کیا لکھوں ؟   


کو شائع کی گئی۔ May 4, 2019    ·(TOTAL VIEWS 66)      No Comments

تحریر شیخ توصیف حسین
گزشتہ روز میں تقریبا صبح نو بجے کے قریب گھر سے اپنے دفتر کی جانب روانہ ہوا تو میں نے اسی دوران راستے میں ایک نوجوان کو جو ایک عمر رسیدہ شخص کو غلیظ گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ چہرے پر تھپڑوں کی بارش کرنے کے دوران اُسے کہہ رہا تھا کہ تو کتنا بے شرم ہے کہ بار بار نکالنے کے باوجود یہاں آ جاتا ہے حالانکہ اس دوران وہاں پر موجود لاتعداد افراد اس المناک واقعہ کو تماشہ سمجھ کر دیکھ رہے تھے جن کو اس حالت میں دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ انسان نہیں بلکہ زندہ نعشیں ہیں اور اگر یہ انسان ہوتے تو انسانیت کی یوں تذلیل ہوتی ہوئی دیکھ کر مداخلت ضرور کرتے لیکن افسوس کہ وہ ایسا کرنے میں قاصر رہے بہرحال میں نے مداخلت کر کے بڑی مشکل سے اُس نوجوان سے عمر رسیدہ شخص کی جان بخشی کرواتے ہوئے اُس نوجوان سے پوچھا کہ اس عمر رسیدہ شخص نے وہ کونسا جرم کیا ہے جس کی سزا تم اسے سر عام دے رہے ہو جس پر اُس نوجوان نے بڑے غصیلے انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ میرا والد ہے جو آئے روز میری بیوی کو پریشان کرتا رہتا ہے کبھی اُسے کہتا ہے کہ میں نے یہ کپڑے نہیں پہننے اور نہ ہی میں نے یہ کھانا کھانا ہے چونکہ اس کی وجہ سے میرے پیٹ میں درد ہوتا ہے اس کی ان حرکات سے تنگ آ کر میری بیوی پریشانی کے عالم میں رونا شروع کر دیتی ہے جسے میں کبھی بھی روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا اسی لیے میں اس بے غیرت کو متعدد بار گھر سے نکال چکا ہوں لیکن یہ پھر مفت کی روٹیاں توڑنے آ جاتا ہے نوجوان ابھی یہ بات کر ہی رہا تھا کہ اسی دوران عمر رسیدہ شخص نے روتے ہوئے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ کہا کہ ہاں ہاں میں بے غیرت اور بے شرم ہوں کہ جو میں نے رات دن محنت کر کے تمھاری پرورش کی جب تم پیدا ہوئے تو تمھاری والدہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مجھے داغ جدائی دیکر اپنے خالق حقیقی سے جا ملی جس کے مرنے کے بعد متعدد بار میرے عزیز و اقارب نے دوسری شادی کرنے کو کہا لیکن میں نے اُن کی ایک نہ مانی چونکہ یہ میں بخوبی سمجھتا تھا کہ میری دوسری بیوی آپ کو کبھی بھی مامتا کا پیار نہیں دے سکے گی بس اسی لیے میں نے دوسری شادی نہ کی چونکہ میں اسے کبھی دکھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا رات کو جب یہ پیشاب کرتا تھا تو میں اس کی جگہ پر سو جاتا تھا اور اسے اپنی جگہ پر سلا دیتا تھا تاکہ میرے اکلوتے بیٹے کی نیند خراب نہ ہو میں خود پھٹے پرانے کپڑے پہنتا تھا لیکن اسے میں نت نئے سوٹ سلوا کر دیتا تھا دن کے وقت میں مزدوری کرتا تھا اور رات کو متعدد بار اُٹھ اُٹھ کر میں اسے دودھ پلاتا تھا اس کی کتابیں سکول فیس ٹیوشن فیس کے علاوہ سکول کی وردی خریدنے کیلئے میں اکثر بھوکا رہتا تھا قصہ مختصر جب یہ پڑھ لکھ کر جوان ہوا تو میں نے اپنا وراثتی مکان اپنی بہو کے والد کے پاس گروی رکھ کر نہ صرف اسے نوکری دلوائی بلکہ اس کی شادی بڑی دھوم دھام سے محض یہ سوچ کر کی کہ اب میں بڑھاپے میں اپنی بہو کی پکی ہوئی روٹیاں کھاﺅں گا لیکن افسوس کہ میری بہو دو وقت کے کھانے کے عوض ہر قسم کا گھریلو کام کروانے لگی یہاں تک کہ گھریلو صفائی بھی جب میں اس بات کی شکایت اپنے بیٹے سے کرتا تو میری بہو من گھڑت اور بے بنیاد الزامات مجھ پر لگا کر میرے بیٹے کو بھڑکاتی جو بغیر سوچے سمجھے مجھے تشدد کا نشانہ بنا کر گھر سے نکال دیتا رہا میں گھر سے نکل جانے کے بعد کسی بھی فٹ پاتھ پر سو جاتا اور تھوڑی سی مزدوری کرنے کے بعد دو وقت کی روٹی کھا لیتا تھا اس دوران مجھے اس اکلوتے بیٹے کی اکثر یاد آتی جس کو دیکھنے کیلئے میں واپس گھر آ جاتا رہا لیکن اب میں واپس یہاں نہیں آﺅں گا نجانے کس موڑ پر میری زندگی کی شام ہو جائے یہ کہہ کر عمر رسیدہ شخص اپنی اجنبی منزل کی طرف روانہ ہو گیا جبکہ میں اداس و پریشان سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر یہ سوچتا ہوا دفتر پہنچ گیا کہ لعنت ہے ایسی اولاد پر جو اپنی بیویوں کی خوشنودگی کی خا طر اپنے بوڑھے والدین کے پیارو محبت اور اُن کی عظمت کو پامال کرنے میں مصروف