وسائل اور مسائل   


کو شائع کی گئی۔ March 22, 2021    ·(TOTAL VIEWS 78)      No Comments

تحریر: مہرسلطان محمود

کسی بھی ملک کے نظم و نسق کو چلانے کیلئے مادی وسائل کے ساتھ افرادی قوت کے تناسب کومدنظر رکھنا انتہائی ضروی ہوتاہے مگر عمیق جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچاہوں ہمارے ہاں پلاننگ کافقدان ہے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر جدید مشینری کے استعمال سے فائدہ اُٹھانے کی سوچ نے افرادی قوت کو ناپید کردیا ہے مشینری کے فوائد اپنی جگہ مگر اس مشینری سے بہتر سے بہتر اندازمیں فائدہ اسی وقت حاصل کیاجاسکتاہے جب مناسب افرادی قوت بھی فراہم کی گئی ہو۔راقم نے اپنے صحافتی کیرئیر میں زیادہ تر اداروں میں افرادی قوت کی کمی ہی پائی ہے مثال کے طور پر محکمہ ہیلتھ میں سویپر سے لیکر ڈاکٹرز تک کی کمی اچھی خاصی رپورٹ ہوتی ہے۔ یہ اہم ترین ادارہ ہے افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے بقیہ ماندہ سٹاف کو عوام الناس سے صلواتیں سننی پڑتی ہیں اسی طرح پرائمری اینڈسکینڈری لاہور کو دیکھا جائے تو وہاں پر بھی افرادی قوت معہ بلڈنگ کا بھی شدید فقدان ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ اس کے بعد صفائی ستھرائی کے متعلقہ اداروں میں بھی عرصہ درازسے بھرتی پر لگائی جانی والی پابندی کی وجہ سے صفائی ستھرائی کے معاملات میں بدترین تنقید کاسامنا کرنا پڑتاہے موجودہ سرکار نے آتے ساتھ ہی بلدیاتی سسٹم کو لپیٹ دیا اور ڈسٹرکٹ کونسل کو تحصیل کونسلز میں تقسیم کردیا مگر افرادی قوت کی کمی اور سرے سے نہ ہونے پر مکمل آنکھیں بندکرلیں اس کا نقصان یہ ہوا کہ ڈسٹرکٹ کونسلز کے وقت موجود درجہ چہار م معہ سینٹری ورکرز پر مشتمل عملے کی اکثریت کو ضلعی ہیڈ کوارٹر والی تحصیل کونسلز معہ پہلے سے فعال کونسلزنے رکھ لیا اور باقی ماندہ عملہ ان نومولود تحصیلوں کو دیکر بغیر اسلحے کے فوجی کو محاز جنگ پر کھڑاکردیاہے جس کی وجہ سے اب دیہات میں تمام تر اخراجات کے باوجود گرین اینڈ کلین مہم متاثر کن نتائج نہیں دے رہی ہے،بند کمروں میں عجلت اندیشی کے تحت بنائی گئی پالیسی نے سب کچھ ملیا میٹ کردیاہے راقم کی اپنی تحصیل کونسل کوٹ رادھاکشن میں سویپر تک موجود نہیں دفتر کیلئے اسی طرح کا حال باقی ماندہ پنجاب کا ہے سینٹری ورکز نام کی تو کوئی چیزسرے سے موجود نہیں ہے افسران ضرور محنتی ہیں وسائل کی کمیابی کے باوجود اپنے تئیں بہترین خدمات سرانجام دے چکے ہیں لوکل باڈیز سسٹم کو تبدیل کرنے کا شوق ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کے مصداق ٹیڑھاہی ہے۔ موجودہ کروناء وائرس کی ہنگامی صورتحال میں چند ماہ پہلے لوکل گورنمنٹ نے ڈیلی ویجززپر بھرتی کیلئے عارضی اجازت نامہ جاری کیا اس میں بھی تحصیل کونسلز کو مکمل نظراندا زکردیاگیا تھا۔عارضی بھرتی میں میونسپل کارپوریشنز،میونسپل کمیٹیزاور ٹاؤن کمیٹیوں کے ذمہ داران بوگس ملازمین رکھ کر اپنی جیبیں بھرتے ہیں اس کے ساتھ کچھ بااثر حکومتی واپوزیشن کے لوگ ان سرکاری ملازمین کو اپنے ڈیروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں جس سے اداروں کی کارکردگی پر برااثرپڑتاہے۔