ڈاکٹر منیر احمد ناز۔۔۔ایک عہد ایک شخصیت   


کو شائع کی گئی۔ October 13, 2020    ·(TOTAL VIEWS 80)      No Comments


تحریر عبدالحمید شفیقی
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔۔۔ کہ دانہ خاک میں مل کر گل وگلزار ہوتا ہے
ڈاکٹر منیر احمد ناز کاشمار ا ن لوگوں میں ہوتا ہے جو ایک بااصول شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ علاقے کی عوام کے لیے انتہا درجہ کی درد مندی رکھنے والے عظیم انسان تھے۔ اس کے علاوہ ازیں وہ یتیموں ، غر یبوں کی مدد کیلئے متحرک رہتے تھے”ان”’ کے رخصت ہو نے سے
حلقہ ایک بڑی سماجی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے ان کی کمی شاہد ہی پو ری ہو سکے لیکن ان کی کے بے لو ث کاوشیں ہمیشہ زندہ جا و ید رہیں گی ۔قارئین۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ 11جولائی 1958کو بنیادی سہولیات سے محروم گاوں منگنانوالہ کے محنت کش فتح محمد منگن کے گھر پیدا ہونے والا بچہ مستقبل میں تعلیمی میدان کے علاوہ عوامی فلاح کیلئے ایسے کارنامے سر انجام دے گا کہ اس کی زندگی میں تو درکنار اس کے دار فانی سے کوچ کرنے کے بعد بھی کوئی ان کارناموں کے عشر عشیر تک نہ پہنچ سکے گا تعلیمی میدان کی بات کی جائے تواس ہونہار طالب علم نے آبائی گاوں کے پرائمری سکول سے پانچویں جماعت کے امتحان میں تحصیل ٹاپ کرتے ہوئے وظیفہ حاصل کیا اور تین سال بعد آٹھویں جماعت میں بھی تحصیل ٹاپ کرکے وظیفہ حاصل کیابعد ازاں میٹرک کے سالانہ امتحانات میں سرگودھا بورڈ سے سلور میڈل حاصل کرکے اپنے آباو اجداد کا نام روشن کیا اور اس کے بعد انہوں نے ایف ایس سی کیلئے پوسٹ گریجوایٹ کالج سمندری میں داخلہ لیا اور کالج میں ٹاپ کرکے اپنی امتیازی حیثیت برقرار رکھی ایف ایس سی میں کالج کو ٹاپ کرنے اور اعلی نمبروں کی وجہ سے ان کا داخلہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں ہو گیا پچاس سال گزرنے کے باوجود ان کا تعلیمی ریکارڈ نہ ٹوٹ سکا بچپن سے لیکر کنگ ایڈورڈ کالج پہنچنے تک کسی نے ان کو کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا جب بھی دیکھا پڑھائی میں مصرو ف دیکھا تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑنے کے بعد کھیلوں کے میدان میں اترے تو کھیلوں میں ٹیبل ٹینس کو پسند کیا کچھ عرصہ کھیل کی سمجھ بوجھ اور پریکٹس کے بعد آل پاکستان میڈیکل کالجز کے درمیان ٹیبل ٹینس کی چیمپئین شپ منعقد کروانے کا سہرا بھی ڈاکٹر منیر احمد ناز نے اپنے سر باندھا اور چیمپئین شپ میں سنگل،ڈبل اور مکس چیمپئین شپ جیت کر کھیل کے میدان میں بھی اپنی دھاک بٹھا دی اورچیمپئن شپ کے لمحات کی عکاسی کرتے ہوئے ایک رسالہ بھی نکالا تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ادب سے بھی خاصا لگاو تھا اور طالب علمی کے دوران کیم کور میگزین کے چیف ایڈیٹر ہونے کے علاوہ مختلف قومی اخبارات میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہاوس جاب شروع کی ہاوس جاب کے دوران ینگ ڈاکٹر سیکھنے کے مراحل میں ہوتے ہیں مگر ڈاکٹر منیر نے اس دوران اپنی تخلیقی صلاحیت کا لوہا منواتے ہوئے ای سی جی پر کتاب لکھ ڈالی جس کا نام(فنڈا مینٹل آف الیکٹرو کارڈیالوجی )ہے جو اس وقت بھی تمام میڈیکل کالجز کی لائبریری میں موجود ہونے کے ساتھ کالجز میں ریفرنسز کے طور پر پڑھائی جاتی ہے اس کتاب کا پہلا فارورڈ خواجہ صادق حسین اور دوسرا مسعود احمد چیمہ نے لکھا اپنی جاب کے دوران 45سال کی عمر میں انہیں ڈپ کارڈ کرنے کا شوق سمایا اس کلاس میں ان کے علاوہ 21دیگر سٹوڈنٹس بھی موجود تھے جنہوں نے تازہ تازہ اپنی تعلیم مکمل کی تھی مگر جب ڈپ کارڈ کا رزلٹ آیا تو 22کی کلاس میں سے صرف ایک فرد نے کامیابی حاصل کی وہ تھے ڈاکٹر منیر احمد ناز ،مختلف جگہوں پر اپنے فراض سر انجام دینے کے بعد علاقہ کی خدمت کیلئے بھر پور وقت دینے کا فیصلہ کیا اور کنجوانی سٹی میں النور ویلفئیر ہسپتال کے نام سے علاقہ کو طبی سہولیات بہم پہنچانا شروع کر دیں اور دل کے مریض