پولیس گردی کا نشانہ بننے والی معصوم عابدہ ملاح کے ورثاء کی پریس کانفرنس   


کو شائع کی گئی۔ January 7, 2019    ·(TOTAL VIEWS 96)      No Comments

ٹھٹھہ:(رپورٹ حمید چنڈ) تعلقہ گھوڑباری کے ور شہر میں گذشتہ ماہاہ پولیس گردی کا نشانہ بننے والی 12 سالہ معصوم عابدہ ملاح کے ورثاء نے عابدہ ملاح کیس کو اتفاقیہ حادثہ قرار دینے اور مقامی سیاسی وڈیروں کی جانب سے دھمکانے کے خلاف ملاح اتحاد کے سربراہ آدم گندرو کے ہمراہ عوامی پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کے 12 ڈسمبر 2018 کو رات کو 10 سے 11 کے قریب ایس ایس پی ٹھٹھہ کی خصوصی ٹیم کے ہمراہ اے ایس آئی صدیق پنھور اور اسکے چوکی کے اہلکار رات کے اندھیرے میں موٹر سائیکل چوڑ ڈھونڈنے کے لیے ہمارے گھر میں گھس کر ہمیں سخت تشدد کا نشانہ بنایا جسکے بعد اے ای ایس آئی صدیق پنھور کے کہنے ہر ایک اہلکار نور پلیجو نے سامنے کھری ہماری 12 سالہ بچی عابدہ ملاح کے اوپر سیدھا فائر کردیا جسکے بعد ہمارے گھر سے بھاگ گئے جسکی خبر میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلنے کے بعد رات کو دیر سے ایس ایس پی ٹھٹھہ شبیر سیٹھار ہمارے گھر پر آکر ہمیں بتایا کے اس چھاپے کا مجھے علم نہیں تھا اور اس واقعے میں ملوث تمام اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان پر قانونی کاروائی کرنے کی یقین دہانی کروائی جسکے بعد ایس ایس پی ٹھٹھہ نے صرف تین اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرواکر تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی جس مہں ڈی ایس پی لاشاری صاحب کو انکوائری دی گئی مگر تحقیقات کسی اور سے کرواکر پورے سانحہ کو حادثاتی قرار دیدیا گیا، جبکہ ایس ایس پی ٹھٹھہ پہلے دن سے ملوث اہلکاروں کو بچانے کی مسلسل کوشش میں لگے ہوئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کے شہید عابدہ ملاح کے کیس کو کمزور کرنے کے لیے اس پورے واقعے میں سیدھا ملوث جس نے فائر کے احکامات دیے اس اے ایس آئی صدیق پنھور کو ابھی ت؎ک گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور ہمارے اوپر مقامی وڈیروں کے ذریعے پریشر ڈالا جارہا ہے کے ہم کیس سے ہاتھ اٹھالیں، دوسری جانب ملاح اتحاد کے رہنماہ نے کہا کے عابدہ کے ورثاء کو ٹھٹھہ پولیس اور سیاسی بوتاروں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دیں جارہی ہیں، ایک سول کے جواب میں آدم گندرو نے پی ایس 78 کے منتخب ایم پی اے علی حسن زرداری کے اوپر الزام لگاتے ہوئے کہاکے وہ عابدہ ملاح کے والدین کو دھمکیاں دے رہا ہے اور انکے نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنساکر انہیں فل فرائی کرانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، اس موقعے پر ملاح اتحاد کے سربراہ صحافیوں پر برہم ہوتے ہوئے کہا کے آپ لوگوں کے ایسے سوالات ان غریبوں کو مزید پریشانی میں دھکیل دینگے، انہوں نے چیف جسٹس اندھ ہائے کورٹ، حکومت سندھ، آئی جی سندھ سے مطالبہ کہا کے عابدہ ملاح کے کیس کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور اس واقعے میں ملوث تمام اہکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے اور اس معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے والے سیاسی بوتاروں کے خلاف بھی انکوائری کرائی جائے، بصورت دیگر ہم تمام ورثاء ایس ایس پی آفیس میں اپنے آپ کو آگ لگادینگے، اس موقعے پر انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کے 11 جنوری کو ور شہر میں عابدہ ملاح لے قتل کے خلاف احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا جائے گا ۔

Readers Comments (0)




Weboy

Weboy