مُجھے شہر دیکھ کراندازہ ہوا۔۔۔ درندے اب نہیں رہتے جنگلوں میں    


کو شائع کی گئی۔ January 11, 2018    ·(TOTAL VIEWS 28)      No Comments

تحریر۔رشید احمد نعیم ،پتوکی
راقم الحروف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ جب بھی لکھتے ہیں حکومت کے خلاف لکھتے ہیں آپ کو صرف حکومت کے منفی پہلو نظر آتے ہیں ۔حکومت کے مثبت پہلو دکھائی نہیں دیتے یا آپ دیکھنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ حکومت کے عظیم الشان کارناموں پر آپ کی کبھی نظر نہیں پڑی۔آپ نے تعصب کی عینک لگا رکھی ہے جس کی وجہ سے آپ کو وہی دکھائی دیتا ہے جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔حکومت کی طرف سے ترقی و خوشحالی کا بچھا جال نہ جانے کیوں آپ کی آنکھوں سے’’ اُ وجھل‘‘ ہوجاتاہے؟؟؟ ۔مثالی و قابلِ ذکر امن وامان کی فضاء میں سانس لیتی اور حکومت وقت کو خراج تحسین پیش کرتی عوام کیوں دکھائی نہیں دیتی؟؟؟ صنعت و تجارت کے چلتے ہوائے پہیے سے آنکھیں کیوں چراتے ہو؟؟؟بے روزگاری کے خاتمے پر ہر طرف جھولیاں بھر بھر کر دعائیں دینے والے والدین پر آپ کی نظر کیوں نہیں پڑتی؟؟؟ہرطرف امن ہے ، سکون ہے ، ضروریاتِ زندگی کی فروانی ہے،تعلیم و صحت کا معیار بلندیوں کو چھُو رہاہے، کھیل کے میدانوں میں بہار ہے مگر آپ صرف کیڑے نکالنے میں مصروف رہتے ہو۔ آپ اور آپ جیسے دوسرے صحافی صرف مایوسی پھیلاتے ہو مگر میں نے جب اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی تو مجھے عوام کے بجھے ہوئے چہرے نظر آئے۔غربت و افلاس راج کرتی دکھائی دی۔بیروزگاری اپنے خون خار پنجوں سے نوجوان نسل کو جکڑے ہوئے نظر آئی۔کسان اپنی بے بسی پر چیخ و پکار کرتے دکھائی دئیے۔ تعلیم و تدریس جیسے مقدس پیشے سے وابستہ اساتذہ کو سراپاء احتجاج پایا۔تاجر حضرات اپنے معاشی قتل عام پر مایوسی سے دوچار دکھائی دئیے۔ مہنگائی کا جن بوتل میں قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ سیاسی بنیادوں اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بھرتی کی جانے والی پنجاب پولیس شریف عوام کے لیے دہشت کی علامت بن چکی ہے۔حکومت وقت کو ہر خامی کی نشاندہی پر سازش کی بُو آنے لگتی ہے اور وزیراعظم سمیت پوری کابینہ صرف شریف خاندان کا دفاع کرتی نظر آتی ہے ۔ حکومت نام کی شے الہ دین کا چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی کہیں دکھائی نہیں دیتی ہے اگر دکھائی دیتی ہوتی تو آج معصوم زینب منوں مٹی تلے نہ ہوتی ۔ وہ زینب جس کے ابھی کھیلنے کودنے کے دن تھے۔وہ زینب جو اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی۔ وہ زینب جس نے اپنے والدین کو چمکتی آنکھوں کے ساتھ عمرہ کے لیے الوداع کیا اور ایک ایک پل ایک ایک گھڑی گن کر ان کی واپسی کا انتظار کر ہی تھی کی اس کی ماما واپس آ کر اسے گلے لگائے گی ۔ اس سے ڈھیروں پیار کرے گی ۔ اس کی پیشانی چومے گی ۔ اسے مقدس مقامات کی مقدس کھجوریں کھلائے گی۔ اپنے ہاتھ سے آب زم زم پلائے گی ۔پاکیزہ مقامات کی تصاویر دکھائے گی۔ اپنی گود میں بٹھا کر عمرہ کے دوران مانگی گئی دعائیں ایک بار پھر دوہرائے گی جبکہ پاپا جانی سینے سے لگائیں گے اور وہاں سے لائے ہوئے تحائف دیں گے۔