کہیں ڈوب نہ جانا ہوسِ زر کے سمندر میں   


کو شائع کی گئی۔ February 11, 2021    ·(TOTAL VIEWS 42)      No Comments


تحریر۔۔۔ رشید احمد نعیم
ٓ ایک تھالکڑ ہارا۔جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر بڑی مشکل سے اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ایک دن لکڑیاں کاٹتے کاٹتے سوچنے لگا کہ زندگی اس ڈھب سے کیسے گزرے گی؟اچانک اسے ”لکڑہارے کی دیانت داری“والی کہانی یاد آئی جوبچپن سے اس نے اپنے دادا سے سنی تھی۔ٹھیک طریقے سے یاد نہ تھی ذہن پر زور دیا تو کچھ کچھ یاد آنے لگی۔اس کہانی میں چونکہ دریا کا ہونا ضروری تھا اس لیے دریا کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ جنگل سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر دریا ہے دوسرے دن علی الصبح دریا پر کلہاڑا ڈبونے کا منصوبہ بنایا۔بیوی کوہم راز بنا لیااور کہا کہ کسی سنار سے بات کر رکھے جو اچھے اور نقد دام دے سکے کم از کم اتنے کہ گلبرگ میں جا کر کوٹھی بنا سکیں۔اگلے دن صبح سویرے دریا پر خوشی خوشی پہنچا اور پہنچتے ہی چھپاک سے کلہاڑا دریا میں گرا دیا اور لگا زور زور سے رونے۔کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھ لیتا کہ فرشتہ آکر واپس نہ چلا جائے۔تھوڑی دیر بعد کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا بہت خوش ہوا،مڑ کر دیکھا تو ایک فرشتہ پولیس کی وردی زیب تن کیے کھڑا تھا۔حیرت ہوئی کہ فرشتے کیونکر پولیس کی وردی پہننے لگے۔بہر حال یہ نظامِِ قدرت تھا جس میں دخل اندازی کا اسے کوئی حق نہ تھا۔وردی پوش فرشتے نے پوچھا اس وقت دریا کے کنارے کھڑا کیوں رو رہا ہے۔بتایا کہ غریب لکڑہارا ہوں،لکڑیاں کاٹ کر بیوی بچوں کو پالتا ہوں۔آج یہاں اس جگہ لکڑیاں کاٹنے لگا تھا کہ کلہاڑا دریا میں گرگیایہی واحد ذریعہ آمدن تھا اب میں کیا کروں گا یہ بتا کر زور زور سے رونے لگا۔وردی پوش فرشتے نے کہا”ابے تیرا دماغ تو نہیں چل گیایہاں کون سا درخت ہے؟ جس سے لکڑیاں کاٹ رہے تھے، یہاں تو دور دور تک کوئی درخت نہیں مجھے تو تم مشکوک آدمی لگ رہے ہوآج کل یہاں بہت ڈکیتیاں ہورہی ہیں۔تم کوئی ڈکیت تو نہیں ہو؟ چلو میرے ساتھ پولیس چوکی“لکڑ ہارے کو احساس ہوا کہ وہ کہانی کے غلط پلاٹ کے ساتھ غلط جگہ پھنس گیا ہے۔بہت کوشش کی اپنی صفائی دینے کی مگر فرشتہ اسے جکڑ کر پولیس چوکی لے گیا۔وہاں اور فرشتے بھی موجود تھے انھوں نے خوب دھلائی کی۔ کہانی کا درست نتیجہ حاصل کرنے کے لیے کہانی کے درست کوائف،محلِ وقوع،پلاٹ اور بالخصوص کرداروں کا صحیح علم ہونا ضروری ہے۔کیونکہ کہانی کے درست کوائف، محلِ وقوع،پلاٹ،مناسب وقت اور کرداروں کے صحیح علم کے بغیر جوکوئی کام بھی کیا جائے اس کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے
مولوی فضل الرحمن!
اس کہانی کو غور سے پڑھیے! اس میں آپ اور آپ کے ہم خیال سیاستدانوں کے لیے فکر انگیز سبق ہے
