ٹریفک مسائل کے حل کے لیے ہرشخص اور ہر ادارے کو اپناکردار ادا کرنے کی ضرورت ہے محمد عباس بلوچ    


کو شائع کی گئی۔ March 19, 2019    ·(TOTAL VIEWS 137)      No Comments

حیدرآباد(رپورٹ*جنید علی گوندل)ڈویژنل کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ نے کہا ہے کہ حیدرآباد شہر کے ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے ہرشخص اور ہر ادارے کو ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اپناکردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کو ہدایت دی کہ وہ ٹریفک مینجمنٹ بورڈ حیدرآباد کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کرتے ہوئے حیدرآباد شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے لئے قلیل مدتی اور طویل مدتی پلان تشکیل د یں۔ ان خیالات کا اظہار آج انہوں نے شہباز ہال حیدرآباد میں ٹریفک کے مسائل کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد نعیم احمد شیخ ، ایڈیشنل کمشنر طاہر علی میمن ،ڈپٹی کمشنر حیدرآباد سید اعجاز علی شاہ، ایس ایس پی حیدرآباد سرفراز نوازشیخ، ڈسٹرکٹ حیدرآباد کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز ،مونسپل کمشنر حیدرآبادشاہد علی خان ، ایم ایس سول اسپتال حیدراباد ،سیکریٹری ٹرانسپورٹ اتھارٹی ،انجمن تاجران اتحاداور ایوان صنعت و تجارت حیدرآباد کے نمائندوں سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم احمد شیخ کا کہنا تھا کہ ٹریفک کی روانی بحال کرنے کیلئے ہمیں سخت فیصلے کرنے ہونگے جبکہ پولیس کی جانب سے اگر کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو میں اجلاس کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں ۔ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد سید اعجاز علی شاہ کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل تجاوزات کے خاتمے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ اس ضمن میں تمام اسسٹنٹ کمشنر ز اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے شہر میں پارکنگ پلازہ ، ملٹی پل اسٹوری پارکنگ اور یو ٹرن بنائے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سے این او سی لیے بغیر سڑکوں کو کھودے جانے کے عمل کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی ۔ سڑکیں بنانے کے عمل میں پیسوں کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ وقت بھی درکار ہوتا ہے جبکہ اس طرح سے سڑکیں کھودے جانے سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔ اس موقع پر ایس ایس پی حیدرآباد سرفراز نواز شیخ نے ٹریفک کے مسائل کی تین بڑی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اگر صرف ون وے کی خلاف ورزی ، پارکنگ کے مسائل اور تجاوزات جیسے مسائل حل کر لیے جائیں تو ٹریفک کی روانی بحال کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے شہر میں ٹریفک سگنل ، ٹائر بسٹرنصب کیے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کی تعداد ناکافی ہے جنہیں شہر کی ہر گلی کے موڑپر تعینات نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرانے کی پوری کوشش کی جار ہی ہے ۔ اجلاس میں موجود تمام شرکاء نے حیدرآباد کے ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے خاتمے کیلئے اپنی تجاویزدیں اور اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر ڈویزنل کمشنر حیدرآباد نے مزید کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ فیلڈ میں ہر طرح کے مسائل موجود ہوتے ہیں لیکن اگر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے کام کیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ مسائل حل نہ کیے جا سکیں ۔ 
تعلیمی بورڈ حیدرآباد میں دوسرے دن بھی ہڑتال ، امتحانات سے قبل سارے کام ٹھپ 
حیدرآ باد(رپورٹ*علی رضا رانا) تعلیمی بورڈ حیدرآباد میں دوسرے دن بھی ہڑتال ، امتحانات سے قبل سارے کام ٹھپ ، تعلیمی بورڈ حیدرآباد سمیت سندھ بھر کے تعلیمی بورڈز میں دوسرے دن بھی ہڑتال رہی اور ملازمین نے احتجاجی دھرنا دیا ، سندھ حکومت اور ڈاکٹر عاصم کے خلاف نعرے بازی کی اس موقع پر تعلیمی بورڈ ز آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے صدر اور ایجوکیشنل بورڈز ایکشن کمیٹی سندھ کے چیئرمین اعجاز کاکا اور دیگر مقررین نے احتجاجی ملازمین سے خطاب کرتے ہو ئے کہاکہ ہائیر ایجوکیشن سندھ نے ڈاکٹر ضیاء الدین بورڈ قائم کرنے کی منظوری دی ہے جس کے چیئر مین ڈاکٹر عاصم حسین کو بنایا ہے اب سندھ حکومت صوبہ کے7تعلیمی بورڈز کی خود مختاری اورقانونی حیثیت ختم کرکے انہیں سندھ ایجوکیشن بورڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے ماتحت کرنا چاہتی ہے جس کی تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں سندھ بھر کے بورڈ ملازمین اس فیصلے کو قطعی برداشت نہیں کریں گے اس سے سندھ کا تعلیمی نظام مزید تباہ و برباد ہو جائے گا اور کرپشن کے دروازے اور زیادہ کھل جائیں گے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین ابھی کرپشن مقدمات سے بری نہیں ہوئے ہیں لیکن وہ صوبہ کے تعلیمی و امتحانی نظام کو استعمال کرکے اپنے لیے مزید مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی خواہش پر سندھ کا تعلیمی و امتحانی نظام برباد نہ کیا جائے اور سندھ حکومت فوری طور پر اس فیصلہ کا انکار کرے بصورت دیگر ہم راست اقدامات کریں گے انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ کے تعلیمی بورڈز میں آج بھی احتجاج ہو گا اور 25مارچ سے شروع ہو نے والے امتحانات نہیں لیے جائیں گے بورڈز میں ہڑتال کی وجہ سے سلپس اور دیگر اسناد لینے والوں کو مایوس لوٹنا پڑا اور امتحانات سے قبل انہیں شدید ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Weboy