کشمیر ہماری شہہ رگ ، اس کیلئے کوئی بھی قدم اور کسی بھی انتہا تک جائیں گے چاہے کوئی بھی قیمت دینی پڑے : آصف غفور   


کو شائع کی گئی۔ September 4, 2019    ·(TOTAL VIEWS 25)      No Comments

راولپنڈی (یواین پی )ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کشمیریوں کے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج جدوجہد آزادی میں کشمیری عوام کے ساتھ ہیں.ان کا کہنا تھاکہکسی بھی ملک کی افواج اس کی خودمختاری اور سلامتی کی محافظ ہوتی ہیں ، قومی طاقت کے دوسرے عناصر جو میں نے آپ کو دکھائے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کو روکنے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوہتے تو جنگ ہماری خواہش نہیں بلکہ مجبوری ہو جائے گی ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے ، اس کیلئے ہم کوئی بھی قدم اور کسی بھی انتہا تک جائیں گے خواہ اس کی ہمیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ، پاکستانی ، پاکستانی عوام ، حکومت اور افواج پاکستان پر عزم ہیں اور رہیں گے آخری گولی ، آخری سپاہی تک، انشاءاللہ ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بہادر کشمیریوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آزادی کی اس جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہماری سانسیں آپ کے ساتھ چلتی ہیں، 72 سال آپ نے بھارتی دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، آپ کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی جیسے ناپسندیدہ عمل سے تابیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کے مشرق میں ایک ایسا ملک ہے جس کے خطے کے بڑے پلیئرز کے ساتھ معاشی مفادات جڑے ہیں۔ہمارے شمال میں دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت چین ہے، جس کے بھارت کے ساتھ کچھ اختلافات موجود ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمارے مغرب میں افغانستان ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں کا مرکز رہا ہے جبکہ جنوب مغرب میں ایران موجود ہے جس سے ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں لیکن مشرق وسطیٰ کے ماحول کی وجہ سے اس ملک کو مسائل درپیش ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے ، اس کیلئے ہم کوئی بھی قدم اور کسی بھی انتہا تک جائیں گے خواہ اس کی ہمیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ، پاکستانی ، پاکستانی عوام ، حکومت اور افواج پاکستان پر عزم ہیں اور رہیں گے آخری گولی ، آخری سپاہی ، انشاءاللہ ۔ان کا کہناتھا کہ اب انڈیا اور باقی دنیا پر ہے کہ وہ اپنی چوائس کر لیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر کوئی سودے بازی نہیں ہوئی ، یہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی ڈیل ہو سکتی ہے ، کشمیر ہماری جان سے زیادہ قریب ہے ۔بھارت کو بتاناچاہتاہوں جنگیں ہتھیاروں اور معیشت سے نہیں لڑی جاتیں ، جنگیں حب الوطنی ، عوام کے اعتماد اور سپاہ کی قابلیت پر لڑی جاتی ہیں ، عزت اور وقار کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ، آپ کو 27 فروری کو یاد رکھنا چاہیے ، اگر ایسی کوشش کی تو سکواڈرن لیڈر حسن اور ونگ کمانڈر نعمان جیسے شاہین بالکل تیار بیٹھے ہیں ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ پاکستان نے گزشتہ چالیس سالوں خصوصی بیس سالوں میں دہشتگردی کے ناسو ر کا ہم سب نے مل کر بہادری سے مقابلہ کیا ہے ، اس دوران بھارت نے دہشتگردی کیخلاف جنگ سے ہماری توجہ ہٹانے کی کوششیں کیں ، ہم واحد ملک اور افواج ہیں جنہوں نے ان تمام چیلنجز کا سامنا کیا ، ہم نے خطے کے امن کیلئے بھی اپنا کردار ادا کیا ۔چند سالوں کے حالات پر نظر ڈالیں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کی جگہ نہیں ہوتی ۔ان کا کہناتھا کہ افغانستان میں امن ہوتا ہے تو مغربی سرحد پر تعینات 2 لاکھ فوج میں پہلی کمی ہو گی پھر تعیناتی ختم کر دی جائے گی اس کو دیکھتے ہوئے بھارت سوچ رہاہے کہ ہماری فوج یہاں سے فارغ ہو جاتی ہے تو کیا وہ انڈیا کیلئے خطرہ بن سکتی ہے ، انڈیاکا ڈیزائن ہے کہ پاکستانی فوج وہاں سے فارغ ہو تو کوئی ایسا کام کردیں تا کہ پاکستان بھر پور جواب نہ دے سکے ۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خطے کے امن کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے، مودی حکومت نہرو کے نظریے سے منہ موڑ چکی ہے اور نازی نظریے پر قائم ہے، یہ وہی نظریہ ہے جس نے گاندھی اور گجرات میں مسلمانوں کو قتل کیا، بھارت میں مسلم اور دیگر اقلیتیں ہندو انتہا پسندی کی سوچ کی شکار ہیں، پاکستان نے پچھلے بیس سال میں دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیا، اس دوران بھارت نے ہماری توجہ ہٹانے کیلئے مشرقی سرحد پر بلااشتعال کارروائیاں کیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں وہاں فاشسٹ مودی کی حکومت ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خطہ امن کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن بھارت اس وقت نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ وہاں کی صورتحال خراب ہے، وہاں نسل کشی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ لڑنا جنگ کا حصہ ہے، تاہم اس سے قبل ملک کے دیگر عوامل جس میں سفارتکاری، معیشت قانون، انٹیلی جنس اور معلومات کا رد عمل چلتا رہتا ہے۔

کسی بھی ملک کی افواج اس کی خودمختاری اور سلامتی کی محافظ ہوتی ہیں ، قومی طاقت کے دوسرے عناصر جو میں نے آپ کو دکھائے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کو روکنے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوہتے تو جنگ ہماری خواہش نہیں بلکہ مجبوری ہو جائے گی ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے ، اس کیلئے ہم کوئی بھی قدم اور کسی بھی انتہا تک جائیں گے خواہ اس کی ہمیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ، پاکستانی ، پاکستانی عوام ، حکومت اور افواج پاکستان پر عزم ہیں اور رہیں گے آخری گولی ، آخری سپاہی ، انشاءاللہ ۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سفارتی سطح پر پاکستان کشمیر کا معاملہ 50 سال بعد سلامتی کونسل میں لے کر گیا جو بڑی کامیابی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم عمران کان نے تقریباً 13 ممالک کے سربراہان سے بات چیت کی ہے اور نہیں کشمیر کے بارے میں آگاہ کیا۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ جو مسئلہ پہلے دبا ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے آرہا ہے اور دنیا اس معاملے کو اپنے سامنے رکھ رہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت ثالثی کی پیشکش کو قبول نہیں کرتا تو پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں کس چیز پر بات کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ثابت قدم رہیں ، آزادی کی جدوجہد بہت لمبی ہوتی ہے ، پاکستان کی آزادی کی جدوجہد 1974 میں شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ1857 سے شروع ہو ئی تھی ، اتنی لمبی جدو جہد کر کے پاکستان حاصل کیا ، کشمیر کیلئے بھی خواہ اس کا حل کل ہوتاہے، ہماری عمر میں ہوتا ہے یا عمر کے بعد ہوتاہے ،اس جدوجہد میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور نہ ہی کوئی کمی ہو گی۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Free WordPress Themes