پاکستانی عوام کی ہر دلعزیز آرمی کے بارے میں آپ کے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ2014 میں عمران خان کے دھرنے کے موقع پر آپ نے”جو انئٹ اسمبلی سیشن“میں ”سٹیٹیس کو“ کو یکجا کر کے جو سونے کا کلہاڑا حاصل کر لیا تھااس کی چمک دمک سے آپکی آنکھیں ابھی تک چندھیائی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے آپکو صاف دکھائی نہیں دے رہا ہے اور آپ حالات و واقعات،زمینی حقائق اور موقع ومحل کی نزاکت کا ادراک کیے بغیر لب کشائی کر رہیں سونے کے کلہاڑے کی مزید طلب آپکو بے چین کیے ہوئے ہے مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ سونے کے دوسرے کلہاڑے کے حصول کی خواہش میں اپنا سب کچھ ”با وردی فرشتوں“ کو دے بیٹھیں خدا کے لیے اس عوام پر رحم کریں۔گڈ گورنس کی صورتِ حال کو بہتر ہونے د دیں۔احتساب کے عمل کو جاری وساری رکھنے رہنے میں اپنا اہم کردار اداکریں کیونکہ عوام جینا چاہتی ہے۔ان کے منہ سے روٹی کا نوالہ نہ چھینیں۔لوگوں کو امن وامان کی بہتر صورتِ حال چاہیے،چادر اور چاردیواری کا تحفظ چاہیے،تعلیم و تربیت کی سہولت چاہیے،عوام صحت جیسی بنیادی ضرورت سے مستفید ہونا چاہیتی ہے،روزگار چاہتی ہے،منہ زورمہنگائی کا توڑ چاہتی ہے۔اور یہ سب اس وقت ممکن ہے جب آپ سمیت تمام سیاستدانوں کی نیت میں اخلاص پیدا ہوگا اور آپ سب خلوصِ نیت سے عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں گے ورنہ سونے کے کلہاڑے جمع کرنے کا شوق منزل سے دوری کا سبب بھی بن سکتا ہے ویسے بھی میں نے جب سے ہوش سنبھالاہے۔مولوی فضل الرحمن المعروف مولوی ڈیزل والا کے بارے میں میڈیا اور عوام میں یہی تاثر پایا جاتاہے کہ نام نہاد خود ساختہ اسلامی لیڈر، ڈیزل پرمٹ پر بک جانے والا،وزارت کی ہڈی پر حکومتوں کی حمایت اور مخالفت کرنے والا، مدارس کی مالی اور افرادی قوت کے بل بوتے پر دین اسلام کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے والا،اپنی نام نہاد دینی حیثیت سے حکومتوں کو بلیک میل کرکے ناجائز رُوڑے اٹکا کر اپنے گھناونے عزائم پورے کرنے والاہے اور اب پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کی صورت میں اس مولوی کے بارے میں قوم کی معلومات میں مزید اضافہ ہواہے کہ مولوی فضل الرحمن کی سرپرستی میں دینی مدارس کا ایک بڑانیٹ ورک کام کررہاہے۔اِن مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والے نسل در نسل مولوی فضل الرحمن اور اُن کے خاندان کے پیروکار چلے آرہے ہیں اور اِن سب کی معاشی ضروریات بھی کسی نہ کسی طر ح مولوی فضل الرحمن سے وابستہ ہیں۔مولوی فضل الرحمن نے کمال ہوشیاری اور مکاری سے اِس نیٹ ورک کو ”مافیا“میں تبدیل کررکھا ہے اور اِن مدارس میں زیر تعلیم طلباء کو ہر اُس تعلیم سے دور رکھا ہوا ہے جس تعلیم سے اِن میں شعور آجائے اور وہ محدود دینی ودنیاوی تعلیم سے نکل کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے قومی دھارے میں شامل ہوجائیں کیونکہ مولوی فضل الرحمن کو خوف ہے کہ اگریہ لوگ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اِن میں شعور آگیا تو پھر یہ لوگ اس کی حقیقت اور اصلیت جان جائیں گے جس کے نتیجے میں مدارس نیٹ ورک پر اس مولوی کی گرفت کمزور پڑجائے گی اور پھر مولوی فضل الرحمن اور اس جیسے ڈرامے باز مولویوں کا کیا بنے گا۔ پی ڈی ایم کے احتجاجی جلسوں میں شامل ہزاروں انسانی بت بغیرسمجھے مولوی فضل الرحمن کی ہاں میں ہاں ملاتے اور نعرے لگاتے اپنی محدود تعلیم کی گواہیاں دے رہے ہوتے ہیں۔