نزلہ، زکام یا بخار کا ہونا کرونا وائرس کی علامت نہیں ہے؛طبی ماہرین   


کو شائع کی گئی۔ March 20, 2020    ·(TOTAL VIEWS 88)      No Comments

پشاور (یواین پی) نزلہ، زکام یا بخار کا ہونا کرونا وائرس کی علامت نہیں ہے، طبی ماہرین کا کہنا ہے اگر کسی شخص کو بخار اور زکام کیساتھ سانس لینے میں غیر معمولی دشواری کا سامنا ہے، تو یہ وائرس کی علامت ہے جس کے بعد طبی ماہرین سے رابطہ یا خود کو قرنطینہ کر لینا چاہیئے۔ تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث لوگ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔اس صورتحال میں ہسپتالوں میں صورتحال بگڑتی جا رہی ہے اور مریضوں کے رش میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ہر وہ شخص جسے نزلہ، زکام، بخار یا کھانسی کی شکایت ہے، تو اس شک میں مبتلا ہے کہ کہیں اسے کرونا وائرس تو نہیں ہوگیا، اور پھر فوری ہسپتال کا رخ کر رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں طبی ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بڑی تعداد میں ہسپتالوں کا رخ کرنا بہت خطرناک ہے۔اگر کوئی شخص تندرست بھی ہے، تو وہ ہسپتال کا رخ کر کے، جہاں پہلے سے کئی لوگ موجود ہوں گے اور ممکنہ طور پر کوئی وائرس سے متاثرہ شخص بھی وہاں موجود ہو، اس باعث ایک تندرست شخص بھی وائرس کا شکار ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لازمی نہیں کہ نزلہ، زکام، بخار یا کھانسی کی شکایت کرونا وائرس کی علامت ہی ہو۔ کرونا وائرس کی اصل علامت یہ ہے کہ جب کسی شخص کو نزلہ، زکام، بخار یا کھانسی کیساتھ سانس لینے میں غیر معمولی دشواری ہو رہی ہے۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Free WordPress Theme