پاکستان اور بنگلا دیش میں سفارتی تعلقات بحال ہونے پر بھارت پریشان   


کو شائع کی گئی۔ July 28, 2020    ·(TOTAL VIEWS 32)      No Comments


نئی دہلی (یواین پی)پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہونے، وزیراعظم عمران خان کی طرف سے شیخ حسینہ واجد کیساتھ ٹیلیفونک رابطے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو اٹھانے پر بھارتی پریشانی بڑھنے لگی، مودی سرکار کو آنکھیں کھولنے کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔تفصیلات کے مطابق چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے بنگلا دیشی ہم منصب شیخ حسینہ واجد کو ٹیلیفون کیا، جس میں سیلاب، مقبوضہ کشمیر، کورونا وائرس سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔گزشتہ روز ایک بنگلا دیشی معروف اخبار کا کہنا تھا کہ شیخ حسینہ واجد نے بھارتی ہائی کمشنر کی متعدد درخواستوں کے باوجود گزشتہ 4 ماہ سے ان سے ملاقات نہیں کی جو نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے اور قریبی تعلقات پاکستان اور چین کی جانب منتقل ہونے کا اشارہ دیتے ہیں۔بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق پاکستان اور بنگلا دیش کی وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو اٹھانا بھارت کیلئے خطرناک صورتحال ہے۔بھارتی تجزیہ کار اور کلکتہ سے تعلق رکھنے مقامی اخبار کے ایڈیٹر سوبر بھومک نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے وزرائے اعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات اور سفارتی تعلقات کا بحال ہونا بھارت کیلئے مسائل پیدا کر سکتا ہے اور یہ پریشان کن ہے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بحالی کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ بنگلا دیشی وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان کی حامی آوازیں بلند ہو رہی ہیں جبکہ پاکستانی حمایت یافتہ ارب پتی بزنس مین سلمان فضل الرحمن کو مشیر برائے پرائیویٹ سیکٹر انڈسٹری اور انویسٹمنٹ مقرر کیا گیا ہے۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Premium WordPress Themes