پاکستان میں کورونا وباء کی دوسری لہر شدت سے نہیں آئے گی، ڈاکٹر طاہر شمسی   


کو شائع کی گئی۔ September 28, 2020    ·(TOTAL VIEWS 40)      No Comments

لاہور(یواین پی) وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی دوسری لہرشدت سے نہیں آئے گی، دوسری لہر کی شدت کم ہونے کی وجہ 55فیصد آبادی نے بغیر بیمار ہوئے اینٹی باڈیز بنا لی ہیں، پاکستان میں یورپ ، امریکا کی نسبت مختلف صورتحال ہے، انڈیا میں بھی پہلی اور دوسری لہر ضم ہوگئی ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بتایا کہ 8دس دنوں کا جو ڈیٹا دیاگیا ہے، اگرپہلے نمبر8سو تک پہنچے اور واپس چھ سو تک آگئے، ہمارے ہاں جب کورونا پیک تھی، تو 26ہزار ٹیسٹ کیے جاتے تھے۔ہم کہتے تھے کہ ایک لاکھ روزانہ ٹیسٹ ہونے چاہیے تھی۔ اب سکولوں میں بچوں اور اساتذہ کے ٹیسٹ ہونے شروع ہوگئے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر بہت شدت سے آئے گی، جیسا کہ ہم نے یورپ ، امریکہ میں دیکھا، انڈیا میں بھی پہلی اور دوسری لہر ضم ہوگئی ہے۔وجہ یہ ہے کہ ہم نے کراچی میں جولائی کے مہینے میں جو سٹڈی کی ہے، ہم بالغ آبادی پر مشاہدہ کیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے جرنل میں ریسرچ شائع ہوئی کہ 36فیصد افراد جولائی میں اینٹی باڈیز بنا چکے تھے، بغیر بیمار ہوئے۔ کراچی کی 55فیصد آبادی نے بغیر بیمار ہوئے اینٹی باڈیز بنا لی ہے۔ ہمارے ہاں ڈینگی، خسرہ، ملیریا کی ویکسین بن چکی ہے۔ ایک رپورٹ آئی ہے کہ جن ممالک جن علاقوں میں ڈینگی تھا وہاں کورونا کی شدت کم تھی۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Free WordPress Themes