ہرکوئی سچ بولتا ہے مگر؟   


کو شائع کی گئی۔ March 22, 2014    ·(TOTAL VIEWS 550)      No Comments

maher sultan

ہرکوئی سچ بولتا ہے مگر؟
(اقبالؒ )
نصیحت روز بکتی ہے عقیدت روز بکتی ہے
تمہارے شہر میں لوگو محبت روز بکتی ہے
امیر شہر کے در کا ابھی محتاج ہے مذہب
ابھی ملاں کے فتوؤں میں شریعت روز بکتی ہے
ہمارے خون کو بھی وہ کسی دن بیچ ڈالے گا
خریداروں کے جھرمٹ میں عدالت روز بکتی ہے
نجانے لطف کیا ملتا ہے ان کو روز بکنے میں
طوائف کی طرح قیادت روز بکتی ہے
کبھی مسجد کے ممبر پر کبھی حجرے میں چھپ چھپ کے
میرے واعظ کے لہجے میں قیامت روز بکتی ہے
بڑی لاچار ہے اقبال جیبیں ان غریبوں کی
کہ مجبوری کی منڈی میں ضرورت روز بکتی ہے
میں روزانہ مختلف نیوز چینلوں پر رات کے ٹاک شو سنتا ہوں بڑے بڑے معزز پردہ نشین اور تیس مارخان ممبرومحراب پر حکومت کرنے والوں سمیت ہر کوئی یہ کہنے میں بضد ہوتا ہے کہ میں سچا میری پارٹی سچی میرا پارٹی لیڈر سچا سب سچے ہیں اور خوش قسمتی سے حکومت وقت بھی اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے اپنی ہر اس پالسی کو جس سے عوام کا خون نچوڑا جاسکتا ہے کو سچی کہنے پر بضد ہوتی ہے کسی بھی محکمے پر نظردوڑائی جائے تو وہ سب ہضم کرنے کے باوجود یہ لفظ بولتے ہیں کہ ہم سچے ہیں عوام جھوٹی ہے تو پھر سوال اُٹھتا ہے کہ جھوٹا کون ہے ہمارے ہاں یہ ہنر اب عام ہو چکا ہے کہ جھوٹ کو منافقت کا لبادہ پہنا کر اسے سچ بنانے کی گھٹیا کوشش کرنے والوں کو زرا برابر بھی شرم نہیں آتی کہ وہ اس پاک کتاب کہ اس مقدس لفظ کو اپنی خواہشات کو پوری کرنے لیے داغ دار کر دیتے ہیں ۔یہاں ہی بس نہیں لفظ صحافت جو کہ مقدس کتاب کا لفظ ہے اس پر روزی روٹی کمانے والوں میں اکثریت ایسے پردہ نشینوں کی موجود ہے ان کا طرہ امتیاز ہے کہ انہوں نے ہر حالت میں سچ کو جھوٹا اوت جھوٹے کو سچا ثابت کرنے کا لائسنس لے رکھا ہے ہمارے قول و فعل میں منافقت رچ بس چکی ہے اور اس کا نتیجہ آج ہمیں اپنی معاشرتی تباہی کی صورت میں مل چکا ہے صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں پوری دنیا میں یہی صورتحال ہء مگر ہم تو مسلم ہیں ۔ہم لوگ من حیث القوم اس دلدل میں اتنے غرق ہوچکے ہیں کہ اب ہم کو اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں کہ ہم کس عظیم ہستی کی امت ہیں بلکہ اُلٹا ہم اپنی اس عظمت کو بھی اپنے منافقت والے سچ سے بدنام کروانے پر تلے ہوئے ہیں ہم کیسا سچ بولتے ہیں اس سچ کا نتیجہ آج مظفرگڑھ اور سندھ میں کاروکاری کے نام پر غوث بخش مہر جیسے انسان انسانیت پر ظلم ڈھاتے ہیں کیوں کہ ہم سب سچ بولتے ہیں کافر تو کافر ہے وہ تو نعوزباللہ ہمارے اسلامی اشعار کی توہین بڑی دیدہ دلیری سے کرتا ہے میرے بھائی وہ کیسے نہ کریگا جب ہم خود ہی اس موقع فراہم کرتے ہیں اب میرے دانشور یہاں یہ نکتہ چینی کریں گے کہ ہم کیسے ملوث ہیں اس میں تو عرض کروگا ہم سچ بولتے ہیں ہماری بیٹاں زیادتی کا شکار ہونے انصاف نہ ملنے پر خود کشی کرتی ہیں کیوں کہ ہم سچ بولتے ہیں بڑے بڑے چینلوں پر بعض نام ونہاد لیڈران اور اینکر پرسن ان واقعات پت پوائنٹ سکورنگ کرتے ہیں ان سے سوال ہے کہ جب یہ حضرات خود شراب و شباب کی محفلوں جلوا افروز ہوتے ہیں تب ان لیکچر کہا ں جاتے ہیں مجھے بہت سارے سیاسی و دینے قائدین اور رہنماؤں سے ملنے کر شرف ملا مگر ایک کڑوا سچ یہاں پر بہت ضروری ہے کہ اکثر میرے محترم رہنماؤں کی تقاریر میں منافقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے ایک صاحب ہمارے حلقے میں بڑی انقلابی تقریریں