پنجاب میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آؤٹ سکینڈل میں نیا انکشاف   


کو شائع کی گئی۔ October 9, 2017    ·(TOTAL VIEWS 367)      No Comments

لاہور(یو این پی) پنجاب میں میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک کرنے کے اسکینڈل میں ایک اور انکشاف سامنے آیا ہے ۔ نجی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2 پرائیوٹ اکیڈمیوں نے پرچہ دینے کی مد میں فی امید وار 12 لاکھ روپے تک لیے ۔ انہی پرائیوٹ اکیڈمیوں نے پرچہ تیاری کی مد میں مجوعی طور پر 2 ارب روپے وصول کیے ۔پچھلے 3 برسوں میں ایم بی بی ایس کے 14 پرچے بھی آؤٹ کئے گئے اور یہ نہیں پرچہ آؤٹ کر کے کروڑوں کمانے میں ایک نہیں مختلف گروپ سرگرم ہیں ۔اس سے قبل میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہونے کا اسکینڈل سامنے آیا اور سی آئی اے پولیس نے 6 ڈاکٹروں سمیت 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور 29 اکتوبر کو دوبارہ امتحان کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ملک میں اسپتالوں کی حالت خراب ہے اور ڈاکٹروں کی خراب تر اور اس کی اور وجوہات بھی ہوں گی لیکن ایک بھیانک وجہ یہ سامنے آئی کہ پنجاب میں پیسے لے کر ڈاکٹر بنائے جا رہے ہیں۔ پنجاب کے سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں میں اس سال کی نشستیں صرف 6 ہزار 405 تھیں۔ ڈاکٹر بننے کے لیے 11 کروڑ کے صوبے میں ذہین ترین طالب علم 20 اگست اینٹری ٹیسٹ دینے بیٹھے لیکن معلوم ہوا کہ کچھ لاڈلے طالب علموں کے لیے پرچہ پہلے ہی آوٹ ہو چکا تھا۔ کہانی آج کی نہیں ہے اسکینڈل یہ سامنے آیا ہے کہ نالائق اور نا اہل طالب علم پیسے دے کر نہ صرف اینٹری ٹیسٹ پاس کرتے ہیں بلکہ میڈیکل کالجوں میں داخلہ بھی حاصل کر لیتے اور بالآخر ڈاکٹر بھی بن جاتے ہیں۔ لاہور میں اس اسکینڈل میں ملوث 9 ملزمان بھی پکڑے گئے ہیں۔ اینٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہونے کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد عدالت نے اس کیس کی سماعت کے بعد امتحانی نتائج کو کالعدم قرار دے دیا۔ پرچے لیک کرنے والا ایک مبینہ ملزم ڈاکٹر راؤ بلال نشتر اسپتال میں ادویات سپلائی کرنے کا کام کرتا ہے، اسے بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے ملتان سے گرفتار کیا گیا۔ ڈاکٹر بلال کے انکشاف پر سی آئی اے پولیس لاہور نے مزید 5 ڈاکٹروں سمیت 9 افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے راؤ دلشاد، ڈاکٹر حیدر عرف جاتو، ڈاکٹر کاشف رانا، یو ایچ ایس کی ڈپٹی کنڑولر صائمہ تبسم کے نائب قاصد توصیف کو بھی گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ڈپٹی کنڑولر صائمہ تبسم اور اسٹنٹ ڈائریکٹر جاذب حسین کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا تاہم یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر فیصل مسعود نے یونیورسٹی میں ایمرجنسی نافذ کر کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔عدالتی حکم کے بعد یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے 29 اکتوبر کو پھر سے انٹری ٹیسٹ لینے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب کے 13 شہروں کے 28 مراکز میں 65 ہزار طلبہ و طالبات ایک بار پھر انٹری ٹیسٹ میں حصہ لیں گے۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Weboy