پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی نا اہل اور نا لائق وفاقی حکومت آئی ہے؛صوبائی وزیرسعید غنی   


کو شائع کی گئی۔ February 23, 2020    ·(TOTAL VIEWS 73)      No Comments

ٹھٹھہ:(بیروچیف حمید چنڈ): صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی نا اہل اور نا لائق وفاقی حکومت آئی ہے جس میں لوگوں کی آمدنی میں کمی اور چیزیں دن بدن مہنگی ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں عوام کا سب سے بڑا مسئلا مہنگائی کا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے اور اور اس مہنگائی کا اصل بنیادی سبب وفاقی حکومت باالخصوص پنجاب حکومت کی نا اہلی ہے اور بد انتظامی کی وجہ سے گندم کا بحران پیدا ہوا چینی کے تمام کارخانہ بھی انہی کے پاس لگے ہوئے ہیں جوکہ بند پڑے ہیں اس پر کوئی کام نہیں کرتے اور ہمارے کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں اور چینی سے جو کمانے والے ہیں وہ بھی انہی کے ساتھ بیٹھے ہیں، یہ حکومت بین الاقوامی جگادریوں کی ہے اور وہ اتنے بڑے فنکار ہیں جو بڑی صفائی سے کام کرتے ہیں اور انہی کی پارٹی پر ہی خرچہ کرتے ہیں جبکہ جو رکوری ہے وہ عام لوگوں کی جیبوں سے کی جاتی ہے اور انہوں نے ہی اس وقت مصنوعی بحران پیدا کیا ہے تاکہ لوگ بحرانوں میں ہی رہیں۔ ان خیالات کا اظہار آج انہوں نے جیم خانہ مکلی میں عوام کے مسائل کے حل کیلئے منعقدہ کھلی کچہری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا وفاقی حکومت نے دوائیاں، بجلی، پٹرول، گیس سمیت کوئی ایسی چیز نہيں جو مہنگی نہ کی ہو، تو ظاہر ہے جب ڈالر مہنگا ہوگا ہر چیز مہںگی ہوگی اور اس کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے اور اس نا اہل حکومت کے بحرانوں کی سزا اس ملک کے 22 کروڑ عوام بھگت رہے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے وفاقی وزارت چھوڑنے اور پھر واپس لینے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا اتحاد ایک جبر کی شادی ہے اور جس دن جبر ہٹے گا شادی ٹوٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے 22 کروڑ لوگوں کا جو حال ہے اور معیشت کی بربادی ہے اس سے غریب اور مڈل کلاس کے لوگ پریشان ہیں، اس کی وجہ پی ٹی آئی کی نا اہلی اور نا لائقی ہے، اب پی ٹی آئی کا نا اہلی اور نا لائقی کا جو بوجھ ہے اس کے اتحادی بھی اپنے کاندھوں پر اٹھائے پھر رہے ہیں، جس میں ایم کیو ایم، ق لیگ اور دیگر جما‏تیں بھی شامل ہیں اور کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرح کا بوجھ اٹھا کر عوام کے پاس نہیں جا سکتی اور ایم کیو ایم و دیگر اتحادی جماعتیں کسی وقت بھی اس حکومت کو چھوڑیں گے، ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں اور نا اہلی اور نا لائقی عمرانی حکومت کی ہو اور اسے بھگتے کوئی اور تو یہ کوئی سیاسی جماعت برداشت نہیں کر سکتی۔ چائنہ میں کرونا وائرس کے باعث پھنسے ہوئے پاکستانی طلبہ و طالبات کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت بہت بڑی زیادتی کر رہی ہے میں سمجھتا ہوں جتنے بھی بچے اور بچیاں چائنہ میں پھنسے ہوئے ہیں اس سے زیادہ پریشان ان کی فیملیز ہیں جوکہ بہت بڑی اذیت ہے جو یہ انہیں پہنچا رہے ہیں جبکہ دنیا کے تمام ممالک نے اپنے لوگوں کو چائنہ سے نکال لیا ہے لیکن وفاقی حکومت کی یہ نا اہلی ہے کہ وہ ابھی تک اپنے بچوں کو نکالنے میں ناکام ہوئی ہے اور بچوں کو فوری طور پر واپس پاکستان لایا جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیکریٹری ایجوکیشن کو ہدایات دیں ہیں کہ جو اساتذہ کے جائز مسائل ہیں انہیں حل کیا جائے اور اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنا کام ایمانداری، نیک نیتی اور سچائی سے ٹھیک کریں گے انہیں