پانی بحران سنگین   


کو شائع کی گئی۔ June 11, 2018    ·(TOTAL VIEWS 67)      No Comments

تحریر۔۔۔امبرین بلوچ
غلط منصو بہ بندی اور ڈنگ ٹپا ؤ روئیے کی و جہ سے وطن عزیز آئے دن کسی نہ کسی بحران کا شکار رہتا ہے،بجلی بحران ابھی ختم نہیں ہو ا کہ پانی کی قلت نے نیا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے جس کی وجہ سے قریہ قر یہ اور نگر نگر میں پا نی پانی کی پکار ہو رہی ہے یہ مسئلہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سنگین صو رت اختیار کر تا جا رہا ہے اگربروقت منصو بہ بندی نہ کی گئی تو صورتحال کنٹرول سے با ہر ہو جا ئیگی ،گزشتہ کئی سالوں سے بارشیں نہ ہو نے کی وجہ سے پانی بحران کھڑا ہو ا ہے بحران کی اصل وجہ بارشیں نہیں بلکہ حکمرانوں کی ناقص پا لیساں ہیں ہر دو ر میں پانی کی ذخیرہ اندوزی، ڈیمز کی تعمیر جسے اہم منصو بوں کو نظر انداز کیا گیا اور کیا جا رہا ہے متعلقہ اداروں نے بھی اپنی عدم تو جہی اور بے بسی کا سارا ملبہ خشک سالی کے کھا تے میں ڈال دیا ہے آج ہو ش آیا ہے کہ اگر ڈیمز زیا دہ ہو تے تو با رشی پانی ضا ئع نہ ہو تا اگر 70سال پہلے ہما رے حکمران منصو بہ بندی کر لیتے تو آج نہ تو انائی بحران ہو تا نہ ہی پا نی پا نی کی پکار ہوتی ابھی کچھ نہیں بگڑا فو ری طو ر پر ہر ضلع لیول پر کم بجٹ کے سمال ڈیمز بنانے کا کا م شرو ع کر دیا جا ئے تو بارشی اور چھوٹے ند ی نا لوں کے ضا لع ہو نے والے پا نی کو ذخیرہ کر کے ضرو رت کے وقت زرعی زمینوں سمیت دیگر مقاصد کیلئے بروقت استعمال میں لا یا جا سکتا ہے اگر ہم نے یہ بھی موقع ضائع کر دیا توافسوس کے سوا کچھ ہا تھ نہیں آئے گا،قارئین پانی بحران جہاں مختلف ادوار کے حکمران ذمہ دار ہیں وہاں ہم عوام بھی برابر کے قصور وار ہیں کیو نکہ ہم نے کبھی بھی ملک کے مفا د اس طاقت ور بنا نے کیلئے نہیں سو چا صر ف وقتی فا ہد ے کیلئے ہتھیار ڈالتے رہیں ،70سالوں سے ہمارے پا س الف،م،ق، ل، ج اور دیگر سیاسی جما عتوں کے پنڈتوں کی جی حضوری کیلئے دن رات نعرے ما رتے رہیں اور مار رہے ہیں اگر اسی جذ بے سے وطن عزیز کی ترقی، خوشحالی، اور مسائل کے حل کیلئے ما رتے تو آج پا کستان کا شمار دنیا کے تر قی یا فتہ ممالک کی صف میں ہو تا نہ پا نی بحران ہو تا ،نہ بجلی اور گیس بحران ہو تا،نہ گندم سر کاری گوداموں میں تباہ ہوتی نہ آٹا مہنگا ہو تا نہ غریب کا بچہ بھوکا سوتا نہ کسی حکمران میں قومی دو لت لوٹ کر با ہر لے جا نے کی جرات ہوتی،نہ بے گناہ جیلوں میں اورقصوروار آزاد منڈ لا رہے ہو تے،آج شہر، جس گا ؤں کا جا ئزہ لیں و ہاں مو سم کی تیو ر بد لتے ہی پانی پا نی کی پکا ر شروع ہو جا تی ہے ،جبکہ ہمارا پڑوسی ملک ڈیمز پر ڈیمز بنا کر ہمیں بنجر کر نے کیلئے دن رات ایک کئے ہو ئے ہیں اور ہم ہیں کہ صر ف نعر ے مار کر،احتجاجی بینز لگا کر،فیس بک، ٹیو ٹر، انسٹا گرام پر صر ف چند احتجاجی کلمات لکھ کر پا کستانی ہو نے کا حق ادا کر کے بری ہو جا تے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ کو ئی چیزبھی قر با نی کے بغیر حاصل نہیں ہو تی اگر آج آزاد وطن میں سکون سے سانس لے رہے ہیں تو اس کی پیچھے بھی قر با نیوں کی داستان بھری پڑی ہے اب پانی بحران کیلئے بھی بحثیت قوم ہمیں جہاد کر کے آنے والی نسلوں کو محفوظ بنا نا ہو گا اگر آج ہم نے اس اہم ایشو کو سیاسی نعر ہ ما ر کر نظر انداز کر دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کر ینگی۔ضرور ت اس امر کی ہے کہ پا نی بحران کے خاتمے کیلئے ہر ضلع میں کم بجٹ کے چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنا نے کیلئے آواز بلند کر نا ہو گی اور حکمرانوں کو ان منصو بوں پر عمل کرانے کیلئے جہاد کر نا ہو گا۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress主题