ہاکی،اولمپک ویلج اورہاکی کا زوال   


کو شائع کی گئی۔ June 18, 2015    ·(TOTAL VIEWS 716)      No Comments

Tahir saleem
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہاکی کو پاکستان کا قومی کھیل کے طور پر انتخاب کیا گیا اور پاکستان کی ہاکی ٹیم نے 1971 ،1978، 1982 اور 1994 میں ورلڈ کپ جیتے اور یوں پاکستان کا ہاکی کے میدان میں 4 ورلڈ کپ جیتنے کا ایک ورلڈ ریکارڈ ابھی تک قائم ہے پاکستان دو مرتبہ 1975، 1990میں رنر اپ رہا اور بالترتیب انڈیا ،ہالینڈ کی ٹیموں سے ہارا۔تمام عالمی کپوں کی فہرست میں پاکستان 1973میں چوتھے،1998،2002میں پانچویں،2006میں چھٹے،1986میں گیارہویں اور 2010میں بارہویں نمبر پر رہا جبکہ 2014کے عالمی کپ کے لئے پاکستان کی ٹیم کوالیفائی ہی نہ کر پائی۔قومی ٹیم 3بار چمپئین ٹرافی،8بار ایشئین گیمز،3بار ایشیاء کپ،3بار اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ اور 2مرتبہ ایشئین ہاکی چمپئین ٹرافی کے ٹائیٹل میں گولڈ میڈل جیتے جبکہ کامن ویلتھ گیمز میں قومی ٹیم کے ہاتھ گولڈ میڈل تو نہیں البتہ سلور اور براونز کا ایک ایک میڈل حصہ میں آیا اور یوں بڑے مقابلوں کی تاریخ میں پاکستان ہاکی نے تقریباً کل 70میڈل اپنے نام کئے ۔
پاکستان کی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں پر نظر ڈالیں تو ہر میدان میں گوجرہ کے کھلاڑیوں کا ہمیشہ اہم کرادار رہا ہے یہ فیصل آباد سے 45کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور دنیا بھر میں ہاکی کی بدولت جانا جاتا ہے گوجرہ کی سرزمین ہاکی کے لئے نہائت موزوں ہے اور اس پاک دھرتی نے قومی ٹیم کو نامور کھلاڑی دئیے ہاکی کی ہی بدولت اس شہر کو اولمپک ویلج کا لقب ملا،استاد محمد اسلم روڈا(مرحوم )نے 1972میں ہاکی اکیڈمی کا بنیاد رکھا اور تقریباً150سے زائد قومی و انٹرنیشنل کھلاڑی پی ایچ ایف کو فراہم کئے جن میں نامور کھلاڑیوں سمیت دیوار چین کا لقب حاصل کرنے والے منظورالحسن ،رشید الحسن ،دانش کلیم،طاہر زمان ،ندیم اینڈی، شہباز جونیئر،اختر علی،علیم رضا، ایم خالد ،محمد قاسم مرحوم (گول کیپر) ،طارق عمران، طارق عزیز ، عرفان محمود ،محمد عرفان ،محمد رضوان ،شیخ محمد عثمان، اصغر انٹرنیشنل ،جاوید ، سرور ،اعظم ،ایم رشید ، عمران شاہ مینز کے ساتھ ساتھ ویمنز ہاکی ٹیم میں نفیسہ انور اور ودیگر نے دنیا کے ہر میدان میں فتح کے جھنڈے لہرائے اور یہ سب استاد اسلم روڈا مرحوم کے ہی شاگرد ہیں۔
میدان چاہے پاکستان کے ہوں یا ملک سے باہرمقابلے چاہے مردوں کے ہوں یا خواتین کے گوجرہ کا کردار نمایوں رہا ہے نفیسہ انور اولمپک ویلج گوجرہ سے پہلی خاتون ہاکی کھلاڑی ہیں جو اس وقت قومی خواتین ہاکی ٹیم کا حصہ ہیں، انہوں نے اپنی ہمت اور جذبے کی بدولت نا صرف بھارت بلکہ چین اور تھائلینڈ سمیت بیشتر ملکوں میں اپنے حریفوں کو زیر کرنے میں ایک نہایت اہم کرادارادا کیااور یوں گوجرہ کی سرزمین نے دنیا بھر میں ہاکی کے میدان میں اپنا لوہا منوایا۔ ایک وقت تھا کہ قومی ٹیم میں 9سے 10کھلاڑی ایک ہی وقت میں کھیلتے تھے ،