میرے لیے خریدے ہوئے کھلونے دے کر فرمائش کریں گے کہ’’ میری گڑیا رانی! ایک بار کھیل کر دکھاؤ کہ میری گڑیا کھلونوں سے کھیلتی ہوئی کیسی لگتی ہے؟‘‘ مگر ۔۔۔ مگر ۔۔ ایک ظالم درندے نے ان لمحات کو کوسوں دور کر دیا ۔ یہ گھڑی آنے ہی نہ دی۔ یہ وقت آنے سے پہلے ہی معصوم کلی کو نوچ ڈالا ۔ اس کی معصومانہ خواہشات کا قتل عام کر دیااور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سلا دیا۔اس کی معصوم سی صورت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ آنکھیں پرنم ہیں کیونکہ میں بھی ایک انسان ہوں ۔ ایک بچے کا باپ ہوں۔ خدا کی قسم ! شائد میری آنکھیں پرنم نہ ہوتیں ا گر ایک انسان نہ ہوتا ۔ ہاں میری آنکھیں آنسوؤں سے کبھی تر نہ ہوتیں اگر میں بچے کا باپ نہ ہوتا۔ زینب کے روپ میں مجھے اپنا لختِ جگر نظر آتاہے اور وہ وقت یاد آتا ہے جب وہ باہر نکلنے لگے یا سکول جانے لگے تو کتنا سمجھا کر بھیجا جاتا ہے کہ ایسے نہیں کرنا ، ویسے نہیں کرنا اور جب تک واپسی نہیں ہوتی آنکھیں دروازاے پر اٹکی رہتی ہیں۔ عمرہ پہ جانے سے پہلے زینب کے والدین نے کیا کیا سمجھایا ہو گا ؟ کیا کیا نصیحت کی ہو گی؟ مگر واپسی پر وہ بیٹی جو ایک آوازپر جی پاپا جانی یا جی ماما جی کہتی تھی ہزار آواز دینے پر بھی خاموش رہی۔ اس وقت والدین پر کیا بیتی ہو گی یہ صرف صاحب اولاد ہی سمجھ سکتے ہیں۔اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی پتھر کی مورتیاں اس کیفیت کا ندازہ نہیں لگا سکتی ہیں۔بے حس اور کرسی کے پجاری وزراء کیا جانیں کہ والدین سے بیٹی کے چھن جانے کا دکھ کیا ہوتا ہے ؟انہیں تو ’’سب اچھا نظر ‘‘ آتا ہے کیونکہ انہیں سب اچھا سننے کی عادت پڑگئی ہے مگر ہم سب اچھا کیسے لیکھیں؟؟؟ظلم و بربریت کا طوفان دیکھ کر آنکھوں پر ’’سب اچھا ‘‘ کی پٹی کس طرح باندہ لیں ؟؟؟ حصول انصاف کے لیے نکلنے والے جب پولیس کی گولیوں سے چھلنی ہو رہے ہوں تو ہم حکومت وقت کی معصومانہ خواہش کہ سب’’ اچھا لکھو‘‘ پر لبیک کیسے کہہ سکتے ہیں؟؟؟رہی بات پولیس کی تو ان کی کارکردگی تو ہمیشہ سے مایوس کن رہی ہے ۔ وہ تو صرف نوٹ چھاپنے والی مشینوں کا روپ دھاری چکی ہے مگر افسوس تو ان نام نہاد خود ساختہ صحافیوں پر ہے جو دن رات ان پولیس افسراں کی قصیدو گوئی میں مصروف رہتے ہیں۔ سلفیوں کے شوقین، صبح دوپہر ،شام تھانوں اور چوکیوں کی سجدہ ریزی کرنے والے صحافی پولیس کی نااہلی منظر عام پر لانے کی بجائے انہیں ہار ڈالتے اور ضیافتیں کھلاتے نظر آتے ہیں۔شائد یہ وہ مردہ ضمیر صحافی ہیں جن کی کوئی اولاد نہیں ہے یا سلفیوں کے شوق نے انہیں بے ضمیر بنایا دیا ہے اور وہ اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ انہیں سلفیوں کے علاوہ کچھ اچھا ہی نہیں لگتا ۔یاد رہے زینب کا قتل صرف زینب کا قتل نہیں انسانیت کا قتل ہے ۔ معصومیت کا قتل ہے جس کے لیے مذمت کے الفاظ کافی نہیں ہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی بنانا ہو گی اور پولیس کی صرف وردی تبدیل نہیں کرنا ہو گی بلکہ اس کا قبلہ درست کرنا ہو گا تاکہ آئندہ ایسے واقعات جنم نہ لے سکیں

Readers Comments (0)




WordPress Blog

WordPress主题