواتین جبکہ پانچ کروڑ 84 لاکھ 63 زہار 228 مردوں کے ہیں کل رجسٹرڈ ووٹروں میں سے پنجاب میں پانچ کروڑ 97 لاکھ 40 ہزار 95، سندھ میں دو کروڑ 20 لاکھ 66 ہزار 558، خیبرپختونخوا میں ایک کروڑ 52 لاکھ 45 ہزار 571، بلوچستان میں 41 لاکھ 94 ہزار 311، فاٹا میں 22 لاکھ 96 ہزار 849، وفاقی دارالحکومت میں 7 لاکھ 30 ہزار 197 میں ہیں۔ پنجاب میں مرد ووٹروں کی تعداد 3 کروڑ 32 لاکھ 94 ہزار 12 جبکہ خواتین 2 کروڑ 64 لاکھ 46 ہزار 83، اسی طرح سندھ میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ 22 لاکھ 75 ہزار 322 جبکہ خواتین ووٹر 97 لاکھ 97 ہزار 236 ہیں۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں مرد ووٹر 86 لاکھ 90 ہزار 376 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 65 لاکھ 49 ہزار 195، بلوچستان میں مرد ووٹر 24 لاکھ 28 ہزار 370 خواتین ووٹرز 17 لاکھ 65 ہزار 941، فاٹا میں مرد ووٹر 13 لاکھ 86 ہزار 32 خواتین ووٹرز 9 لاکھ 10 ہزار 817، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رجسٹرڈ مرد ووٹروں کی تعداد 3 لاکھ 89 ہزار 116 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد تین لاکھ 41 ہزار 81 ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کے چھ اور قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں انتخابات ملتوی کیے گئے ملتوی ہونے والے 7 حلقوں میں امیدواروں کی وفات جبکہ ایک حلقہ میں امیدوار کی نااہلی کی وجہ سے ملتوی کیا گیا۔پی کے 78 پشاور، پی پی 87 میانوالی، پی پی 103 فیصل آباد، پی ایس 87 ملیر، پی کے 99 ڈی آئی خان، پی بی 35 مستونگ، این اے 103 فیصل آباد اور این اے 60 راولپنڈی میں بھی الیکشن ملتوی ہوا۔2018ء کے انتخابات میں پورے ملک سے ایک ہی امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوا کشمورسے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میر شبیر بجارانی سندھ کے حلقہ پی ایس 6 سے بلامقابلہ رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں شبیر بجارانی حال میں ہی انتقال کرنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما میر ہزار خان بجارانی کے بیٹے ہیں 
انتخابات 2018کیلئے ملک بھر میں 85ہزار 307پولنگ اسٹیشنز قائم کردیئے گئے جبکہ 20ہزار 789پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا گزشتہ انتخابات کی نسبت ملک میں مجموعی پولنگ اسٹیشنز کی تعداد میں 15ہزار کا اضافہ کیا گیا،جس کے بعد اب انتخابات 2018کیلئے 85ہزار 307پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔ملک بھر میں مردوں کیلئے 23ہزار 358اور خواتین کیلئے21ہزار 679پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جبکہ خواتین اور مردوں کے 40ہزار 236مشترکہ پولنگ اسٹیشنز بھی قائم کئے گئے۔پنجاب میں پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 47ہزار 813ہے ،جن میں سے 5ہزار 686کو حساس قرار دیا گیاسندھ میں 17ہزار 747پولنگ اسٹیشنز میں سے 5ہزار 776کو حساس ٹھہرایا گیا ہے۔خیبرپختونخوا میں 12ہزار 634پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے،جن میں سے 7ہزار 386پولنگ اسٹیشنز حساس ہیں۔
بلوچستان میں پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 4ہزار 420ہے،صوبے میں 1ہزار 768پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا۔دارالحکومت اسلام آباد میں پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 797ہے جن میں حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 173ہے۔ عوام کی سہولت کیلئے حالیہ انتخابات میں ہر ایک کلومیٹر بعد ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ملک بھر کے انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر 70 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے، سندھ کے 5 ہزار 878، پنجاب، اسلام آباد کے 5 ہزار 487، خیبرپختونخوا کے 3 ہزار 874 اور بلوچستان کے ایک ہزار 768 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔
انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی اور مذہبی جماعتوں سمیت آزاد امیدواران نے بھر پور الیکشن مہم چلائی عمران خان کی الیکشن مہم پورے سیاسی منظر نامہ پہ چھائی دکھائی دی پی پی پی کے بلاول بھٹو کا یہ پہلا الیکشن ہے چیئر مین پی پی نے جاندار الیکشن مہم چلا کر اپنی جماعت کے ناراض ووٹر کومنا اور جگاکر الیکشن کا ماحول بنا دیا ان کی الیکشن مہم کی مخالفین بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے گو کہ اس الیکشن میں بلاول بھٹو وہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں جو انہیں توقع تھی لیکن اگلے انتخابات میں بلاول بھٹو ایک طاقتور سیاسی لیڈر کے روپ میں ابھر کر سامنے آئیں گے مسلم لیگ ن الیکشن میں وہ ٹیمپو نہ بنا سکی جو پچھلے انتخابات میں بناتی رہی اس کی بڑی وجہ عدالتوں میں پیشی ،مقدمات اورگرفتاری ہے الیکشن مہم کے دوران کے پی کے اور بلوچستان میں بم اور خود کش دھماکوں میں امیدواران سمیت 200سے زائد افراد لقمہ اجل بنے دعا ہے رب کائنات آج پولنگ کے روز کسی بڑے سانحہ سے محفوظ رکھے آمین۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Theme