پاکستان ہاکی کے عروج سے لے کر زوال تک کا سفر بہت ہی طویل ہے جس میں پی ایچ ایف اور حکومتی نمائندوں نے مل کر ہاکی کو قتل کر کے دفنا دیامیں سمجھتا ہوں ہاکی کے زوال کی شروعات اولمپک ویلج گوجرہ کو نظر انداز کرنے سے ہوئی قومی ٹیم میں کچھ ایسے کھلاڑی بھی تھے جو گوجرہ سے ہاکی ختم کرنا چاہتے تھے اور انکے انہی غلط فیصلوں سے پاکستان پر زوال آیا۔انہوں کی اسی انا پرستی کے باعث گوجرہ ہاکی اسٹیڈیم کی عمارت اور گراؤنڈ بھوت بنگلہ کے منظر پیش کرنے لگا آسٹرو ٹرف جگہ جگہ سے پھٹ گیا تیز ہوا کے ساتھ یہ آسٹرو ٹرف اڑ بھی جاتا اور اسٹیڈیم کی بجلی کا ٹرانسفارمر بھی متعدد بار چوری ہو گیا جس سے یہاں بجلی کی سہولت کا بھی فقدان رہا ہے اور کوئی بھی کھلاڑی یہاں پریکٹس کرنے نہ آتا اور اگر کوئی آتا بھی تو وہ دوران پریکٹس زخمی ہو جاتا جس کا پاکستان ہاکی کو نقصان یہ ہوا کہ ٹاپ ون کی ٹیم آخری نمبر پر چلی گئی اور بدقسمتی سے اس بار ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائی ہی نہ کر پائی جسکی تمام تر ذمہ دار ی نام نہاد پی ایچ ایف اور حکومتی نمائندوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے بند کمروں میں بیٹھ کر صرف حکم ہی دئیے ہیں انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ میرٹ کی کھلم کھلا ناصرف خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ ہاکی کا بیڑہ بھی غرق کر رہے ہیں۔ یہ سب انہوں نے اپنی جیبیں ہری رکھنے کے لئے کیا اور قومی کھیل کو زندہ دفن کر دیا۔

اب مودہ حکومت نے گوجرہ ہاکی اسٹیڈیم کی دوبارہ تعمیر کے لئے تقریباً 23کروڑ روپے کے فنڈز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے اور اسٹیڈیم کو گرا کر تعمیر کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے جو کہ خوش آئند ہے مگر ہاکی کا مستقبل تباہ کرنے والوں کے لئے ایک سوالیہ نشان اب بھی ہے کہ کیا پاکستان ہاکی میں وہ مقام دوبارہ حاصل کر پائے گا؟کیا اولمپک ویلج گوجرہ میں وہ ہاکی کا شوق اور جذبہ ہو گا؟کیا اب اولمپک ویلج گوجرہ کی ہاکی کی قربانیاں تسلیم کی جائیں گیں؟کیا پاکستان پھر سے عالمی چمپئین بن پائے گا یا پھر اب یہ ایک سپنا ہی رہے گا؟کیا ان کرپٹ ذمہ داران کو کوئی سزا دے پائے گا جنہوں نے گوجرہ سے ہاکی ختم کرتے کرتے پاکستان سے ہاکی کا جنازہ نکال دیا؟؟یہ حکومت اور ہاکی سے محبت کرنے والوں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے!

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Weboy