پاکستان کوکرپٹ سیاستدانوں نے تباہی کے دہانے پر پہنچایاصوفی مسعوداحمدصدیقی   


کو شائع کی گئی۔ March 14, 2014    ·(TOTAL VIEWS 541)      No Comments

2
فیصل آباد ( یواین پی، خالد حسین ، حافظ زاہد) امیر تنظیم مشائخ عظام پاکستان صوفی مسعوداحمدصدیقی لاثانی سرکارنے لاثانی سیکرٹریٹ پریونی ویژن نیوز پاکستان کے فورم میں موجودہ ملکی صورتحال کے حوالے سے نمائندگان خالد حسین اور حافظ زاہد محمودکو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ مذاکرات ہونے چاہییں لیکن ان سے جن لوگوں کے دلوں میں خوف خدا آگیا ہواورانہیں اپنی غلطیوں اورگناہوں پر ندامت آئی ہوکہ ہم نے مرنا بھی ہے اوربروز قیامت اللہ کے حضور کیامنہ دکھائیں گے ۔ایسے لوگوں سے مذاکرات نہیں ہونے چاہییں جنہوں نے بدمعاشی ،سینہ زوری اوراسلحے کے زور پرانسانوں کوکیڑے مکوڑے سمجھ کر رونداہو،ان لوگوں کیخلاف سخت ایکشن ہونا چاہیے اوران کے غرورکوتوڑدینا چاہیے ،ایسے لوگوں سے مذاکرات کی ضد لگانے والوں سے صاف پتہ چلتاہے کہ اندرکھاتے ان کے ساتھ ان کے وسیع تعلقات ہیں ۔عوام بھی جان چکی ہے کہ ان لوگوں کے کس کس جماعت یافرقے سے تعلقات ہیں۔بہت سے ایسے لوگ حکومت میں بھی شامل ہیں جو ان انسانیت کے دشمنوں کے پشت پناہ ہیں ،ایسے لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں ،ملک اورعوام سے غداری کررہے ہیں یادرکھیں خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب پڑتی ہے تو پھر ایسے لوگ رہتی دنیا تک درس عبرت بن جاتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں آپ نے کہا کہ پاکستان کو نام نہاد اور کرپٹ سیاستدانوں نے تباہی وبربادی کے دہانے پر پہنچایا جبکہ پاک فوج نے حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر موقع پر ملکی مفادات کیلئے اقدامات کئے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک پر کوئی آفت آئی تو جانیں پاک فوج نے دیں دوسروں نے نہیں۔حکومت کے بھی کئی اقدامات جواچھے ہیں ان کے ثمرات غریب عوام تک نہیں پہنچے،یعنی قوانین بنائے گئے ان پر عملدرآمدنہیں کیاگیا۔ ایک اورسوال کے جواب میں آپ نے کہاکہ شادی بیاہ کے موقع پر غیر شرعی رسومات نے ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے،ناچ گانے،موویز،مہندی سمیت دیگرغیر اسلامی اورغیر اخلاقی رسومات کی بجائے اللہ ورسولﷺ کے ذکر کی محافل سجائی جائیں اورسادگی کواپنایاجائے جس سے بہترین نتائج برآمد ہونگے۔ایک اورسوال کے جواب میں آپ نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کی خدادادصلاحیتوں کو انگریزی زبان نے زنگ آلودکردیا ہے ،بے شمار ایسے شعبہ جات ہیں جہاں انگریزی زبان کی بالکل ضرورت نہیں لیکن وہاں بھی اس زبان کورائج کردیاگیا ہے۔