چھوٹی صنعتیں ،صنعتی انقلاب کی اساس   


کو شائع کی گئی۔ October 27, 2020    ·(TOTAL VIEWS 51)      No Comments

تحریر۔۔۔ مقصود انجم کمبوہ
چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینے سے بے روزگاری میں کمی واقع ہوتی ہے ملکی معشیت کو استحکام ملتا ہے وفاقی جمہوریہ جرمنی کے وفاقی وزیر برائے اقتصادی تعاون و ترقی نے گذشتہ برس صنعتی ترقی کے مضمون پر بون میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سچی اور کھلی حقیقت ہے کہ جرمن کی اقصادی اور معاشی ترقی کا راز چھوٹی صنعتیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج ہماری حکومت اس شعبے کی ممکنہ ترقی و خوشحالی کے لئے دل جمی سے کام کر رہی ہے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی اور کاروباری اداروں میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے قرضوں کی فراہمی کا ہمہ گیر پروگرام وضع کیا گیا جس سے ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی ہوگئی اور جرمنی کی صنعتی ترقی کی رفتار بڑھے گی اس کے نتیجے میں جرمنی دوسرے ملکوں کے مقابلے میں سرمایہ کاری کے لئے زیادہ پُر کشش ہوگا قرضوں کا یہ پانچ سالہ پروگرام تحقیق وٹیکنالوجی کی وفاقی وزارت اور تعمیر و ترقی کے بینک نے دو بلین مارک کے مشترکہ سرمائے سے شروع کیا ۔قرضے کے اس پروگرام پر اب تک کا ردِ عمل انتہائی مثبت اور حوصلہ افزاءرہا ہے گذشتہ برس موصول ہونے والی درخواستوں پر 99ملین مارک کے ایک صد قرضے منظور کیے گئے طریقہ کار یہ ہے کہ درخواست دہندہ اپنے بینک میں درخواست جمع کراتا ہے جو تعمیرو ترقی کے بینک کی مقررہ فہرست کے مطابق جانچ پڑتال کے بعد یہ درخواست تعمیر و ترقی کے بینک کو بھیج دیتا ہے جو متعلقہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں قرضہ جاری کردیتا ہے قرضے کی فراہمی کے لئے اہلیت کا معیار یہ ہے کہ درخواست دہندہ سند یافتہ اور متعلقہ شعبے کا مناسب علم رکھتا ہو وہ اپنے کاروبار میں کوئی نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنا چاہتا ہو اور ایسی مصنوعات تیار کرنے کی خواہش رکھتا ہو جو دوسروں سے مسابقت اور مقابلہ کر سکیں۔ قرضے کی رقم کا فیصلہ اس بنیا د پر کیا جاتا ہے کہ درخواست دہندہ فروخت کے لئے کتنا مال منڈی میں لا سکے گا چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی و کاروباری اداروںکے لئے ضروری ہے کہ فروخت کی سالانہ حد پچاس ملین مارک تک ہو۔ زیادہ سے زیادہ تین ملین مارک کا قرضہ جاری کیا جاتا ہے قرض کی ادائیگی کی مدت دس سال ہے لیکن خصوصی حالات میں یہ معیاد پندرہ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے قرض پر شرح سود 5.75فیصد ہے اور پہلے دو سال میں ادائیگی ضروری نہیں اس قرضے پر نقصان میں درخواست دہندہ کا بینک تحقیق و ٹیکنالوجی کی وفاقی وزارت اور تعمیر و ترقی کا بینک ہوں گے وفاقی جمہوریہ جرمنی کے مجوزہ پروگرام کے تحت اب تک زیادہ تر قرضے مائیکرو ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی فرموں کو ایوارڈ کیے گئے ہیں اعدادو شمار کے مطابق 29فیصد قرضے الیکٹرو مکینیکل انجینئرنگ کی صنعت 19فیصد ، 9فیصدپلاسٹک پروسیسسنگ صنعت اور 6فیصد بائیو ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کو فراہم کیے گئے ۔