ٹھٹھہ سندھ کا قدیم اور پرامن ضلع،ماضی میں علم و ادب کا مرکز بھی رہا ہے؛ اسسٹنٹ کمشنر   


کو شائع کی گئی۔ February 22, 2020    ·(TOTAL VIEWS 67)      No Comments

 

ٹھٹھہ: (بیروچیف حمید چنڈ): اسسٹنٹ کمشنر عبیداللہ پہوڑ نے کہا ہے کہ ٹھٹھہ سندھ کا قدیم اور پرامن ضلع ہونے کے ساتھ ماضی میں علم و ادب کا مرکز بھی رہا ہے، ٹھٹھہ کی ہزاروں سال پرانی تاریخ اور ماضی میں سندھ کی تختگاہ رہنے کے ساتھ اسلام کی ابتدا بھی یہاں سے ہوئی اس لئے ٹھٹھہ کو باب الاسلام کا لقب بھی حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ محمد عثمان تنویر کی جانب سے آج جیمخانہ مکلی میں سول سروسز اکیڈمی لاہور کے ڈائریکٹر ایڈمن پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس محمد عاصم کی قیادت میں 42ویں خصوصی تربیتی پروگرام کے تحت آئے ہوئے افسران کے وفد کو ضلع ٹھٹھہ کی تاریخ، ثقافت، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم و دیگر انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے وفد کو بتایا کہ ماضی میں کیٹی بندر، شاہ بندر اور دیبل بندر ٹھٹھہ کی بڑی بندر گاہیں تھیں جوکہ کاروباری لحاظ سے اہمیت کے حامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹھٹھہ عظیم بزرگ ہستیوں کا شہر ہے جہاں مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی، عبداللہ شاہ اصحابی کے علاوہ جام نظام الدین سموں عرف جام نندو اور دولہ دریا خان، مائی مکلی و دیگر کئی مشہور و معروف شخصیات کے تاریخی مقبرے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تاریخی مغل دور کی شاہجہان مسجد، دبگیر مسجد، سونڈا قبرستان، بھمبھور، کینجھر و ہالیجی جھیل اور تاریخی مکلی قبرسان تاریخ کے انمول اور حیرت انگیز و دلچسپ مقامات موجود ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے آئے ہوئے مہمانوں کو ضلع میں ترقیاتی منصوبوں کے متعلق آگہی دیتے ہوئے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ضلع کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ عوام کو مطلوبہ بنیادی سہولیات فراہم ہو سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع میں تعلیم کے فروغ کیلئے بھی مؤثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹھٹھہ ضلع قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کو بارشوں کے دوران سیلاب اور سائکلون جیسی قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر ایس ایس پی شبیر احمد سیٹھار نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹھٹھہ پرامن ضلع ہے یہاں دہشتگردی، ٹارگیٹ کلنگ اور مذہبی فسادات کا کوئی بھی عنصر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضلع کا اہم مسئلا گٹکہ، مین پڑی اور کچا شراب استعمال کرنا ہے جس کے باعث یہاں کے نوجوان کینسر اور دیگر کئی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے اس ضمن میں مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے گٹکہ، مین پڑی اور کچا شراب کی روکتھام کیلئے کافی حد تک کامیابی حاصل کی گئی ہے جبکہ ان انسان دشمن مافیاز کے خلاف پولیس کی جانب سے تیزی سے آپریشن جاری ہے اور کوشش ہے کہ جلد اس ضلع کو منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے پاک کیا جائے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حنیف میمن نے وفد کو محمکہ صحت کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سول اسپتال مکلی سمیت ضلع کے دیگر مختلف تحصیل و دیہی صحت مراکز میں ضلعی انتظامیہ، مرف، پی پی ایچ آئی و دیگر مختلف این جی اوز کے تعاون سے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ صحت کے شعبہ میں مزید بہتری کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر وفد کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر عبیداللہ پہوڑ اور ایس ایس پی شبیر احمد سیٹھار سے مختلف امور پر سوالات کئے گئے جس پر انہوں نے تسلی بخش جوابات بھی دیئے۔ وفد کی جانب سے بریفنگ اور تعاون پر اسسٹنٹ کمشنر اور ایس ایس پی کا شکریہ ادا کیا اور اکیڈمی کی جانب سے انہیں شیلڈز بھی پیش کی گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وفد کو سندھ کی ثقافت اجرک کے تحائف پیش کئے گئے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر شنکر لال راٹھوڑ بھی موجود تھے۔ قبل ازیں وفد نے مکلی قبرستان، شاہجہان مسجد، کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، بھمبھور و دیگر تاریخی مقامات کا تفصیلی دورا کیا۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

WordPress主题