جو فیصل آباد پہنچتے پہنچتے دم توڑ جاتے تھے ان کو طبی امداد کے بعد ریفر کیا جاتا اور اس مد میں دس ہزار سے زائد ایس کے انجکشن لگا کر مریضوں کی جان بچائی ایمرجنسی کی صورت میں ڈاکٹر صاحب نے اپنی تریسٹھ سالہ زندگی میں خون کی ستر بوتلیں بھی عطیہ کیں اور ہسپتال میں ہر بلڈ گروپ کے ڈونیٹر کی مکمل لسٹ موجود ہے جس سے پتہ چل سکتا ہے کہ کس گروپ کے کتنے لڑکے ہیں اور انہوں نے کتناعرصہ قبل خون دیا تھا صحت کی سہولیات بہم پہنچانے کے ساتھ انہوں نے سوشل ورک بھی شروع کر دیا گاوں میں سہولیات کی عدم فراہمی کو دیکھتے ہوئے 1985 میں طالبات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے 19کنال زمین منظور کروائی اور میں مسز شاہین عتیق الرحمن سے اس سکول کا افتتاح کروا دیا اس کے ساتھ سوشل ویلفئیر کے لئے13کنال رقبہ مختص کروایا اور کمیونٹی سنٹر کی بلڈنگ کی تعمیر شروع کر دی اس بلڈنگ میں صرف ایک کمرہ سرکاری گرانٹ سے تعمیر ہوا جبکہ باقی تمام اخراجات ڈاکٹر صاحب نے اپنی سے ادا کئے کمیونٹی سنٹر میں ویمن پائلٹ پراجیکٹ،دستکاری سکول کے علاوہ دو نان فارمل سکول بھی چل رہے ہیں اور ان پراجیکٹ کے اساتذہ کی تمام تنخواہ بھی انہیں کی گرہ سے ادا ہوتی ہے نان فارمل سکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو احساس کمتری کا شکار ہونے اور اپنے بچوں میں احساس پیدا کرنے کی خاطر اپنے چھوٹے بیٹے کو نان فارمل سکول میں تعلیم دلوائی نان فارمل سکول میں تعلیم حاصل کرنے والا ڈاکٹر صاحب کا بیٹا میڈیکل کا تیسرا سال مکمل کرکے چوتھے سال میں قدم رکھ چکا ہے ڈاکٹر صاحب کے سوشل ورک کو دیکھتے ہوئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار احمد چوہدری نے ایک این جی او کے ذریعے انہیں گولڈ میڈل سے بھی نوازا گاوں میں بجلی کی عدم دستیابی کو دیکھا تو اس وقت کے گورنر پنجاب سوار خاں کو ایک خط لکھا اور بتایا کہ آپ کے بیٹے عمر سوار نے حال ہی میں میڈیکل کی تعلیم مکمل کی ہے آپ کو اندازہ ہو گا کہ اس میں کتنی مشکلات ہیں میں دیا ار لالٹین کی روشنی میں تعلیم حاصل کرکے اس مقام پر پہنچا ہوں ڈاکٹر صاحب کے اسی خط کی وجہ سے گاوں میں بجلی پہنچی اور سب سے پہلا میٹر انہی کا لگا اور دیگر لوگ بھی اس سے مستفید ہونا شروع ہو گئے کنجوانی کی عوام میں شعور بیدار کرنے کی خاطر صحافت کے شعبہ میں داخل ہوئے اور نوائے وقت کی ایجنسی حاصل کی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنی ٹیم میں شامل کیا اگر کہا جائے کہ کنجوانی میں صحافت کے جد امجد ڈاکٹر صاحب ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں صحافت کے شعبہ میں ان کے لگائے گئے پودے آج مختلف اخبارات میں اعلی عہدوں پر اپنے فراض منصبی ادا کر رہے ہیں 1994 میں ان سے راقم کی پہلی ملاقات ہوئی وہ دن اور آج کا دن خلوص اور محبت میں کوئی کمی دیکھنے کو نہیں ملی راقم سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک ہفتہ ملاقات نہ ہوتی تو سپیشل فون کرکے بلاتے اور علاقہ کی سیاسی و سماجی صورت حال پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ان کی خدمت خلق کا یہ عالم تھا کہ کسی بھی وقت اپنا فون بند نہ کرتے خواہ خود کی طبیعت ہی خراب کیوں نہ ہو عزیز واقارب اور اہل خانہ نے تھکاوٹ کی وجہ سے متعدد بار مشورہ دیا کہ رات کے وقت اپنا سیل فون بندکر دیا کریں ان کا کہنا تھا کہ میرے مریض دل کے مریض ہیں اور دل کے مریض کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا اسے پہلے پندرہ بیس منٹ میں ریکور کیا جا سکتا ہے اگر یہ وقت گزر جائے تو پھر کچھ بھی ممکن نہیں میری طبیعت جیسی بھی ہو میں اپنے مریضوں کا لاوارث نہیں چھوڑ سکتا جو بھی شخص ان سے ایک دفعہ ملاقات کرتا ہمیشہ کیلئے ان کا ہو جا تا ان کی وفات سے اہل خانہ پر جو غم گراں گزرا وہ تو ایک طرف اہل علاقہ بھی ان کی خدمات سے محروم ہو گیا۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی. اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

WordPress Blog