کرتے تھے اور بہت بڑے سچ بولتے تھے اب ان کے سچ کی بدولت ہیں بلدیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کا سربراہ کھل کر لوٹ مار مچانے میں مصروف عمل نظر آتا ہے یہ سب کھچ سچ بولنے کی وجہ سے تو ہو رہا ہے ہمارے سیاسی و مذ ہبی لیڈر حضرات ان ٹاک شوز میں بڑے بڑے لمبے فلسفے سناتے ہیں مگر خوش قسمتی سے ان کے فلسفوں میں بیس فیصد سچائی ہو وہ بھی سائد بقول ایک مشہور حکومتی مولنا کہ کہ زرداری صاحب اپنے اتحادیوں کہ ناز نخرے اُٹھاتے تھے آپ بھی اُٹھائیں موجودہ حالا ت میں کراچی کی ایک سیاسی جماعت جو کہ سچ بول کر خود کو مظلوم عوام کا ترجمان کہتی ہے اس کی اس سچائی پر قربان جائے دل ناداں (کہ سو چوہے کھا کر بلی خالہ حج کو چلی ہیں ۔) اب بات ہو جائے پنجاب میں کچھ درآمد شدہ مذہبی گروپس کی جو کہ اسلام کے نام پر سچ بولتے ہیں سیاست میں تو مذہب کا کچھ لینا دینا نہیں بقول ہمارے سیاستدانوں کے۔ اسلام کے ٹھیکدار وں کوبھی اگر جھوٹ بولنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لینے کی اللہ توفیق دے تو ان کو چائیے کہ مذہب کے نام پر عوام سے جھوٹ بولنے سے توبہ تایب ہو جائیں تو خدا کی قسم یہ مسلکی اختلافات فوری ختم ہو سکتے ہیں مگر وہ بھی عوام کے سامنے بڑے شوق سے سیاسی سچ بولتے ہیں اور بد قسمتی سے ممبر و محراب پر بھی وہی سچ بولنے میں زرا بھی قباحت محسوس نہیں کرتے تو کیوں کہ وہ سچ بول کر اغیار کے اجینڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں سیاستدوان تو پھر سیاستدان ہیں ان کے لیے بھی ایک تجویز عرض ہے کہ آپ ہی جمشید دستی صاحب کی طرح سچ بول کر اپنی آخرت بہتر بنا لیں انہوں نے بھی تو سچ بولا ہے ایک دو ایسے واقعات ہیں جن پر نہ لکھنا قلم کے ساتھ بھی زیادتی ہوگی میری ملاقات قصور شہر کے محکمہ صحت کے افسران بالا سے ہوئی اللہ انکی زندگی سلامت کرے بندہ ناچیز نے ان سے سوال کیا کہ آج کل کے ان ماہر ڈاکٹر وں کے خلاف کاروائی کے حوالے سے تو انہوں نے جواب دیا مہر صاحب ہمار ے قانون میں اتنی اچھائیاں ہیں جس پر فیصل آباد کی ایک سرکار بہت دھوم دھام سے لیکچر دیتی ہے اگر کسی کا چالان پیش کیا جائے تو ایک مزدور کی دہاڑی ادا کرکے دوبارہ اپنا دھندہ چلا لیتا ہے ہم کیا کریں اس جواب کو سن کر مجھے طالبان کے نفاز شریعت کے مطالبے میں وزن محسوس ہو گیا اور کچھ نہیں تو مجرم کو سزا تو مل سکے گی نہ اور اس پر ہماری سچائی کی راگنی کا یہ حال ہے کہ ہم اس کی بھی مخالفت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں وجہ یہ کہ ہم سچ بولتے ہیں اس نظام کو نہیں آنا چاہیے میں اس کو منافق کا نام نہ دوں تو اور کیا دوں میرا سوال ہے بڑے معتبر اخبارات میں لکھنے والے دانشوروں مزہبی لیڈران سے کہ وہ کوئی اور ترمیم نکلوالیں ان سچ بولنے والے اسلام کے ٹھیکداروں سے کہ وہ اس کو بھی سچ منظور کروالیں بقول
ہم سچ بولتے ہیں انتخابی نعروں میں سچائی تو بہت عروج پر ہو تی ہے اور سچائی کا یہ عالم ہو تا ہے کہ دل عش عش کر اُٹھتا ہے مجھے دو دن پہلے باوثوق زرائع سے علم ہوا کہ محکمہ صحت قصور کے افسران کو تحصیل کوٹراداکشن کے نواحی گاؤں سے ایک عطا ئی کی دوکان سیل کرنے پر ایک بااثر مسلم لیگی شخصیت کی جانب سے کھال کھینچوادینے جیسی دھمکیاں ملنے لگیں وہ دھمکیاں کیوں دی گئیں کہ اس جماعت کے خادم اعلی سچ بولنے کا نعرہ لگاتے ہیں مگر انکی پولیس عوام کو خود سوزی پر مجبور کرتی ہے تو وہ کیوں نہ سچ بول کر دھمکیاں لگوائیں گے

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Free WordPress Themes