پاکستان کیلئے چین کا کردار   


کو شائع کی گئی۔ March 14, 2019    ·(TOTAL VIEWS 54)      No Comments

 

تحریر:۔ چوہدری ناصر گجر
یہ چوتھا موقع ہے جب چین نے مولانا مسعود اظہر کے خلاف پیش کی گئی تجاویز کی مخالفت ،ثبوتوں اور شواہد کے ناکافی ہونے کی بنیاد پر کی ہے۔ مسعود اظہر کو ممنوعہ افراد کی لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش 2009 سے جاری ہے 2016 اور 17 میں بھی یہ تجویز سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی گئی تھی۔ مگر کونسل کے مستقل رکن چین کی جانب سے ہمیشہ اس کی مخالفت کی گئی جس کے باعث ایسا ممکن نہ ہو پایا ۔ حالیہ تجویز بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہونے والے ایک خودکش حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی گئی تھی۔ بھارت طویل عرصہ سے مطالبہ کر رہا ہے کہ اقوام متحدہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دے ۔ بھارت کے اس مطالبے کو چین ہر دفعہ ویٹو کر دیتا ہے ۔ بھارتی تجزیہ نگاروں نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ اس مرتبہ چین مسعود اظہر کے خلاف بھارتی مطالبات آگے بڑھانے میں رکاوٹ نہیں بنے گا تاہم جمعہ کے روز معمول کی بریفنگ کے دوران ترجمان جینگ شوآنگ نے کہا کہ چین نے خود کش حملے کی اطلاعات تشویش کے ساتھ نوٹ کی ہیں ۔ اس حملے سے ہمیں شدید دھچکا لگا ہے ۔ ہم مرنے والوں کے اہلخانہ اور زخمیوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں ۔ ہم ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں لیکن جب سوال کیا گیا کہ مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے بھارتی مطالبے کی چین حمایت کرے گا تو ترجمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت قائم کمیٹی میں کسی بھی شخص کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا واضح طریقہ کار ہے ۔ بھارت نے اس پر اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اس اقدام سے سخت مایوسی ہوئی ہے ، چین یہ روایتی بیان پہلے بھی دیتا آیا ہے ۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے 14 فروری کو پلوامہ کے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنیوالی تنظیم جیش محمد کے سربراہ کو نامزد کرنے سے عالمی برادری کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ہی بھارت مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کیلئے عالمی راہ نماؤں سے رابطوں میں تھا۔ مسعود اظہر کے معاملے پر چینی وزراء خارجہ نے سلامتی کونسل میں قرار داد پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے ۔ قرارداد پر فریقین سے رابطے میں رہے ہیں ہمیشہ مناسب مؤقف اپنایا ہے ۔ اس مسئلہ پر متعلقہ اداروں کو قوانین ، طریقہ کار کی پیروی کرنی ہوگی ، تمام فریقین کیلئے قابل قبول حل مسئلے کا مناسب حل ہوگا ۔ سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کے خلاف قراداد پر اعتراض کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کا گزشتہ روز آخری دن تھا ۔ بھارت نے اس قرارداد میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو بھی اپنا ساتھی بنایا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 15 اراکین پر مشتمل ہے جن میں پانچ مستقل جبکہ 10 عارضی اراکین ہیں۔ عارضی اراکین کا انتخاب دو سال کی مدت کیلئے اقوام متحدہ ی جنرل اسمبلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ پانچ مستقل اراکین میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، روس اور چین شامل ہیں اور سلامتی کونسل کے کسی بھی فیصلے کی منظوری ان پانچ ممالک کی رضامندی سے مشروط ہے۔ مستقل ممالک میں سے اگر ایک بھی ملک کسی تجویز کے خلاف اپنی ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے اس کی حمایت سے دستبردار ہوجائے تو اس فیصلے کو مسترد سمجھا جاتاہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت چین سمیت عالمی برادری سمجھ چکی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کی وجہ مسئلہ کشمیر ہے ۔ جس کیلئے چین اور سعودی عرب دونوں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ، لیکن بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح پاکستان پر سنگین الزامات لگا کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے اور یہ سفارتی و اقتصادی سطح پر عالمی برادری میں اکیلا ہو جائے ۔ حالانکہ اس وقت پوری دنیا یہ جان چکی ہے کہ بھارت کشمیر میں کس طرح غیر انسانی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور وہاں معصوم جانوں سے کھلوار کر رہا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد کئی ایسے شواہد ملے ہیں جس کی بنا پر بھارت پر پابندیاں لگ سکتی ہیں لیکن وہیں امریکہ اپنی ویٹو پاور کا استعمال کرکے پاکستان کی قراردادوں کو مسترد کر دیتا ہے۔ چین کا سب سے بڑا دہشت گرد دلائی لاما کئی سالوں سے بھارت کے پاس پناہ گزین ہے لیکن بھارت نے آج تک اسے چین کے حوالے نہیں کیا ۔ اگر ہم سکے کا دوسرا رخ دیکھیں کہ چین بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنا اور مسئلہ کشمیر کا مذاکرات کے ساتھ حل چاہتا ہے تو یہ مفاہمتی عنصر بھی مثبت اقدام ہے ۔ جہا ں تک لگ رہا ہے چین یہ چاہ رہا ہے کہ وہ ایک ایسے نتیجے پر پہنچے جس سے پاکستان بھی ناراض نہ ہو اور انڈیا کے ساتھ تعلقات بھی متاثر نہ ہوں۔ یہ توازن بنائے رکھنا میری نظر میں تھوڑا مشکل ہے ، لیکن اگر چین ایسا کرنا چاہتا ہے تو اسے ایک منصوبہ بنانا ہوگا ، جس میں انڈیا اور پاکستان دونوں کے مفادات کو سامنے رکھا جائے ،شاید اس سلسلے میں کام بھی ہو رہا ہو۔ اگر چین مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی اجازت دیتا ہے تو یہ پاکستان کی شکست ہو گی ۔ چین کو یہ سوچنا پڑے گا کہ وہ اس کے بدلے پاکستان کو کیا دے گا۔ چین کے اس فیصلے کو آخری فیصلہ بھی تصور نہیں کیا جا سکتا ، ابھی اس پر کام جاری ہے ۔ چین کے وزیر خارجہ ابھی پاکستان کے دورے سے واپس جا چکے ہیں اور اب وہ بھارت بھی جائیں گے۔ اب یہ انڈیا پر ہے کہ وہ چین کے اس اقدام کا جواب کیسے دیتا ہے۔بھارت کے بارے تو ہمیں پتہ ہے کہ وہ ہر وقت اسی تگ و دو میں رہتا ہے کہ پاکستان کا نقصان کر سکے اگر مسعود اظہر کو عالمی دہشتگردوں کی لسٹ میں شامل کر دیا جاتا ہے تو پاکستان کو معاشی ، اقتصادی ، دفاعی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اور پہلے سے مشکلات میں گھرا ملک کسی نئی مصیبت کا متحمل نہیں ہو سکتا لیکن پاکستان میں موجود سیاسی جماعتوں کے راہ نما جن میں سے ایک مثال بلاول زرداری کی لے لیجئے کہ اس نے میڈیا کے ذریعے یہ بات دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے اندر سے دیگر ممالک میں دہشتگردی کرنے والی تنظیمیں دہشتگردی کروا رہی ہیں۔ ایسے کھلے دشمنوں کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمات قائم کر کے قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے جو حکمرانی کے خواہشمند تو اس ملک میں ہیں اور وفا دار پاکستا ن کے دشمنوں کے ہیں ۔ ایسے سیاست دانوں کیلئے جھنگ کے معروف شاعر ملک شفقت اللہ شفی کی غزل کے چند شعر آپ کی نذر:
جو تضحیکِ زمانا کر رہے ہیں
وہ اب کے صاحبِ کردار ٹھہرے
جو ماہر ہیں بہت دھوکہ دہی میں
وہی بستی کے اب سردار ٹھہرے
خوشامد اور ریا کاری کریں جو
وہی اب صاحبِ گفتار ٹھہرے
کسی پر کیا بھروسہ کیجئے گا
تری محفل میں سب فنکار ٹھہرے

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Free WordPress Theme