وعدہ کیا گیا تھا کہ مارچ میں حکومت کی بساط لپیٹ دی جائے گی: مولانا فضل الرحمان   


کو شائع کی گئی۔ August 16, 2020    ·(TOTAL VIEWS 25)      No Comments

پشاور: (یواین پی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ہم سے جووعدے کیے گئے وہ وعدے یہ تھےکہ مارچ میں اس حکومت کی بساط لپیٹ دی جائے گی، مارچ گزر گیا اب ملین مارچ ہی واپس رہ گیا ہے۔جمیعت علماء اسلام کےسربراہ مولانا فضل الرحمن باچاخان مرکز پشاور پہنچے اور اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین سے ان کے بھائی میاں سریرحسین کے انتقال پرتعزیت اورفاتحہ خوانی کی۔ بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے اے پی سی یا حکومت مخالف تحریک پر اختلافات نہیں لیکن بعض امور پر اختلاف ہے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ایک طرف تو ہم اسے ناجائز حکومت کہتے ہیں اور نئے الیکشن کا مطالبہ بھی کرتے ہیں دوسری طرف بڑی اپوزیشن پارٹیاں حسب ضرورت حکومت کو ووٹ دیتی ہیں، یہ تضاد ہے اور اس روش کو ترک کرنا چاہیے، قول و فعل میں تضاد سے ہم عوام کا اعتماد نہیں جیت سکتے، ہمارے رابطے جاری ہیں، لیکن اس تذبذب سے نکلنا ہوگا اور یکسو ہونا ہوگا، تاکہ عوام اپوزیشن کی تحریک پر اعتماد کریں۔ایف اے ٹی ایف سے متعلق پارلیمنٹ میں حالیہ قانون سے متعلق فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ہم یوم آزادی منارہے ہیں دوسری طرف ایسی قانون سازی کررہے ہیں جو آزادی کی نفی ہے، آج اگر اقوام متحدہ کی کوئی قرارداد آئے جو پاکستان کے قانون کے خلاف ہو تو ہماری آزادی تو ختم ہوگئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اقوام متحدہ اگر ہم سے کہے کہ چند گھنٹوں میں اس مطالبے پر عمل کیا جائے تو ہم تاخیر نہیں کرسکیں گے، قرارداد میں رکاوٹ بننے والا شخص قابل سزا ٹہرے گا، کروڑوں کا جرمانہ ہوگا اور قید کی سزا ہوگی، اگر اقوام متحدہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کے خلاف قرارداد لائے تو پھر پاکستان کیا کرے گا،عالمی قوتیں ایف اے ٹی ایف کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے اس حکومت کو لائی ہیں، ہمارا بڑی جماعتوں سے شکوہ ہے کہ انہیں اس کی سہولت کاری کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔

Readers Comments (0)




Weboy

WordPress Blog