میرا کشمیر ہے آج لہو لہو   


کو شائع کی گئی۔ September 3, 2019    ·(TOTAL VIEWS 70)      No Comments

تحریر:تحریم ڈوگر،لاہور
قدرت کا کرشمہ ہے میرا کشمیر
دوزخ میں ڈوبی ہوئی جنت دیکھو
کشمیر دنیا کے خوبصورت خطوں اور علاقوں میں سے ایک ہے.اللہ تعالی نے اسے ظاہری اور معنوی حسن سے مالا مال کیا ہے اسی لیے اسے خطہ اراضی کی جنت کہا جاتا ہے عرصہ دراز سے بھارت کے بری نگاہ اس پر لگی ہے بھارت ہر طرح کے ظلم اور سفاکیت کے باوجود ان کے وقار آفریں جذبات کو آج تک غبار آلود نہ کر سکا وہ ہماری چاہ میں اپنا سب کچھ قربان کیے جارہے ہیں.بندوقوں کے سامنے بھی سینہ تان کر ”کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے لگاتے ہیں.کشمیریوں کا اپنی سر زمین پر زندگی گزارنا مشکل سے مشکل ترین ہوچکا ہے. کاروباری زندگی اور دیگر امور زندگی میں بے شمار دشواریاں اور پریشانیاں ہیں. مردوں کے لئے قید و بند کی صعوبتیں اور عورتوں کی عصمت دریاں قائدین کے لئے نظربندیاں اور آزادی کے طلبگاروں کے لئے گولیاں ہیں جو ان کے سینوں میں پیوست کی جاتی ہیں. آئے دن شہداءکی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔کشمیر کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں قبرستان قبروں سے بھرا ہوا نہ ہو, شہر خاموشاں آباد اور آبادیاں ویران ہو رہی ہیں. ان اُٹھنے والے لاشوں پر اقوام متحدہ خاموش تماشائی ہے.ہندو آرمی جو رقصِ ابلیس کررہی ہے اس پر اقوام عالم کے آنکھیں بند ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں بےحس ہیں بلکہ عالم اسلام نے بھی اپنا حقیقی کردار پیش نہیں کیا
اے دنیا کے منصفو, سلامتی کے ضامنو
کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے لہو کا شور سنو
آئے روز ہم خبر پڑھتے ہیں کہ بھارت نے ایک دم میں 50 معصوم کشمیری نوجوان شہید کر ڈالے, بھارت نے10 کشمیری نوجوان شہید کر ڈالے۔ آزادی مانگنے کے جرم میں شہید ہونے والوں میں پی ایچ ڈی سکالر ایم بی بی ایس ڈاکٹر بھی شامل ۔ہیں بھارتی فوج کا بارودی مواد سکول میں دھماکہ 35 طلبا زخمی ۔بھارتی فوجیوں نے کشمیری بہنوں کی عصمت دری کی ۔مقبوضہ جموں کشمیر میں شہدا کے 700 قبرستان اہل کشمیر کی جرائت واستقامت, شجاعت و عظمت اور آزادی کے جذبے سے لگن کا مظہر ہیں. 80 لاکھ آبادی والے خطے میں آٹھ لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اس کا مطلب ہے کہ ہر 10 کشمیریوں پر ایک بندوق بدست فوجی مسلط ہے.اتنی کم آبادی والے خطے میں اتنی بڑی تعداد میں جدید ترین اور انتہائی خطرناک ہتھیاروں سے لیس فوجیوں کی تعیناتی کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی.کیا یہ بات خون کے آنسو نہیں رُلاتی, کیا یہ بات دن رات تڑپنے کے لیے مجبور نہیں کرتی کہ کتنے معصوم بچوں کو یتیم کیا جارہا ہے, کتنی سہاگنوں کے سہاگ اُجاڑے جا رہے ہیں, کتنی بہنوں کے بھائی ان سے جدا کیے جارہے ہیں, کتنی ما¶ں کے لخت جگر ان سے چھین لیے گئے ہیں, انہیں ان کی ماوں بہنوں بیٹیوں کے سامنے چھلنی کر دیا جاتا ہے کیا یہ منظر ہمارے لئے باعثِ تکلیف نہیں ہے؟ بھائیوں کے سامنے ان کی بہنوں کی, باپ کے سامنے اس کی بیٹی کیعصمت دری کی جاتی ہے. ان کی چادرچھینی جاتی ہے ان کو گریبان سے پکڑا جاتا ہے,کیا یہ بات ہمارے لیے اذیت ناک نہیں؟کیا وہ بیٹیاں ہماری کچھ نہیں لگتیں؟ کیا وہ نوجوان ہمارے کچھ نہیں لگتے؟ جن کے خون سے کشمیر کی زمین ایک مدت سے رنگی جا رہی ہے.آزادی کی چاہ میں جانے کتنی عورتوں نے اپنے سہاگ, جانے کتنی بہنوں نے اپنے بھائی اور جانے کتنی ما¶ں نے اپنے بیٹے سرزمین کشمیر پر قربان کر دیئے.اور ہم صرف ایک خبر دے دیتے ہیں کہ ”بھارتی جارحیت کا دگنی طاقت سے جواب دینے کی مکمل تیاری”
بھارت کے ظلم کا ہم منہ توڑ جواب دیں گے”
”ہمارا بچہ بچہ کشمیر کے لیے بھارت کو تباہ کرنے کے لیے تیار”کیا ان خبروں سے کیا ان تحاریر سے ہم ان کی اذیت کا ازالہ کرسکتے ہیں؟سچائیاں,لکھنے والوکبھی سامنا کیا ہے ان کا، مقبوضہ جموں کشمیر ایک ایسا خطہ ہے کہ جہاں ہر نئے سال کا سورج اور ہر نئے سال کا آغاز بھارتی فوج کے مظالم کے ساتھ ہوتا ہے.
خون کے آنسو روتی کشمیر کی وہ دل نشین وادیاں, اداسیوں کے حصار میں مقید تتلیاں, مغموم اور افسردہ بہاریں, وہ لہو رنگ بلبلیں اور قمریاں ہم سے شکوہ کناں ہیں کہ اور کتنی آستینوں کے بھیگنے کا انتظار کرو گے؟ اور کتنے ان آنچلوں کے تار تار ہونے کے منتظر ہو؟ اور کتنی بہاروں کے لٹنے کے انتظار میں ہو؟ اور کتنی گودیں اور سہاگ اُجڑنے کے بعد تم کشمیر کی آزادی کے لئے کھڑے ہوں گے؟
کشمیر کے سرسبز کوہسار زبان حال سے چیخ چیخ کر فریاد کر رہے ہیں کہ بھارت لاتوں کا بھوت ہے اور مذاکرات سے کبھی نہیں مانے گا.
9 ہزار سے زائد گمنام قبریں دریافت ہوچکی ہیں.دس ہزار سے زائد ما¶ں کے جگرگوشے لاپتہ ہیں. یہ وہ نوجوان تھے جن کو ان کے گھروں تعلیمی اداروں سے اٹھالیا گیا حد یہ ہے کہ تین سال کے معصوم بچوں اور اسی سال کے قابل احترام بزرگوں کو بھی معاف نہیں کیا جاتا.ہمیں اغیار سے خیر کی توقع نہیں رکھنا چاہیے.اس سلسلے میں خود آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیے. بھارت کی ریاستی دہشتگردی کو حکومتی سطح پر موثر انداز میں دنیا کے سامنےعیاں کرنا چاہیے.بنیادی انسانی حقوق کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہر کسی کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق ہے. نہ جانے اس اصولی موقف کو دنیا کے سامنے بیان کرنے سے حکومت کس لیے گریزاں ہے. بھارت نے اپنے ناجائز قبضے کو عالمی سطح پر لابنگ کرکے جائز رکھا ہے اور ہم اس ظلم و ستم پر مبنی بھارتی کردار کو بھی بیان نہیں کرتے, شائید اس ڈر سے کے بھارت ہم سے ناراض نہ ہو جائے. مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ ہونا پڑے گا. اس کے لیے جمہوریت, رحمدلی اور مفاہمت پر مبنی ایک ماحول تیار کرنا ہوگا علاقے یعنی رئیل اسٹیٹ کے بجائے عوام کے بارے میں سوچنا
ہوگا.
تیرے شہر کے کوچے میں لہو کے داغ ہیں
اے کشمیر ہم تجھے آزاد دیکھنے کو بے تاب ہیں.

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress Blog