پتہ نہیں تھا   


کو شائع کی گئی۔ December 6, 2019    ·(TOTAL VIEWS 306)      No Comments

زندگی کو زندگی کیسے سمجھتے ہیں
زندگی کو زندگی سمجھنے کا پتہ نہیں تھا
کسی کو حال دل کیسے سناتے ہیں
حال دل سنانے کا پتہ نہیں تھا
زمانے میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں
زمانے کے اس مکار کا پتہ نہیں تھا
بتایا تو بہت لوگوں نے مگر
زندگی کچھ ایسی ہو گی پتہ نہیں تھا
یوں اکیلا رہ جاﺅں گا زندگی میں
اس تنہائی کا پتہ نہیں تھا
اپنے ماریں گے بے یارومددگار
اس ظلم کی انتہا کا پتہ نہیں تھا
اپنوں میں بیگانہ ہوناتھا فیاض
اس بیگانگی کا پتہ نہیں تھا
ڈاکٹرفیاض احمد

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Weboy