شہری آبادی دیہات کی نسبت کم ہے شرح خواندگی دیہاتوں کی نسبت شہروں میں ذیادہ ہے ترقیاتی کاموں کا رجحان بھی بہتر ہے مشینری بھی دستیاب ہے مگر دیہات میں ان تمام سہولیات کا فقدان ہے یہ ایک سرسری سا جائزہ تھا اسی کے طرح کے مسائل کا دیگر اداروں کو سا منا ہے۔آئی ٹی میں انقلاب کو مدنظر رکھ کر افرادی قوت کومطلوبہ ٹریننگ کروانے کا باقاعدہ موثرپلان نہیں بنایاگیاہے جس کی وجہ سے متعدد قباحتیں پیداہوئیں ہیں سہولت کیساتھ مسائل میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملاہے۔ان تمام ترمسائل کے زمہ داران پالیسی سازہیں جن کی کا م چوری،کم عقلی یا پھر لاپرواہی نے ان بیش بہاء مسائل کو جنم دیا ہے ان میں بیوروکریسی سمیت تمام سیاستدان برابر کے قصور وار ہیں ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پالیسی بناتے وقت فیلڈکے افسران سے رائے لینی افسران بالا اپنی توہین سمجھتے ہیں بعض دفعہ ماتحت افسران بھی جان بوجھ کر سہی رپورٹس نہیں بھجواتے ہیں جس کا خمیازہ ناقص پالیسیوں کی صورت میں پوری قوم کو بھگتنا پڑتاہے مزید براں کرپشن کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔ایک گہرے جائزے وتجرباتی مشاہدے کے مطابق کچھ اداروں کاکوارٹر وائز بجٹ کچھ کیٹگریز میں بالکل نہ ہونے کے برابرہے اور کچھ میں گنگا جمنا بہتی ہے میرا ایک دفعہ ڈپٹی ڈائریکٹر لیبرقصور کے آفس میں جاناہواکچھ کاغذات درکار تھے تو پتہ چلا کہ پرنٹ نکالنے کیلئے کاغذ اور انٹرنیٹ چلانے کیلئے نیٹ کی سہولت میسر نہیں ہے دریافت کرنے پر ڈپٹی صاحب نے بتایا کہ جناب بجٹ نہیں ملاہے اس لیئے پی ٹی سی ایل کا بل ادا نہیں ہوا اور کاغذ بھی ختم ہوچکے ہیں ساتھ میں اپنی صفائی میں میرے سامنے بجٹ کی کاپی رکھ دی میں نے بغور جائزہ لیا اسی طرح کا ملتاجلتاحال دیگر اکثریتی اداروں کا ہے اداروں کا جنرل بجٹ بھی بہت پرانا ہے اس وقت اور آج کا موازنہ کیا جائے تو زمین وآسمان کا فرق نکلتاہے پولیس ڈیپارٹمنٹ سمیت کچھ اداروں میں بجٹ کا سہی استعمال کرنے کی بجائے کچھ مخصوص ہاتھ ہی اس پر ہاتھ پھیرلیتے ہیں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان کی تھوڑی بہت تعداد میں خدا خوفی ہے باقی اندھادھند 40فیصد تک کمیشن کے زریعے مال حرام اکٹھاکرتے ہیں پھر بقیہ سٹاف بھی خربوزے کو دیکھ کر خربوزے کی مانند رنگ پکڑتاہے آنے والے دنوں میں اس پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی۔اگر تبدیلی سرکار سنجیدگی کیساتھ تبدیلی لانا چاہتی ہے تب وسائل اور مسائل دونوں کو مدنظررکھ کر ازسرنو پالیسز بنائیں جن میں افرادی قوت کی مناسب فراہمی سمیت مشینری شامل ہو تاکہ سرکاری مشینری اچھے انداز میں کم سے کم کرپشن کرکے ملک کی ترقی وبہتری میں اپنی کارکردگی دکھا سکے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress Blog