پاکستان میں ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی صنعت پولٹری کی ہے ڈاکٹر دانش محمود   


کو شائع کی گئی۔ April 21, 2018    ·(TOTAL VIEWS 583)      No Comments

انٹرویو: راشد علی راشد اعوان۔
بالاکوٹ کے متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے ڈی وی ایم پی ایچ ڈی ،سپلائزیشن پولٹری ویکسین پروڈکشن ڈاکٹر دانش محمود کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں،پاکستان میں پولٹری صنعت کو فروغ دینے میں بالاکوٹ کے اس سپوت کا بڑا اہم کردار ہے،،جنہوں نے اپنے اسی کیرئیر کا آغاز 2004میں کیا اور2016میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی،ڈاکٹر دانش محمود نے اپنی ابتدائی تعلیم بالاکوٹ اور ثانوی تعلیم ایبٹ آباد سے حاصل کی ،بعد ازاں زرعی یونیورسٹی لاہور میں اپنی تعلیم مکمل کی،ڈاکٹر دانش محمود پولٹری کی صنعت کے حوالے سے وسیع معلومات رکھنے اور اپنے اسی شعبہ کی تکنیکی مہارت میں نام رکھنے والی ملک بھر کی چند اہم شخصیات میں شامل ہیں،ڈاکٹر دانش محمود ڈایگنوسس،ویکسین پروڈکش،ہایپرامیون،ایوین،انفلوائنز وائرس،ہایڈروپیرکارڈیمسنڈروموائرس،نیو کاسل ڈیزیز وائرس،انفکشن برونکائٹس اور انفکشن برسل ڈیزیز کے وائرس کی ریسرچ مکمل کر چکے ہیں،ڈاکٹر دانش محمود ایم فل سٹوڈنٹس،ایم ایس سی،پی ایچ ڈی ہولڈر اور اپنے شعبہ میں کمال کی مہارت اور تجربہ رکھنے والی شخصیت ہیں جن کی خدمات نہ صرف ملکی سطح پر بڑی بڑی نامی گرامی کمپنیاں جن میں صابر گروپ،ہائی ٹیک،صادق فیڈزبگ برڈاوراے ڈبلیو چیکس شامل ہیں ڈاکٹر دانش محمود کی خدمات حاصل کر رہی ہیں بلکہ بیرون ملک بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا جا چکا ہے اور اس ضمن میں کئی اعزازات بھی اپنے نام کر چکے ہیں ،پاکستان میں پولٹری کا شعبہ موجودہ دور میں دوسری بڑی انڈسٹری کے اعزاز کے ساتھ معیشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہے،جس کو موسمی اثراتاور بیماری سے بچانیکی اشد ضرورت ہے،دنیا کی مایہ ناز کمپنیز کی ویکسین کروانے کے باوجود آج پولٹری کی شرح اموات بڑھ رہی ہیں،ڈاکٹر دانش محمود سے اسی حوالے سے تفصیلی اور سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے،ڈاکٹر دانش محمود سے ہونے والی نشست میں مختلف سوالات و جوابات کو ایک مفصل انٹرویو کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر دانش محمود سے پوچھا گیا کہ وہ پولٹری کی صنعت کیا ہے اور پاکستان میں اس کے مستقبل کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟؟ تو انہوں نے بتایا کہ پولٹری کی صنعت کسی بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، یہ صنعت جنوبی ایشیا کے ممالک میں دیگر ممالک کی نسبت تیزی سے فروغ پانے والی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے، پاکستان میں ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی صنعت پولٹری کی ہے جس میں اب تک 300 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری سے 28 ہزار سے زائد پولٹری فارم بن چکے ہیں کہ جہاں 32 لاکھ سے زائد مرغیاں پالی جاتی ہیں، 23 لاکھ افراد کا براہ راست روزگار پولٹری انڈسٹری سے وابستہ ہے، جبکہ درجنوں نئے پراجیکٹ شروع کیے جا رہے ہیں،انہوں نے بتایا کہپاکستان میں مرغی کا استعمال فی کس سالانہ 6 کلو جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں 41 کلو اور دیگر ممالک میں 17 کلو ہے۔ 