اس کے بر عکس ہمارے ملک میں چھوٹی صنعتوں کا انقلاب برپا کرنے والی بھاری کاروپوریشنیں صنعتی بینک اور مالیاتی ادارے گزشتہ چند برسوں سے جمود کا شکارہیں سابق وزیر اعظم کے دورِ اقتدار میں اس پر ذرا بھر بھی توجہ نہیں دی گئی چھوٹے سرمایہ کار اور بے روز گار ہنر مند نوجوان متذکرہ اداروں کے علاقائی و مرکزی دفاتر کے چکر پہ چکر کاٹتے رہے شاید ہی کسی فرد کو کچھ ملا ہو۔ اس پر متضادیہ کہ بحران زدہ پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کو سیاسی سربراہی میں دے کر مزید دیوالیہ پن کا شکار بنایا گیا چھوٹے ملازمین کے حقوق کو نظر انداز کر کے غیر ملکی دوروں پر زور دیاجاتا رہا سابق منیجنگ ڈاریکٹرکی ناا ہلی اور غفلت و لاپرواہی سے کارپوریشن کے چلتے ہوئے ذیلی ادارے بھی اپنی کارکردگی کھو بیٹھے ۔ پاکستان مسلم لیگ کے سابق دورِ حکومت میں چھوٹی صنعتوں ،کارپوریشنوں اور مالیاتی اداروں کو فعال اور موثر بنانے کی قطعی سعی کوشش کی گئی انہی اداروں اور کارپوریشنوں کے ذریعے دیہی صنعت کاری اور سیلف ایمپلائمنٹ ا سکیموں کا اجراءکر کے ملک میں چھوٹی صنعتوں کا جال بچھا کر صنعتی انقلاب برپا کرنے کا بیڑہ اُٹھایا بلا شبہ مسلم لیگ کی حکومت کے ان چند برسوں میں ملک میں اربوں روپے کے قرضے جاری کیے گئے اور دیہی علاقوں میں صنعت کاری کے ذریعے معاشی پسماندگی و بے روز گاری کا کافی حد تک مداوا کیا گیا اب یہ سلسلہ چند سالوں سے قطعی بند پڑ اہے متعلقہ ادارے اور کارپوریشنیں مالی وبد حالی کا شکار حکومتی پالیسیوں اور منصوبوں کے نئے اور تازہ اعلان کا انتظار کر رہی ہیں جلد بڑی کارپوریشنیں نہ صر ف قومی خزانے پر بوجھ ہیں بلکہ اس نازک اور حساس صورتحال سے اس سے منسلک ملازمین و افسران بھی کرب و ابتلاءمیں مبتلا نظر آتے ہیںطرح طرح کی چہ مگوئیاں جنم لے رہی ہیں اور حکومت کی بے جا خاموشی بھی طرح طرح کے وسوسے اور ابہام پیدا کررہی ہے ہنر مند مگر بے روز گار نوجوانوں کی ایک خطیر تعداد وزیراعظم عمران خان کی طرف نظریں لگائے سیلف ایمپلائمنٹ ا سکیم کے دوبارہ اجراءکے اعلان کی منتظر ہے دیہی علاقوں کے چھوٹے سرمایہ کار بھی ہر روز اخبارات میں کسی معجزے کے رونما ہونے کے انتظار میں رہتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ انہی لوگوں کی اکثریت نے ووٹ دے کروزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر بٹھایا ہے اور انہی لوگوں کی بد دعاﺅں سے نواز شریف کے دورِ حکومت کا سورج غروب ہوا ہے اب وزیر اعظم کا فرض اوّلین ہے کہ وہ چھوٹی صنعتوں کی کارپوریشن کو متحرک کرکے متاثرہ افراد کے مسائل و مشکلات کا ازالہ کرے۔ پنجاب سمال انڈسٹریز کا رپوریشن کو بھی فنڈز مہیا کر کے متحرک و منظم بنایا جاسکتا ہے اور اس ادارے کے ذریعے صنعت کاری ، ہنر کاری و دست کاری ایسے شعبوں کو فروغ دے کر صنعتی انقلاب برپا کر کے پنجاب کو صنعتی ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے ۔امیدِ واثق ہے کہ وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے کردار کو منظم و فعال بنانے کے لئے ہمہ گیر منصوبے تشکیل دیں گے جس سے نہ صرف گو مگو کی کیفیت سے چھٹکارا ملے گا بلکہ بے روزگار ہنرمند نوجوان سیلف ایمپلائمنٹ کے ذریعے اپنی مالی و نفسیاتی الجھنوں اور پریشانیوں سے نجات پالیں گے ۔ بلا شبہ پاکستانی ہنر مند نوجوان محنت و مشقت کے لحاظ سے کسی دوسری قوم کے نوجوانوں سے کسی طور بھی کم نہیںہیں ۔ ذَرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذر خیز ہے ساقی ۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Weboy