کتاب   


کو شائع کی گئی۔ January 14, 2020    ·(TOTAL VIEWS 46)      No Comments


اریبہ انصاری،کراچی
کتابیں جھانکتی ہیں بند الماریوں کے شیشوں سے….
بڑی حسرت سے تکتی ہیں…!
مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں..
جو شامیں انکی صحبت میں کٹاکرتی تھیں اب اکثر..
گزرجاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر….
بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں…!!!!
انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہوگ?ی ہے…
بڑی حسرت سے تکتی ہیں کتابیں…!!!!
جو قدریں وہ سناتی تھیں..
کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے….
وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں….
جو رشتے وہ سناتی تھیں..
وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں..
کوئی صفحہ پلٹتی ہوں تو ایک سسکی نکلتی ہے…..!!
کئی لفظوں کے معنی گرپڑے ہیں…..
بنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں سب الفاظ…..
جن پر اب کوئی معنی نہیں اگتے….
بہت سی اصطلاحیں ہیں…
جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیں…..
کلاسوں نے انہیں متروک کرڈالا……!!!!
زباں پر ذائقہ آتا تھاجو صفحے پلٹنے کا…
اب انگلی کلک کرنے سے بس ایک جھپکی گزرتی ہے….
بہت کچھ تہہ بہ تہہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر….!!!
کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا،کٹ گیا ہے…..
کبھی سینے پہ رکھ کر لیٹ جاتے تھے….
کبھی گودی میں لیتے تھے….
کبھی گٹھنوں کو اپنے رحل کی صورت بنا کر نیم سجدے میں پڑھا کرتے تھے..
چھوتے تھے جبیں سے…….!!!
وہ سارا علم تو ملتا رہے گا آئیندہ بھی…..
مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول اور مہکے ہو?ے رقعے…..
کتابیں مانگنے گرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے….
ان کا کیا ہوگا…..؟؟
وہ شاید………
وہ شاید اب نہیں ہونگے..!!!!
زیر نظر نظم ”کتابیں“ ہمیشہ میرے دل کے قریب رہی ہے، یہ دل کے تاروں کو چھوتی ہوئی گزرتی ہے اور دل میں ایک ”کسک“ سی چھوڑجاتی ہے…..!!!!دور حاضر کی ٹیکنالوجی کمپیوٹر،انٹرنیٹ وغیرہ نے کتاب کو بہت پیچھے چھوڑدیا ہے…..اس نظم کو مرثیہ کہنا غلط نہ ہوگا…….دور حاضر، روز روز ہونے والی ایجادات، آج کی نسل کو دیکھتے ہوئے بجا طور پر یہ کہا جاکتا ہے کہ:کاغذ کی یہ کشش ۔یہ نشہ ٹوٹنے کو ہے. .. ..!!یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی..!!دور جدید کا انسان کتاب کی اہمیت کیسے سمجھ سکتا ہے؟؟اسے کیا معلوم کے کاغذ کے یہ ٹکڑے کس طرح وجود میں آئے….؟اسے تو آئے روز ایجاد ہونے والی نت نئی مشینوں سے لگائہے….!!میں آپکو بتاتی ہوں کے یہ کاغذ کے ٹکڑے کس طرح تخلیق ہوئے،لیکن اسکے لیے ہمیں تاریخ میں جھانکنا ہوگا….!!!!105 میں کاغذ کی ایجاد کا سہرا ”تسائی لن“ نامی شخص کےسر جاتا ہے جسکا تعلق چین سے تھا، اس نے مختلف اشیا۶ (کپڑے،مچھیروں کے بوسیدہ جال و دیگر مواد)کی مدد سے کاغذ تیار کیا جسکی جدید شکل موجودہ کاغذ ہے۔۔تقریباً سات سو سال تک باقی دنیا اسکی تیاری سے ناواقف رہی، تاریخ میں مزید پیچھے جائیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کے سب سے پہلے انسان نے لکھنے کے لیے جو چیز استعمال کی وہ کلے ٹیبلیٹس یعنی ”مٹی کی تختیاں“ تھیں۔جن پر نوک دار اشیا۶ سے تحریر کرکے انہیں دھوپ میں سکھا کر محفوظ کرلیا جاتا تھا، اسکے بعد جو چیزیں لکھنے کے لیے استعمال ہوئیں ان میں پیپائرس،پارچمنٹ،ولیم وغیرہ شامل ہیں۔۔ان تمام اشیا۶ پر لکھنے سے پہلے انسان پکٹوگرافی (مختلف تصاویر اور خاص قسم کے نشانات) اور آئیڈیو گرافی (اشاروں کی ذبان) کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہچاتا تھا،قدیم کلے ٹیبلیٹس سے لے کر موجودہ کاغذ تک کا سفر ایک انتہائی لمبا اور کٹھن سفر ہے جسکے بارے میں باقاعدہ ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے، یہ سفر اس بات کی دلیل ہےکے انسانی ترقی کا سفر رکتا نہیں ہے وہ ہمیشہ بہتر سے،بہترین کی تلاش میں سرگرم رہتا ہے۔۔626 ق م سے باقاعدہ کتاب اور کتب خانوں کی تاریخ شروع ہوتی ہے،پہلا کتب خانہ بادشاہ آشور بنی پال نے نینوا کے قریب قا?م کیا، دوسرا کتب خانہ اسکندریہئیبریری کو کہا جاسکتا ہے۔۔یہ بات حیران کن ہے کے اس دور میں لوگ کتابوں سے محبت اور لگاو رکھتے تھے،لیکن اس وقت کے کتب خانوں سے استفادہ حاصل کرنا تو دور کی بات عام آدمی وہاں قدم بھی نہیں رکھ سکتا تھا،اور آج کا انسان اس قدر عظیم لائیبریریز کی موجودگی میں بھی مطالعہ کرنا گوارہ نہیں کرتا۔۔کسی فلسفی کا قول ہے”اگر کسی قوم کو برباد کرنا ہو تو اس قوم کے کتب خانے جلادو“تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کے دنیا میں ان ہی قوموں نے ترقی کی جنہوں نے کتاب سے دوستی کی ہے۔۔کتاب انسان کی بہترین دوست،ہمراز اور ساتھی ہے۔۔مطالعے کو اپنی روز مرہ کی ذندگی کا حصہ بنالیں،یہ کتاب ہی ہے جو ایک انسان میں حیران کن تبدلی اور شعوری بیدراری پیدا کرتی ہے،…
میری نظر میں کتابیں کسی ”خزانے“ سے کم نہیں….۔ ایک بات پیش نظر رہے کے مطالعے کےلی? ہمیشہ ”معیاری کتب“ کا انتخاب کیجی?۔۔کیونکہ ہر چیز اچھی بری چیز کو پڑھ لینا مطالعہ نہیں کہلاتا….!!
حرف آخر کے طور پر ایک شعر پیش کرنا چاہونگی جو حقیقت سے قریب تر اور میرا پسندیدہ ہے….کتابیں تم سے اچھی ہیں..!!کے جس موضوع پہ میں چاہوں..!!یہ مجھ سے بات کرنی ہیں….!!آج کے انسان کو چاہیے کے کتاب کو اپنی ذندگی کا اہم حصہ بنائیں تب ہی ہم اس دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکتے ہیں..!!

Readers Comments (0)




WordPress Themes

WordPress Themes