1953ء میں جب پاکستان میں پٹرول پندرہ پیسے لٹر تھا اس وقت بکرے کا گوشت سوا روپے کلو اور دیسی مرغی کا گوشت چار روپے کلو تھا، اس زمانے میں مرغی کھانا امیروں کی شان سمجھی جاتی تھی لیکن ولایتی مرغی نے پروٹین سے بھرپور مرغی کا گوشت سستا ترین کر دیا،ڈاکٹر دانش محمود کے مطابق دنیا بھر میں پولٹری انڈسٹری کا مستقبل بہت روشن ہے، دنیا میں اس وقت حلال مصنوعات کا سالانہ کاروبار 632 ارب ڈالر ہے جس میں سے اگر پاکستان ایک فیصد بھی حاصل کر لے تو اس کی سالانہ ایکسپورٹ چھ ارب ڈالر سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہے،انہوں نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں آسٹریلیا کی مصنوعات کی جگہ پاکستانی پولٹری زیادہ پسند کی جا رہی ہیں، حکومت حوصلہ افزائی کرے تو ایکسپورٹ میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن آئین میں 18ویں ترمیم سے قبل پولٹری کے لیے امپورٹ کی جانے والی مشینری سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی سے مستثنیٰ تھی لیکن جب صوبوں کو محکمے منتقل کیے گئے تو اس رعایت کا خاتمہ کر دیا گیا اور پولٹری کی مشینری پر بھی سولہ فیصد ڈیوٹی عائد کر دی گئی جس کی وجہ سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی پولٹری انڈسٹری کو دھچکا لگا ہے،ڈاکٹر دانش محمود نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے بگڑتے ہوئے تعلقات سے بھی پولٹری کی صنعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کی کل پولٹری صنعت کا 80 فیصد انحصار امریکہ سے درآمد شدہ فلاکس چکن پر ہے، جبکہ انڈسٹری سے متعلقہ مشینری اور ویکسین بھی امریکہ سے ہی درآمد کی جاتی ہے،انہوں نے بتایا کہ امریکہ سے درآمد شدہ چکن بے بی 38سے 40دنوں میں جوان ہو کر کھانے کے قابل ہو جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں تیار کردہ چکن (دیسی مرغی) بے بی کی قسم ایک سال میں تیار ہوتی ہے، اگرچہ اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں 1600ایکٹر رقبے پر پھیلے ’’نیشنل ایگری کلچرل ریسرچ کونسل (نارک) سنٹر میں اپنا فلاک پیرنٹ بنانے کے تجربات ہو رہے ہیں،ڈاکٹر دانش محمود کے مطابق پولٹری انڈسٹری میں ابھی مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، اگر حکومت کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کے افراد اور ادارے بھی ریسرچ سنٹر کے قیام میں سرمایہ کاری تو پاکستانی سائنسدان بھی ویکسین تیار کر سکتے ہیں،ڈاکٹر دانش محمود سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں پولٹری صنعت کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے؟؟ تو ان کا پاکستان میں پولٹری کی صنعت کے فروغ کے حوالے سے کہنا تھا کہ ابھی کچھ عرصہ قبل کراچی میں لائیو سٹاک نمائش میں جہاں متعدد جانوروں کی نمائش کی گئی وہاں اس نمائش کے انعقاد کا مقصد لائیو سٹاک، ڈیری، فشریز اور پولٹری کے شعبے کوفروغ دینا بھی تھا جس کی مدد سے ملک میں لائیو سٹاک اور پولٹری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوئی اور 25 سرمایہ کار ایک ارب روپے سے زائد کی فوری سرمایہ کاری کے لیے تیار ہوئے، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں کی آب و ہوا مرغ بانی کے علاوہ شتر مرغ کی افزائش کے لیے بھی انتہائی موزوں ہے، جبکہ رواں برس کے شروع میں18 مالیاتی اداروں اورحکومتی محکموں کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے جس کے تحت ان اداروں کے مابین ایک مشاورتی گروپ تشکیل دیا جائے گا جو ایگری پروسیسنگ، مائننگ پروسیسنگ، لائیو سٹاک، ڈیری، فشریز، پولٹری اور حلال انڈسٹری کے غیر روایتی کاروباری شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کام کرے گا،انہوں نے بتایا کہ ملک میں اگرچہ پولٹری کی صنعت میں بہت تیزی سے ترقی ہوئی لیکن اس کاروبار میں چند بڑے سرمایہ کاروں نے بڑی سرمایہ کاری کے ذریعے اس صنعت پر اپنی