ٹھٹھہ،گھٹکے کا کاروبار عروج پہ، ماہانہ پچاس سے ساٹھ افراد کینسر میں مبتلا ہونے کا انکشاف   


کو شائع کی گئی۔ October 16, 2018    ·(TOTAL VIEWS 49)      No Comments

گھٹکا کے خلاف قانون سازی کریں گے زہر پھیلانے والوں کو اپنے کیفر کردار تک پہنچائیں گے ریاض شیرازی
ٹھٹھہ( حمید چنڈ/یواین پی) ٹھٹھہ ضلع میں گھٹکے کا کاروبار عروج پہ، ماہانہ پچاس سے ساٹھ افراد کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کا انکشاف،ضلعی انتظامیہ سمیت ٹھٹھہ پولیس خاموش تماشائی،جاوید ماوا،کیپٹن ماوا ،گولی مار،اور گھٹکے کے زیادہ استعمال کی وجہ سے کینسر جیسی بیماری پھیل رہی ہے گھٹکے کے زیادہ استعمال کے باعث کینسر جیسی موذی بیما ری میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ہے،اس سلسلے میں سول اسپتال ٹھٹھہ ایٹ مکلی میں سینئر ڈینٹسٹ ڈاکٹر شیام کا کہنا ہے کہ جاوید ماوا،کیپٹن ماوا،گولی مار ماوا اور گھٹکے کے زیادہ استعمال کے باعث کینسر کی بیماری ضلع بھر میں پھیل گئی ہے، ماوے اور گھٹکے کی وجہ سے کئی نوجوان اس مرض میں مبتلا ہوکر جان گنوا چکے ہیں ،دوسری جانب ٹھٹھہ پولیس کا کہنا ہے کے ٹھٹھہ میں ویسے تو درجنوں فیکٹریاں چل رہی ہیں مگر جاکھرہ گھٹکا،شاھنواز گھٹکا،خلیفہ گھٹکا،ادا گھٹکا،گھرانوگھٹکا پورے ضلع میں عام ہیں ،جبکہ مین پُری میں جے اینڈ ڈی،سفینا،جے ایم،رتنا سمیت کئی موتمار چھالیہ بھی کھلے عام فرخت ہورہی ہیں ،ہم گھٹکا فیکٹری مالکان اور گھٹکا فروخت کرنے والوں کو پکرتے ہیں مگروہ عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ محمد نواز سوہو نے ماوا اور گھٹکے کے خلاف ایک لیٹر اعلیٰ احکام کو بھیجا تھا جس کے بعد ہوم سیکریٹری کی جانب سے نوے دنوں کے لیے ٹھٹھہ ضلع میں گھٹکے کی فیکٹریوں ،گھٹکے کے ہول سیلرز،گھٹکے فرخت کرنے والے بیوپاریوں اور گھٹکا کھانے والوں کے اوپر قلم 144 لاگو کردیا ہے ،مگر اس سلسلے میں کوئی بھی کاروائی عمل میں نہ آسکی ہے اور تاحال ماوے اور گھٹکے کی فیکٹریاں موتمار گھٹکا بنانے میں مصروف عمل ہیں سید ریاض حسین شیرازی ایم پی اے نے بتایا کہ میری وزیر اعلی سندھ سے بات ہوئی ہے انشاء اللہ ہم بہت جلد گھٹکا کے خلاف قانون سازی کریں گے ٹھٹھہ میں زہر پھیلانے والوں کو اپنے کیفر کردار تک پہنچائیں گے

Readers Comments (0)




WordPress主题

WordPress Blog