بہت سے ایسے ذہین بچے انگریزی زبان نہ بولنے کی وجہ سے اعلیٰ ملازمتوں سے محروم کئے جاچکے ہیں جوکہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔قوم کی اکثریت انگوٹھا چھاپ ہے ،رہی سہی کسرٹی وی پروگرامز نے نکال دی ہے کہ پروگرام زراعت یاکسی دوسرے موضوع پرہوتے ہیں جن میں بہت سارے الفاظ انگریزی زبان کے استعمال ہوتے ہیں، 70%سے زائد آبادی کے زمینداروں اورکم پڑھے لکھے لوگوں کاوقت برباد کردیاجاتا ہے کیونکہ انہیں ان کی بہت سی باتو ں کی سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ کیا کہتے جاتے ہیں۔ہماری قومی زبان اردوکوفروغ دیا جائے۔ایک اورسوال کے جواب میں آپ نے کہاکہ ووٹ ایک مقدس امانت ہوتی ہے لیکن عوام کی اکثریت اب تک یہ ہی نہیں سمجھ رہی کہ اس مقدس امانت کاصحیح استعمال کیا ہے؟اس کا صحیح استعمال تو یہ ہے کہ ووٹ اسے دیا جائے جو ایماندار ہو،صوم وصلوٰۃ کاپابند ہو،اللہ ورسولﷺ سے ڈرنے والا ہو،حلال اورحرام کی تمیز کرنے والا ہو،مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کاجذبہ رکھنے والا ہو،اگر وہ سیاستدان ایسا نہیں ہے تو اسے ووٹ بالکل نہ دیا جائے کیونکہ اس میں آپ برابر کے مجرم ٹھہریں گے کیونکہ آپ نے ایک کرپٹ ،بے ایمان ،دھوکہ باز ا،شرابی ،بے نمازی اورغدار شخص کو ووٹ دیکر اپنے ملک کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دے دی۔ایسے لوگ الیکشن سے چند ماہ پہلے آتے ہیں اورگلی محلوں میں چندلائٹس لگواکراپنی نام نہاد تشہیری مہم شروع کردیتے ہیں ،اس کے بعد سالہا سال اپنے علاقے میں نہیں آتے ۔ایسے شخص اگر مخلص ہوں توالیکشن جیتنے کے بعد بھی اپنے علاقے کی عوام سے آکر ملیں اوران کا شکریہ اداکریں اوران کی پریشانیاں اورمسائل سے آگاہی لیں اوران کوحل کروائیں لیکن ایسا نہیں ہوتابلکہ اُن دنوں میں سڑکوں پرپتھر پھینکواکرعوام کیلئے مصیبتیں کھڑی کردیتے ہیں،پہلے والی سڑک پر ہی پتھر ڈال کراس کو اونچاکردیا جاتاہے جس سے عوام کی خون پسینے کی کمائی سے بنی ہوئی عمارتیں کئی کئی فٹ نیچی ہوجاتی ہیں ،ایک طرف تو اس پراپرٹی کی ویلیو کم ہوجاتی ہے تو دوسری طرف بارش یاسیوریج کے خراب سسٹم کی بدولت پانی ان کے گھروں میں داخل ہونے سے بے شمار مسائل پیداہوجاتے ہیں۔ان سٹرکوں کے ٹھیکے بھی تو انہی کرپٹ لوگوں کو دئیے جاتے ہیں جوکرپشن کے سارے گُرجانتے ہوتے ہیں،ایسے کرپٹ اورغدارلوگوں کیخلاف عوام کو سڑکوں پر آنا ہوگا۔مخلص اورنیک لوگوں کے سامنے کرپشن کے بادشاہ ریت کی دیوار ثابت ہونگے۔ایک اورسوال کے جواب میں آپ نے کہاکہ سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کاآپس میں ملنااسی صورت بہترہوتاہے جب ان کامقصد ملکی مفاد ہو اگر ایسا نہیں ہے اوران کی ملاقاتیں صرف اورصرف ایک دوسرے کااقتدار بچانااور غلطیوں کوچھپانا ہوتو پھرعوام سے دھوکہ بھی ہے اورغداری بھی ہے۔فورم کے اختتام پر آپ نے مزید کہا کہ پاکستان اگر چہ بہت بڑے بڑے مسائل کاشکار ہوچکاہے لیکن اہل نظر کی نظر میں یہ مسائل دنوں میں حل ہوسکتے ہیں ۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

WordPress Blog