عمل ہیں میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ اسی دوران میرے ایک دوست نے مجھے جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ اب کیا لکھنے کا ارادہ ہے جو تم اتنی گہری سوچ میں گم ہو کر رہ گئے ہو جس پر میں نے اُسے بڑے غصیلے انداز میں دیکھتے ہوئے کہا کہ تم ہی مجھے بتاﺅ کہ میں کیا لکھوں یا پھر یہ لکھوں کہ میرے ملک کی نوجوان نسل جو قرآن پاک پڑھ کر نہیں سدھری وہ میری تحریروں سے کیا سدھرے گی یا پھر یہ لکھوں کہ میرے ملک کے تعلیم یافتہ نوجوان جو قانون کی بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کر کے ملک و قوم کی خدمت کرنے کے بجائے عدلیہ کے نظام کو مفلوج کرنے کیلئے ججوں پر بے جا تشدد بار روم میں منشیات فروشی کے علاوہ قبضہ مافیا کا کردار ادا کرنے میں مصروف عمل ہیں جبکہ دوسری جانب میرے ملک کے ارباب و بااختیار سابق صدر پرویز مشرف جیسا کردار ادا کرنے کے بجائے یہ سب کچھ خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں یا پھر یہ لکھوں کہ ماہ رمضان کے دوران ہمارے ملک کے حاکمین ہر اضلاع کی انتظامیہ کو کروڑوں روپے کے فنڈز اس لیئے دیتے ہیں کہ وہ اس مقدس مہینہ میں اشیائے خورد نوش غریب افراد سستی مہیا کرنے میں اپنا اہم کرداد ادا کرے لیکن افسوس کہ رمضان بازاروں میں غریب افراد سستی اشیائے خورد نوش خریدنے میں قاصر رہتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملکی حاکمین کی طرف سے جاری کردہ مذکورہ فنڈز اکثر انتظامیہ کی لوٹ کھسوٹ کی تجوری میں بند ہو کر رہ جاتا ہے جس کے نتیجہ میں اکثر رمضان بازار خرید داروں سے خالی نظر آتے ہیں اور بتاﺅ کیا لکھوں یا پھر یہ لکھوں کہ میرے ملک کے تمام ہسپتالوں کے ڈاکٹرز و لیڈی ڈاکٹرز نااہل ہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہمارے ملک کے حاکمین وزرا مشیر اور سیاست دان اپنا اور اپنے خاندان کا علاج یہاں کے ہسپتالوں کے ڈاکٹرز و لیڈی ڈاکٹرز سے نہیں کرواتے وہ اپنا علاج معالجہ بیرون ملکوں کے ڈاکٹروں و لیڈی ڈاکٹروں سے کرواتے ہیں اور ہاں یہاں کے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز و لیڈی ڈاکٹرز جہنوں نے چین روس وغیرہ سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہوتی ہے غالبا اسلام آ باد سے اُس ڈگری پر ایک مہر لگوانے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کر کے مختلف سر کاری ہسپتالوں میں تعنیات ہو کر ہلاکو خان اور چنگیز خان کا کردار ادا کرتے ہوئے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا غریب مریض کا علاج خود کرنے کے بجائے دوسرے اضلاع کے ہسپتالوں میں ریفر کر دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں لاتعداد غریب مریض بر وقت طبی امداد نہ ملنے کے سبب راستے میں دوسرے اضلاع کو جاتے ہوئے بے موت مر جاتے ہیں لیکن ان ناسوروں کو جو اپنے مقدس پیشے پر ایک بد نما داغ ہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کوئی مرتا ہے تو مر جائے یہ تو بس اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ہڑتالیں کرنا جانتے ہیں اور بتاﺅ کہ میں کیا لکھوں یا پھر یہ لکھوں کہ میرے ملک میں ایس او ایس کال کے دوران ہمارے محافظ جہنوں نے حلف اُٹھایا ہوا ہوتا ہے کہ ہم عوام کی جان و مال کے ساتھ ساتھ اُن کی عزت کا تحفظ کریں گے لیکن افسوس کہ یہی محافظ اکثر بغیر نمبر پلیٹ کی چوری شدہ موٹر سائیکلوں پر سوار ناکوں پر قانون شکن عناصر کا محاسبہ کرنے کے بجائے شریف شہریوں کے موٹر سائیکل جن کے پاس مذکورہ موٹر سائیکلوں کے مالکانہ ثبوت ہوتے ہیں کو تھانوں اور چوکیوں میں بند کر کے اپنی یہ اعلی کارکردگی اپنے ارباب و بااختیار کو دکھاتے ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر اس دوران کوئی شریف شہری ان پبلک سرونٹ کو فون کرے تو اُس کی فون پر بات سننا بھی گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں بالکل یہی کیفیت ون فائی کے عملہ کی بھی ہے جو دوران ڈیوٹی اگر پانچ ملزمان وغیرہ کو پکڑ بھی لیں تو ایک ملزم کو تھانے بھیج دیتے ہیں جبکہ باقی ماندہ ملزمان سے از خود سودا کر کے دال روٹی کما لیتے ہیں اس کے علاوہ اور بتاﺅ کہ میں کیا لکھوں

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Premium WordPress Themes