پولیس اور ہمارا رویہ   


کو شائع کی گئی۔ December 2, 2018    ·(TOTAL VIEWS 40)      No Comments

تحریر۔۔۔ چوہدری ناصر گجر
مشہور فلاسفر ارسطو کے مطابق فرد معاشرے کی اکائی ہوتا ہے۔ان اکائیوں کا مجموعہ ایک معاشرے کو جنم دیتا ہے اور معاشروں سے ریاست وجود میں آتی ہے ۔ ریاست کا نظم و نسق اور انتظام چلانے کیلئے کچھ اقدار اور قوانین مرتب کئے جاتے ہیں جن پر عملدرآمد کیلئے ادارے وجود میں آتے ہیں ۔انہی اداروں میں سے ایک ادارہ پولیس بھی ہے جو قوانین پر عملدرآمد کرواتا ہے اور قوانین توڑنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لاتا ہے۔دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی پولیس کا محکمہ موجود ہے جو انتہائی خوش اسلوبی سے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔لیکن پاکستان میں موجود گندی سیاسیت اور بدمعاش سیاستدانوں نے اس محکمہ میں اپنے چندمن پسندقسم کے لوگ بھرتی کروائے اور ان کے ذریعے لوگوں کو قتل کروانا ، ناجائز مقدمات درج کروانا ، اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹانا جیسے کام کروائے جاتے ہیں ۔جس کی وجہ سے عوام میں پولیس کیلئے مثبت تاثر نہیں پایا جاتا لیکن اگر غور کریں تو سخت گرمی ، سردی کی شدت ، موسموں کے تھپیڑوں کا سامنا کرنے والا پولیس کا سپاہی جو ہماری حفاظت کیلئے مامور ہے وہ چند ہزار روپے کی تنخواہ کی خاطر یہ سب نہیں کر رہا ہوتا ۔بلکہ جذبہ حب الوطنی اور احساسِ انسانیت کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دن ، رات کسی روبوٹ کی طرح اپنی نجی زندگی کو قربان کرتے ہوئے فرائض انجام دے رہا ہوتا ہے۔عیدین ایسے تہوار ہیں جن پر پردیس میں رہنے والے لوگ بھی گھروں کو واپس لوٹ آتے ہیں لیکن پولیس ملازمین و افسران عوام کی حفاظت کیلیے اپنوں سے دور ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔اُن سے ہمارا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی عید کے بعد اُن سے گلے ملنا بھی گوارا نہیں کرتا۔پچھلے کئی برسوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے شہید ہونے والے لوگوں میں سب سے پہلے پولیس کے جوانوں کی فہرست آتی ہے۔وہ شہداء اور اُن کی طرح حفاظت پر مامور پولیس ملازمین کے بھی بوڑھے ماں باپ،بیوی بچے اور چھوٹے بہن بھائی ہوتے ہیں جو اُنکی جدائی کا صدمہ ہر عام آدمی کی طرح رکھتے ہیں۔کبھی تھانے میں جا کر تھانہ محرر کے ساتھ ایک دن گزار کر دیکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ کس قدر کام کا بوجھ ہوتا ہے جو ایک طاقتور اعصاب رکھنے والے بندے کی برداشت سے زیادہ ہوتا ہے۔یہ ایک تھانہ محرر کی ہی نہیں قریب ہر پولیس کانسٹیبل اور افسر کا احوال ہے ۔ہر وقت ذہنی تناؤ کے باعث طبیعت میں روکھا پن اور غصہ پیدا ہو جانا ایک فطری عمل ہے۔اور اسی عمل کی وجہ سے ہم انہیں معاشرے کے سب سے بڑے بداخلاق کا درجہ دیتے ہیں جو نا انصافی ہے۔