اجارہ داری قائم کر لی ہے، جو مرغی کی کل پیداوار سے لے کر اس کی ویکسین اور گوشت کی قیمت کو مقرر کرتے ہیں، جس سے پولٹری انڈسٹری بھی چند ہاتھوں میں سمٹتی جا رہی ہے، اسی صورتحال سے پولٹری صنعت میں بحران پیدا ہو رہا ہے ،انہوں نے مرغی کا انڈے کے حوالے سے دلچسپ جملے کے ساتھ بتایا کہ مرغی کو پیدا ہونے سے پہلے بھی کھایا جا سکتا ہے، لہٰذا حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر اس کی ترقی کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پولٹری انڈسٹری کے غیر ممالک پر 80 فیصد انحصار کو ختم کرنا ہوگا ،ڈاکٹر دانش محمود سے پوچھا گیا کہ ان کے نزدیک فارماسیوٹیکل انڈسٹریز کا مستقبل کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ جیسے جیسے پاکستان میں پولٹری کی صنعت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اسی طرح ادویات اور ویکسین کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے جس سے یہ بات طے ہے کہ مستقبل تابناک ہے،انہوں نے بتایا کہ حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کچھ فارماسیوٹیکل کمپنیز ادویات کی زیادہ قیمت کا تعین اس لئے کرتی ہیں کہ وہ تحقیقی و ترقیاتی کاموں میں سرمایہ کاری بھی کرتی ہیں، اگرملٹی نیشنل کمپنیوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ ان ادویات کو کم قیمت میں فروخت کریں تو پاکستان میں ان کمپنیوں کی بقاء مشکل ہو جائے گی،انہوں نے بتایا کہ فارماسیوٹیکل صنعت کو پاکستان میں بھی فروغ دیا جا سکتا ہے اگر دنیا کے چند ایسیممالک میں موجود اس طریقے کو اختیار کیا جائے جس کے سماجی و معاشی حالات پاکستان جیسے ہوں، مثلًا بنگلہ دیش اور سری لنکا، تاکہ رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں کے تعین کا ایک شفاف طریقِ کار پاکستان میں بھی رائج کیا جاسکے،انہوں نے پوچھ گئے ایک سوال کیا ادویات اور ویکسن دونوں ایک جیسی ہیں یا مختلف ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ ویکسین کی ترقی ایک طویل، پیچیدہ عمل ہے، جو اکثر 10 سے 15 سال تک جاری رہتا ہے اور اکثر سرکاری اور نجی شمولیت کے ایک مجموعہ میں شامل ہوتا ہے،ویکسین کی ترقی، ٹیسٹنگ، اور نظم کے لئے موجودہ نظام ملوث گروپوں کے ان کے طریقہ کار اور قواعد و ضوابط میں معیاری طور پر بہتری لانے کے بعد 20ویں صدی کے دوران تیار ہو19 ویں صدی کے آخر میں، انسانوں کے لئے کئی ویکسین تیار کئے گئے تھے۔ وہ چیچک، ریبیز، پلیگ، ہیضہ، اور ٹائیفائیڈ کے ویکسین تھے، تاہم ویکسین تیار کرنے کا کوئی ضابطہ موجود نہیں تھا، گزشتہ چند سالوں میں اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ ویکسین محفوظ طریقہ سے تیار کئے جاتے، بنائے، اور استعمال کئے جاتے ہیں، مختلف ممالک نے مختلف طریقوں کو تیار کیا ہے،یورپی یونین میں، یورپی ادویاتی ایجنسی ویکسین اور دیگر ادویات کے قوانین کی نگرانی کرتی ہے، عالمی ادارہ صحت کی ایک کمیونٹی بین الاقوامی سطح پر استعمال کئے جانے والے حیاتیاتی مصنوعات کی سفارشات کرتی ہے، کئی ممالک نے اپنے خود کے اندرونی ضابطہ نظام کے لئے عالمی ادارہ صحت کے معیارات کو اپنایا ہے
