کسانوں کے احتجاج کی وجوہات   


کو شائع کی گئی۔ March 16, 2021    ·(TOTAL VIEWS 46)      No Comments


تحریر:۔۔۔چوہدری فیصل جاوید
ملک پاکستان میں پہلے بھی کسان معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ مہنگے داموں بیج، کھاد، زرعی آلات، ڈیزل اور سپرے خرید کر بھی اسے زرعی اجناس کی مناسب قیمت نہیں ملتی۔ زرعی ٹیوب ویل کے بجلی کے بلوں کے معاملے سے بھی سبھی بخوبی واقف ہیں۔ پاور ڈویژن نے آئے روز الگ تماشہ لگایا ہوتا ہے۔ اوور بلنگ کے ستائے کسان آئے روز سڑکوں پر احتجاج کرتے دیکھائی دیتے ہیں مگر انتظامیہ اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ آج تک اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیا گیا۔ واپڈا کو کسانوں پر شب و خون مارنے کے ناقابل تنسیخ لائسنس دیئے ہوئے ہیں۔ کنکشن کاٹنے، ٹرانسفارمر اتارنے کی دھمکیاں لگا کر اور بلیک میل کر کے کسانوں سے بھاری بھرکم بل ادا کروائے جاتے ہیں جن کی آج تک تصیح نہیں کی گئی۔ بجلی کے بلوں میں جنرل ٹیکس، انکم ٹیکس، فکسڈ چارجز اور ایف پی اے کا نفاذ کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ پھر زرعی بجلی کے نرخ فی یونٹ 1.60 روپے بڑھا کر حکومت نے کسانوں پر بجلی بم دے مارا۔ ڈیزل کی قیمت بھی برق رفتاری سے ڈبل سینچری کی طرف گامزن ہے۔ دھان، کپاس، کماد و دیگر فصلوں کی کاشت اور گندم کی برداشت کا وقت قریب تر ہے تب تک شاید ڈیزل ڈبل سینچری بھی کراس کر جائے۔ عام مشاہدے سے یہ بات ثابت ہے کہ گرمیوں میں زرعی شعبے میں ڈیزل کی لاگت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ جس کے دوران ڈیزل کا مہنگا ہونا مطلب کسانوں کا معاشی قتل کرنے کے مترادف گردانا جاتا ہے۔ اس ساری صورتحال کو بھانپتے ہوئے فرٹیلائزر کمپنیوں، پیسٹی سائیڈ کمپنیوں، زرعی آلات تیار کرنے والی ورکشاپوں، سیڈز کارپوریشنوں اور انکے ڈیلروں نے بھی جلتی آگ پر پٹرول چھڑک کر اپنے ہاتھ خوب سینکے۔ کسانوں کا خون نچوڑنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ کسانوں کو کبھی نقصان سے ڈرا دھمکا کر تو کبھی زیادہ پیداوار کا لالچ دیکر لوٹنے میں، اپنی عاقبت برباد کرنے میں اور بھولے بھالے کسانوں کی سسکیاں بھری آہوں اور بد دعا¶ں کو سمیٹنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کھیل کو دیکھ کر پسماندہ علاقے سے آئے ایم پی اے (موجودہ وزیر اعلی پنجاب) عثمان بزدار خوب لطف اندوز ہوئے۔ انہیں اس کھیل کو سمجھنے میں کم و بیش 3 سال کا عرصہ لگا۔ جب کھیل کی تمام چالوں سے واقف ہو گئے البتہ تجربہ کار کھلاڑی بن گئے تو انہوں نے بھی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ سب سے آسان ہدف والی ٹیم کسان کے مد مقابل ٹیکسز کو بڑھانے کی اننگز کھیلنا شروع کی اور 2020 کی کامیاب معاملہ آبیانہ ٹیکس سیریز جیتنے کے بعد 2021 میں ایک بار پھر انہوں نے اپنے سابقہ آسان حریف کو دوبارہ معاملہ آبیانہ بڑھانے پر ٹارگٹ کرنے کا پلان ترتیب دیا۔ بیچارہ کسان ملک بھر کی عوام کی نسبت دوگنا مہنگائی اور بے روزگاری سے پہلے ہی تنگ تھا۔ رہتی کسر بزدار حکومت بلکہ بیکار حکومت نے زرعی بجلی کے فی یونٹ نرخ بڑھا کر، جنرل ٹیکس کو بل میں ضم کر کے، فکسڈ چارجز لگا کر، بلوں میں ایف پی اے بڑھا کر، بلوں میں ہیوی انکم ٹیکس لگا کر، زرعی انکم ٹیکس لگا کر، معاملہ آبیانہ بڑھانے اور گندم کا ریٹ نہ بڑھانے کا فیصلہ کر کے نکال دی۔ دوگنا تنگ اس لیئے کہ ایک تو تمام لوگوں کی طرح ضروریات زندگی کی اشیاءمہنگے داموں خریدنے اور دوسرا زرعی مداخل مہنگے داموں خریدنے سے۔ ان حالات کے ستائے کسانوں کے احتجاج بھی آپ سب نے دیکھے ہیں۔ اب کسانوں پر ایک اور حملہ کرتے ہوئے حکومت نے نہری پانی پر عائد معاملہ آبیانہ بڑھانے کے لئے محکمہ خزانہ کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔ حکومت نہری پانی کے استعمال پر معاملہ آبیانہ مزید بڑھائے گی۔ بھارت کے بعد پاکستان میں بھی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف کسانوں نے چند روز پہلے بھی لاہور کے مقام پر احتجاج کیا تھا جس میں پولیس نے ان پر لاٹھی چارج اور واٹر کینن کے ذریعے زہریلے کیمیکل والے پانی کا کھلے عام استعمال کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں متعدد کسان زخمی ہوئے تھے۔ سینکڑوں کسانوں کو پولیس نے ناجائز اور غیرقانونی حراست میں لے لیا تھا۔ اس دوران پولیس اور انتظامیہ کے بد ترین تشدد سے ایک کسان جان کی بازی ہار گیا تھا۔ جس کو آج تک انصاف نہیں ملا اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کیا گیا اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔ پورے ملک کو کھلانے والے کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کیلئے سڑکوں پر دھکے کھانے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ کسان پہلے ہی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں اور بے جا ٹیکسوں سے تنگ ہیں۔ واضح رہے کہ کسانوں نے ابھی تک صرف پرامن احتجاج کیا ہے اگر کسانوں نے صرف ایک دن کی ہڑتال کر دی تو یہ حکومت 100 سالوں میں بھی ملکی معیشت کو ہونے والے نقصان کا ازالہ نہیں کر پائے گی۔ پورا ملک جام ہو جائے گا۔ کوئی مل، فیکٹری، کارخانہ، بازار، منڈی یا گھر کسانوں کی ہڑتال سے متاثر ہونے سے بچ نہیں پائے گا۔ میں کسی بھی طور دھمکی نہیں دے رہا اور نہ ہی کسی کو ہڑتال کرنے کا کہہ رہا ہوں۔ صرف حقائق سے آگاہ کر رہا ہوں۔ اللہ نہ کرے کہ کسان اس حد تک مجبور ہو جائیں کہ انہیں اپنے حقوق لینے کیلئے احتجاج کی بجائے ہڑتال کرنے کا اعلان کرنا پڑے۔ ابھی حال ہی میں کسان سینکڑوں ٹریکٹر لے کر ناقص بیج ملنے، بجلی کے بھاری بلوں، میٹر اور ٹرانسفارمر اتارے جانے کی دھمکیوں اور گندم کا ریٹ نہ بڑھانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے تحصیل آفس عارفوالا پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے واپڈا اور حکومت کے خلاف اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس دوران سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی واپسی کیلئے بھی ٹریکٹروں پر بینر لگے دکھائی دیئے۔ جو پنجاب حکومت کیلئے اور پاکستان تحریک انصاف کیلئے اگلے الیکشن میں ناکامی کی وجہ بن سکتے ہیں۔ خیر یہ ایک الگ ٹاپک ہے۔ میں اپنے موضوع پر آتا ہوں۔ مستقبل قریب میں صوبائی دارالحکومت لاہور اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کی بھی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جنکی تاریخوں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ جب میری کسان رہنما?ں سے اس سلسلے میں بات چیت ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر ہمارا احتجاج پنجاب حکومت، وفاقی حکومت اور واپڈا کے خلاف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں ناجائز ٹیکس لگا کر بجلی کے استعمال سے کئی گنا زیادہ بل بھیجے جار ہے ہیں۔ حکومت نے پرانی رکی ہوئی وصولیاں کرنے کا بھی اچانک فیصلہ کرلیا ہے۔ جن کی فوری ادائیگی ممکن نہیں۔ عدم ادائیگی پر بجلی کے میٹر اور ٹرانسفارمر اتارے جا رہے ہیں۔ اس وقت گندم کی فصل انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جسے اب پانی کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن ہمارے کنکشن منقطع کیے جارہے ہیں۔ جس کی وجہ سے گندم کی پیداوار مناسب وقت پر آبپاشی نہ ہونے سے شدید متاثر ہو گی۔ جسکی صورت میں ہمیں مالی نقصان ہو گا اور ملک کو بھی گندم کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہاں پر میری ذاتی رائے ہے کہ اگر حکومت بجلی کے بل قسطوں کی صورت میں وصول کر لے تو نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ اور بقایا جات کی وصولیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ کسانوں سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ وہ پانچ ہزار روپے کی بجلی استعمال کرتے ہیں اور انہیں 35000 روپے کا بل آتا ہے۔ زرعی مداخل کے مہنگے ہونے کی وجہ سے کسان بیچاروں کے بچوں کی روزی روٹی بھی پوری نہیں ہو پا رہی۔ پنجاب کے کسانوں کا معاشی استحصال بھی کیا جا رہا ہے۔ جس سے حکومت اپنا ووٹ بینک آہستہ آہستہ کھو رہی ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا ہے۔ جسے سمجھنے والے بخوبی سمجھ جائیں گے۔ گندم کے نرخ سندھ میں سندھ حکومت نے تو بڑھا دیئے ہیں لیکن پنجاب میں نہیں بڑھائے گئے۔ یہاں یہ بات میں واضح کر دوں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت یکساں ریٹ لاگو نہ کر کے جہاں اپنی مقبولیت کھو رہی ہے وہیں گندم کی سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور قلط کی راہ بھی ہموار کر رہی ہے۔ جسے بعد میں کثیر زرمبادلہ خرچ کر کے مہنگے داموں روس اور یوکرائن سے گندم درآمد کرنی پڑے گی۔ جس کی تمام ترذمہ داری حکومت کی ہو گی۔ یہاں یہ امر بھی واضح کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ پنجاب کے کسانوں کو بیج بھی دو نمبر فراہم کیے جا رہے ہیں، کھاد کی بات کریں تو نائٹروفاس کی بوری 3800 روپے، یوریا 2000 جبکہ ڈی اے پی 5500 روپے میں مل رہی ہے۔ مکئی کا بیج بھی دو نمبر ہے۔ جسے کسانوں کو بلیک میں مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ گرمیوں کے آنے سے پہلے ستو پی کر سوئی ہوئی ہے۔ محکمہ زراعت کی تو بات کرنا بھی فضول ہے کیونکہ یہ ایسا ادارہ ہے جو کسانوں کے نام پر لوٹ مار کر رہا ہے۔ اور ازل سے خواب غفلت میں مبتلا ہے بلکہ کومے میں مدہوشی کی نیند سویا ہوا ہے۔ مارکیٹ میں کیا ہو رہا ہے اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں۔ البتہ یہ دھان کی برداشت کے بعد پچھلے سال دھان کی باقیات کو آگ لگانے کی وجہ سے کسانوں سے لوٹ مار کرنے کیلئے جاگتا ہوا دیکھا گیا ہے۔ کسان سے گنا اور گندم سمیت تمام اجناس سستی خرید کر بعد میں چینی اور آٹا انتہائی مہنگے داموں بیچا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے غریب کسان اور غریب عوام اپنے بچوں کا پیٹ تک پالنے سے قاصر ہو چکی ہے۔ کسان اور عوام دشمن ذخیرہ اندوز لوگ اس وقت حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جو پورے ملک کا اناج خرید کر مصنوعی قلت پیدا کر دیتے ہیں اور پھر مہنگے داموں بیچ کر منافع کماتے ہیں۔ جس کی مثال پچھلے دو سالوں میں پورے پاکستان نے دیکھی ہے۔ غریب کسان تو مہنگائی سے مر رہا ہے۔ لیکن غریب کسان کی کاشت کی ہوئی گندم اور گنے سے حکومت میں بیٹھے وزیر مشیر کھربوں روپے کما رہے ہیں۔ مجھے ٹریکٹروں پر ایسے بینرز بھی لگے دکھائی دیئے ہیں جن پر پنجاب کے کسانوں کی طرف سے لاہور اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا عندیہ دیا گیا ہے۔ 31 مارچ کو ایک بار پھر سڑکوں پر سرکس لگے گی۔ حکومتی ادارے اور انتظامیہ پھر آنسو گیس، زہریلے کیمیکل والے پانی اور ڈنڈوں سوٹوں سے کسانوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کرے گی لیکن اب کی بار نتیجہ کچھ اور نکلے گا۔ انڈیا میں کسانوں کے احتجاج پر تو حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم عمران خان کہتے تھے یہ ان کا حق ہے۔ لیکن پھر اسی دور حکومت میں پاکستان میں کسانوں کے احتجاج پر لاٹھی چارج کروایا گیا، آنسو گیس کے شیل مارے گئے۔ کیونکہ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس شیل بہت زیادہ موجود ہیں اور ہم ایسے احتجاج پر ان کی ٹیسٹنگ کر لیتے ہیں۔ حکومت کسانوں کو بجائے سہولیات دینے کے استعمال کیے جانے والے نہری پانی پر عائد معاملہ آبیانہ مزید بڑھانے پر تلی ہوئی ہے۔ اللہ ہی حافظ ہے اس ملک کے کسانوں کا۔ وہ وقت دور نہیں کہ جب کسانوں کو احتجاج کی بجائے ہڑتال کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ اللہ پاک کسانوں کا حامی و ناصر ہو آمین!

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Free WordPress Themes