ہمیں استحقاق کے مطالبے میں عدل پسند بھی ہونا چاہئے یعنی ہم جن رویوں کی دوسروں سے امید رکھتے ہیں وہی ہمارا بھی حق بنتا ہے کہ ہم انہیں دیں ۔رشوت ستانی یا رویوں میں بگاڑ کا سبب ہم خود ہیں ۔ ایک تو ہمارے معاشرے عدم برداشت اس حد تک ہے کہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں اداروں تک پہنچ جاتے ہیں اور سچ جھوٹ کی ایک لمبی کہانی بنا کر اس طرح مظلوم بننے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے شہر سارا سوتے میں خواب بیچتا پھرتا ہو۔ ایسے خوابوں کے خریدار کہیں نہیں ہوتے بس ہم بیچنے کی ناکام کوشش میں معاشرے کو بگاڑتے ہیں نہ کہ سنوارتے ہیں ۔ جب ہمیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے ہوتے تو ہم اپنی ذاتی بلا وجہ انا کیلئے سیاستدانوں اور جاگیر داروں کو اداروں میں مداخلت کیلئے موقع فراہم کرتے ہیں ۔ ہمیں حق اور باطل کی تمیز سب سے پہلے سیکھنی چاہئے اس کے بعد خودی میں چھپی انا کیلئے جھگڑا کرنا چاہئے۔ ایسی جھوٹی درخواستوں سے بلا وجہ پولیس کے وقت کو برباد کریں گے تو ادارے خود ہی عوام سے زچ ہو کر متنفر ہونا شروع ہوجائے گی۔ کسی بھی معاشرے میں رویے اس کی بگاڑ یا استحکام کا مؤجب بنتے ہیں تو پھر شکوہ صرف اداروں سے ہی کیوں؟شعبہ صحافت کسی بھی ریاست میں چوتھے ستون کی حیثیت رکھتا ہے اور اس پیشے سے وابستہ افراد صحافی کہلاتے ہیں جو معاشرے کی آنکھ ، کان اور زبان ہوتے ہیں ۔ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کی اچھائی اور برائی متوازن اور مثبت انداز میں پیش کریں اور تنقید کے ساتھ حل بتانا دانشوارانہ عنصر ہے جس کیلئے فہم و دانش اور فکر و عمل انتہائی اہم ہیں ۔ مجھے افسوس ہے کہ شعبہ صحافت میں بھی اب ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو فہم و دانش اور فکر و عمل سے کوسوں دور محض کسی ذاتی مفاد، یا کاروباری شیلٹر کیلئے اداروں کو بلیک میل کر کے نا صرف شعبہ صحافت بلکہ ملک کی بھی ساکھ کم کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔شہر تو کہنے کو فسانے مانگے کے اصول پر قائم ایسے ٹی وی چینلز محض اداروں کی بدخوہی اور ان پر تنقید کے موقع تلاش کرتے پھرتے ہیں اور لوگوں میں سنسنی پھیلا کر انہیں اب ایسا کر دیا ہے کہ ان کیلئے کوئی بری خبر خبر نہیں ہوتی اور جب تک وہ سنسنی خیز اور تہلکہ مچا دینے والے مسالے دار لہجے میں کوئی بات نہ سنیں ان کے کان تسلیم ہی نہیں کرتے کہ یہ کوئی خبر ہے۔اگر پولیس کوئی غلط کام کر دے تو اس پر بحث و مباحثہ اور تبصرے اور سارا دن ٹی وی چینل پر مختلف برانڈز اور مسالوں کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہوتا ہے لیکن جب پولیس کے نوجوان شہید ہوتے ہیں یا وہ جس طرح سے دن رات اپنی فرائض کی انجام دہی کیلئے سر پر کفن باندھے پھرتے ہیں اس کی بات کوئی نہیں بتاتا۔ میرا ان سے سوال ہے کہ کیا یہ خبر نہیں بنتی کہ فلاں پولیس اہلکار رات بھر فلاں دیہات کے چوک پر اکیلا رات بھر ڈیوٹی انجام دیتا رہا جسے ہر ایک گولی اور ہر ایک منٹ کا حساب دینا پڑتا ہے چاہے وہ وقت یا گولی اس نے اپنی جان کی دفاع میں ہی کیوں نہ خرچ کی ہورویے تہذیب و تمدن کا عکاس ہوتے ہیں اگر مغرب میں ادارے مثبت اقدار کو فروغ دیتے ہیں تو وہاں کا تمدن اور معاشرتی رویہ بھی مثبت ہے ۔ ہمیں ملک کے خدمت گزاروں اور اداروں کے ساتھ مخلص ہونا چاہئیے کیونکہ کسی بھی ریاست کی بقاء اور ستون اس کے ادارے ہوتے ہیں ۔ ریاست ہمارا گھر ہے اور اگر ہم گھر کے ستون کھوکھلے کرنے شروع کر دیں گے تو کیا ہم اس میں رہ پائیں گے؟ ۔

Readers Comments (0)




Weboy

WordPress主题