مکلی قبرستان اور بھنبور کے تعمیراتی کام میں غیر معیاری اور ناقص مٹیریل کا استعمال   


کو شائع کی گئی۔ January 19, 2019    ·(TOTAL VIEWS 319)      No Comments

ٹھٹھہ:(رپورٹ حمید چنڈ) ٹھٹھہ کے محکمہ آرکیالاجی میں مہاکرپشن کے انکشافات، سندھ کے دو بڑے تاریخی مقامات مکلی قبرستان اور بھنبور کے تعمیراتی کام میں ٹھیکیدار کو 900 سیکرو اضافی رقم جاری، دنوں منصوبوں میں غیر معیاری اور ناقص مٹیریل کا استعمال، تعمیراتی پورا کام پی سی ون کے مطابق نہیں ہونے کا انکشاٖف، تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے مہاکرپشن کا بانڈہ پھوڑ دیا گیا، سوا 2 کروڑ روپے کی جگہ ٹھیکیدار کو 20 کروڑ کی بھاری رقم جاری کردی گئی، تفصیلی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے عالمی ورثے میں شامل صوبہ سندھ کے دو بڑے تاریخی مقامات جن میں مکلی کا قدیمی قبرستان اور بھنبور پر آثار قدیمہ کی جانب سے تاریخی مقامات کو مخفوظ بنانے کے لیے 2 کروڑ 27 لاکھ 78 ہزار روپے کا ٹھیکا ولی محمد بھٹو نامی ٹھیکیدار کو دیا گیا مگر محکمہ آثار قدیمہ ٹھٹھہ کے افسران نے محکمے کے خزانے کے دروازے ٹھیکیدار کے لیے کھول دیے اور غیر قانونی طور ٹھیکیدار کو 20 کروڑ 76 لاکھ 50 ہزار روپے کی ادئیگی کی گئی، مکلی اور بھنبور میں ترقیاتی کاموں میں بڑے پئمانے پر دونمبری کی شکایتوں پر ادارے کی جانب سے اس پورے معاملے پر انکوائری کمیٹی بٹھائی گئی جنوں نے محکمہ آثار قدیمہ ٹھٹھہ کی تمام کرپشن کے اوپر سے پردہ اٹھادیا، مذکورہ منصوبے میں مکلی قبرستان کی دیوار، کنزرویشن اور رہائشی کواٹروں کی تعمیر کا ٹھیکہ ایک کروڑ 68 لاکھ 57 ہزار کا تھا، مگر ٹھیکیدار کو 14 کروڑ 97 لاکھ 58 ہزار روپے جاری کیے گئے، جبکہ تاریخی مقام بھنبور کی حفاظتی دیوار کا کام صرف 21 لاکھ 67 ہزار کا تھا، مگر مذکورہ ٹھیکیدار کو اس ضمن میں 5 کروڑ 78 لاکھ 91 ہزار جاری کیے گئے، انکوائری کمیٹی کی رہورٹ کے مطابق صرف مکلی کے کاموں میں ٹھیکیدار کو 13 کروڑ 29 لاکھ روپے اضافی رقم جاری کی گئی، دونوں منآوبوں کی پی سی ون کی معیار کے مطابق کام بھی نہیں کیا گیا، ٹھیکے کے کاغذات اور ٹیکنکی منظوری بھی نہیں لی گئی، رپورٹ میں سیواروں میں پتھروں کی گہرائی، لیونگ، ڈریانگ اور کھدائی بھی نہیں کی گئی، ایک بٹہ تین کے ریشے کا بھی کوئی سیمپل گیج کے مطابق نہیں ہے، منصوبے میں برماٹک لکڑی کا استعمال دکھاکر اسکے اسکوائر فٹ کے حساب سے جھوٹے بل بنائے گئے ہیں، جوکہ فزیبل پلان کا حصہ ہی نہیں تھے اور نہ ہی اسکی منظوری لی گئی، منصوبے میں بڑی رقم کی کھڑکیاں، دروازے اور انتہائی گھٹیا معیار کی سینیٹری کے سامان کا استعمال کیا گیا ہے، انکوائری رپورٹ کے مطابق منصوبے میں پلاسٹر اور فلورنگ میں ریشہ انتہائی کم استعمال کیا گیا ہے، منسوبے کی زمینی حقائیق اور کاغذی رپورٹیں کے مکمل برعکس ہیں، رپورٹ میں دروازے اور کھڑکیاں بھی غیرقانونی تاریخی پتھروں میں ڈرلنگ کرکے لگائیں گئیں ہیں، جسکے باعث مانومنٹ؎س کو تباہ کیا گیا ہے، جبکہ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ تعمیرات کا کیا گیا کام عالمی اصولوں اور معیار کے مطابق نہیں، اس پورے منصوبے میں عالمی قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے، منصوبے میں آبزرویشن کے مطابق نہ ہی لاگ بُک موجود ہے اور نہ ہی انسپیکشن کا کوئی رکارڈ موجود ہے، جبکہ تاریخی قبرستان مکلی 912 ایکڑوں پر مشتمل ہے، اور اس پر غیر قانونی طور پر قبضے کرکے مختلف گاؤں آباد کیے گئے ہیں اور سندھ حکومت کی جانب سے ان گاؤں میں بجلی، گئس اور پانی کی سہولیات بھی دیں گئیں ہیں، جبکہ یونیسکو کی ٹیم بار بار متلعقہ محکمے کے اختیاروں کو ہدایتیں جاری کی گئیں ہیں کہ مکلی قبرستان میں کیے جانے والے غیر قانونی قبضے ختم کراکے تاریخی قبرستان کو محفوظ بنانے کے لیے انڈونمینٹ فنڈ شفاف طریقے سے خرچ کرکے تاریخی مقامات کو تباہ ہونے سے بچایا جائے، دوسری صورت میں ایشیاء کا تاریخی مکلی قبرستان کو عالمی لسٹ سے نکال دیا جائےگا۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

WordPress Blog