کرپٹ اور مسترد شدہ مفاد پرست سیاستدانوں کے جھرمٹ میں کنٹینر پر کھڑے ہوکر مولوی فضل الرحمن کا اندازبیان عالم دین کی بجائے ایک ”مافیا“کے سرغنہ ”ٹھاکر“اور”گبرسنگھ“کا ہوتا ہے جو پاک فوج جیسے باوقار قومی ادارے کودشمن کے انداز میں للکارتے ہیں اور خود کو تمام سلامتی کے اداروں سے زیادہ طاقتور شو کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مولوی فضل الرحمن کے فلمی ڈائیلاگ اگر حقیقت کا روپ دھار لیں توعمران خان کی حکومت کے ساتھ ساتھ مولوی فضل الرحمن کی سیاست بھی ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائے گی۔ مولوی فضل الرحمن صاحب!عمران خان میں یقیناًبہت سی خامیاں اور کمزوریاں ہوں گی مگراُن کے مالی کرپشن سے پاک ہونے پرکہیں کوئی سوال نہیں اُٹھا،اُس کے برعکس یہ تاثرعام ہے کہ آپ نے زندگی میں کبھی حلال کا لقمہ کھانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی،حلال کھانے والا عام مسلمان حرام کھانے والے خود ساختہ عالم دین سے کہیں بہتر ہے۔اپوزیشن قیادت کو تو مولوی فضل الرحمن نے اپنے ساتھ کنٹینر پر لاکھڑاکیامگر اِن بڑی جماعتوں کے کارکنان نے اپنی قیادت کے اِس بھونڈے اور احمقانہ فیصلے کو قطعاًقبول نہیں کیاکیونکہ وہ مولوی فضل الرحمن کی بُری شہرت سے بخوبی آگاہ ہیں۔یہ بھی وقت کی ستم ظریفی ہے کہ 2014میں جب عمران خان کنٹینر پرسوارتھا آپ سب پارلیمنٹ اورجمہوریت کی بالادستی کے لیے ایک ہوگئے تھے اور اب عمران خان حکومت میں ہے تو آپ سب لشکروں اور جتھوں کی حمایت میں ایک ہوگئے ہیں۔دین کے حوالے سے مولوی فضل الرحمن کا ریکارڈ انتہائی مایوس کن اور شرمناک ہے جبکہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے مولوی فضل الرحمن کی کارکردگی قابل مذمت ہے۔البتہ دین کے نام پرذاتی مفادات کے حصول میں مولوی فضل الرحمن کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ مولوی فضل الرحمن کی شخصیت شراب کی اُس بوتل کی مانند ہے جس پر جام شیریں کا لیبل لگاہواہے۔آج اگر مولوی فضل الرحمن کی قیادت میں مسلک دیوبند کے لوگ اقتدار کے بھوکے چند سیاستدانوں کو اپنا ہمنوا بناکر ایک جمہوری حکومت گرانے میں کامیاب ہوگئے توپھر آنے والے وقتوں میں اہلحدیث،اہلسنت،قادیانی یا اہل تشیع بھی اِن کی ڈگر پر چلتے ہوئے اِسی طرح کے جنونی لشکر اور خونی جتھے بناکر یہ گھناؤنا کھیل کیوں نہ کھیلیں گے؟؟؟۔جن کے آباؤجداد نے مبینہ طور پر قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی آج اُن کی اُولادیں استحکام پاکستان کی مخالفت میں احتجاجی تحریک چلانے میں مصروف ہیں۔مولوی صاحب! کوئی شرم کرو، کوئی حیاء کرو۔، کوئی عقل سے کام لو۔سرکاری بنگلہ کی جدائی میں اس پڑنے والے پاگل پن کاعلاج ہوش سے کریں جوش سے نہیں کیونکہ تمہاری اصلیت ہر پاکستانی جانتا ہے کہ تمارے آباو اجداد کوقیام پاکستان پسند نہیں اور تمہیں استحکام پاکستان ایک آنکھ نہیں بھاتا مگر یاد رکھیں آپ کی دس نسلیں بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہیں کیونکہ اس کا وجود کلمے کی بنیاد ہر ہے اور اس کا محافظ خود خدا ہے

Readers Comments (0)




Weboy

Premium WordPress Themes