ویکسین کی ترقی اور جانچ عام طور پر اقدامات کی ایک معیاری ترتیب کی پیروی کرتی ہے، پہلے مراحل کی فطرت تحقیق ہے۔ جیسے ہی امیدوار کا ویکسین عمل کے دوران اپنا راستہ بناتا ہے ریگولیشن اور نگرانی میں اضافہ ہوتا ہے،ابتدائی اقدامات تحقیقی مرحلہ میں لیبارٹری اور جانوروں کے مطالعے سائنسدان قدرتی یا مصنوعی اینٹی جنس کی شناخت کرتے ہیں جو کسی بیماری کی روک تھام یا علاج کرنے میں مدد کر سکتے ہیں، ان اینٹی جنس میں وائرس جیسے ذرات، کمزور وائرس یا بیکٹیریا، کمزور بیکٹیریل ٹاکسنز، یا پیتھوجینز سے اخذ ہونے والے دیگر مواد شامل ہو سکتے ہیں،ویکسین بیماریوں سے قبل کی حفاظت جبکہ ادویات دوران بیماری استعمال ہوتی ہیں،ویکسین اور ادویات میں یہی بنیادی فرق ہے،ویکسین مستقبل میں ہونے والی کسی مخصوص بیماری کے ”حملوں” کے خلاف قوت مدافعت کو تیار کرنے کا کام کرتے ہیں،ویکسین جب کسی بھی جاندار کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو اسکا مدافعتی نظام اس سے لڑنے کی کوشش کرنے کے لئے اینٹی باڈیز کو جنریٹ کرتا ہے جبکہ ادویات سے مراد اپنے اولین مفہوم میں ایک ایسے نباتی، حیوانی اور/یا تالیفی مرکب یا سازندے کی ہوتی ہے جو قدرتی بھی ہو سکتا ہے یا مصنوعی بھی اور کسی کیفیت مرض کا مداوا کرنے کے مقصد میں استعمال کیا جاسکتا ہے،دوا کو انگریزی میں ڈرگ بھی کہا جاتا ہے اور بسا اوقات میڈیسن کا لفظ بھی اسی پر ادا کیا جاتا ہے،دوا س وقت استعمال ہوتی ہے جب بیماری لاحق ہوتی ہے جبکہ ویکسین بیماری سے قبل ہی بیماری کو رفع کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہے،ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر دانش محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے زراعت کے بڑے حصے کو سہارا مرغبانی کی صنعت نے دے رکھا ہے، صنعت مرغبانی میں ہونیوالی جدت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں اس فیلڈ میں بہت تیزی سے گروتھ ہوئی ہے تاہم ہر چند سال بعد نئے نئے بحرانوں کے باعث شرح نمو متاثر ہوئی ،ایک زمانہ تھا جب ایبٹ آباد، شنکیاری، مانسہرہ،مری، اوردیگر شمالی علاقے بریڈر فارمنگ کیلئے آئیڈل سمجھے جاتے تھے ان دنوں میں ابھی کنٹرول ہاؤسز نہیں آئے تھے، تاہم آج اس صنعت کا شمار پاکستان کی بڑی صنعتوں میں ہوتا ہے اس کے حجم کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ صنعت مرغبانی میں سرمایہ کاری کا حجم 700 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے جبکہ یہ صنعت 22لاکھ لوگوں کو براہ راست روزگار مہیا کر رہی ہے اس کے علاوہ درجنوں صنعتیں اور شعبے ایسے ہیں جن کی بقاء کا انحصار پولٹری انڈسٹری پر ہے پولٹری کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتاہے کہ اس کی وجہ سے آج تک اس ملک میں خوراک کا بحران پیدا نہیں ہوا اور اگر خدانخواستہ پولٹری تباہ ہوئی تو اس سے ملک میں غذائی قلت کا اندیشہ ہے،ڈاکٹر دانش محمود کے مطابق امریکہ میں مرغی کا گوشت کھپت کے لحاظ سے سر فہرست ہے جبکہ 2030 ء تک پوری دنیا میں مرغی کا گوشت کسی بھی دوسرے گوشت کے مقابلے میں سب سے زیادہ استعمال کیا جائے گا، پوری دنیا میں گوشت کی مجموعی کھپت کا 25 فیصد مرغی پورا کر رہی ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ یعنی 40 فیصد تک ہے۔ اس لحاظ سے اگر حکومت مداخلت نہ کرے تو پاکستان میں پولٹری کا مستقبل بہت اچھا ہے۔ ملکی معیشت کی درستگی اور لوگوں کا معیار زندگی بھی پولٹری کی کھپت کے حوالے سے نہایت اہم ہے مرغی کے گوشت کی کھپت بڑھنے کا انحصار بھی لوگوں کی قوت خرید پر ہے، پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی 1400 ڈالر ہے جبکہ مرغی کے گوشت کی فی کس کھپت ساڑھے پانچ کلو ہے، دوسری طرف امریکہ میں فی کس آمدنی 45000 ڈالر سالانہ ہے اور مرغی کے گوشت کی فی کس کھپت 45 کلو ہے لہٰذا اگر پاکستان میں فی کس آمدنی بہتر ہو جائے تو بھی پولٹری انڈسٹری کیلئے بہت زیادہ مارجن پیدا ہوگا،ڈاکٹر دانش محمود کے مطابق اگر حکومت چاہے تو مرغی کی پیداواری لاگت، بجلی، پٹرول کے نرخ اور دیگر لوازمات کو جمع تفریق کر کے اس کی کم از کم قیمت بھی فکس کردے تو بھی اس صنعت کو نمایاں فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Theme