اپنی تنخواہ تو ملے گی مگر اس کا اجر بھی ضرور ملے گا اور اساتذہ کے مسائل حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے لیکن یہ نہیں ہوگا کہ اساتذہ نوکری نہ کریں اور اپنا کام ٹھیک نہ کریں تو اس معاملے میں سختی ضرور کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے وزارت تعلیم کا قلمدان سنبھالا ہے اور پوری ڈیٹا لی ہے جوکہ وزارت تعلیم کے پاس موجود ہے اور وزارت تعلیم میں اچھے اور قابل افسران موجود ہیں جتنے بھی منصوبے کسی وجہ سے سست روی کا شکار تھے انہیں تیز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی اسکول بند ہیں انہیں فعال بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے 50 انگلش میڈیم اسکول میں سے 31 اسکول بند تھے ان سمیت تمام بند اسکولوں کو فعال کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں تمام مطلوبہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور جلد بہتری نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تقریبن پانچ چھ سال سے سندھ کے اسکولوں کیلئے فرنیچر نہیں خریدا گیا تھا اس ضمن میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور جلد سندھ کے تمام اسکولوں میں فرنیچر بھی فراہم کیا جائے گا جوکہ معیاری ہوگا۔ ٹھٹھہ کے امتحانی مراکز میں دیگر شہروں بالخصوص کراچی کے مختلف علاقوں سے آکر محض کاپی کرکے پاس ہونے کیلئے داخلا لینے کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں کاپی کلچر پھیل گیا ہے اور اس ضمن میں بطور وزیر تعلیم کوشش ضرور کروں گا جبکہ امتحانات کا مسئلا بورڈ کا ہوتا ہے جوکہ میری وزارت کے ماتحت نہیں ہے اس کے باوجود پوری کوشش کریں گے کہ جو بھی عناصر اس مسئلے میں ملوث ہیں انہیں سزا دلوائی جائے اور یقین دلاتا ہوں کہ اس میں کمی واقع نظر آئے گي۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم و محنت نے محکمہ تعلیم کے غیر حاضر افسران کی فوری معطلی کے احکامات جاری کرتے ہوئے دیگر محکموں کے غیر حاضر افسران کے خلاف کارروائی کیلئے وزیر اعلی سندھ کو سفارش ارسال کی جائے گی۔ کھلی کچہری کے دوران عوام کی جانب سے مختلف مسائل پیش کیے گئے جبکہ روینیو اور پولیس کی شکایات کے متعلق کے فوری حل کیلئے موقع پر ہی موجود ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ محمد عثمان تنویر اور ایس ایس پی ٹھٹھہ شبیر احمد سیٹھار کو احکامات جاری کئے کہ وہ تین روز میں تمام مسائل کے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کریں اور خود بھی عوام کے مسائل کے حل کے متعلق کسی اچھے افسران سے تحقیقات کروائیں۔ قبل ازیں وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے بحالی معذور افراد سید قاسم نوید قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پ پ پ چيئرمن بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے مشکور ہیں جنہوں نے کھلی کچہری کا انعقاد کیا تاکہ عوام کے مسائل معلوم کرکے ان کی دہلیز پر ہی حل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ سلسلہ چلتا رہے گا جب تک کہ عوام کے مسائل حل نہ ہوں اور ہماری ہر ممکن کوشش ہوگی کہ عوام کے مسائل جلد سے جلد حل ہوں۔ اس موقع پر پ پ پ رہنماء و سابق ایم این اے ڈاکٹر عبدالواحد سومرو، پ پ پ رہنماء و ایم پی اے سید ریاض حسین شاہ شیرازی اور پ پ پ ضلع ٹھٹھہ کے صدر صادق علی میمن نے اپنے خطاب میں صوبائی وزیر اور معاون خاص کے سامنے ضلع کے مسائل پیش کئے اور ان کے حل کیلئے زور دیا۔ کھلی کچہری میں پ پ پ ضلع ٹھٹھہ کے جنرل سیکریٹری امتیاز احمد قریشی، اطلاعات سیکریٹری سید محمود عالم شاہ کے علاوہ ضلع کے مختلف محکموں کے افسران، صحافیوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Premium WordPress Themes