ہزارہ ڈویژن میں چوتھے باقاعدہ بندو بست کی ضرورت   


کو شائع کی گئی۔ February 19, 2021    ·(TOTAL VIEWS 48)      No Comments

تحریر: نمبر دار میرزمان بالاکوٹی ،دیہہ بالاکوٹ
برطانوی عمل داری میںح پہلا باقاعدہ بندو بست جس کا آغاز 1868کی فصل حریف سے کیا گیا اور اس بندو بست کی تکمیل1872میں ہوئی،یہ بندو بست میجر ویس کے زیر اہتمام ہوا،خطہ ہزارہ کو پانچ تخمینی حلقوں میں تقسیم کیا گیا،حقوق کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا گیا،گاﺅں ،قصبات کی حدود کا تعین 1865تا1869کیا گیا،زمین کی پیمائش پہاڑی علاقوں میں مثلثی نظام اور میدانی علاقوں میں مربعی نظام کے تحت عمل میں لائی گئی،پیمائش زنجیر( جریب) سے کی گئی،خسرہ،کھیوٹ تجویز کردہ فارموںاور نقشوں پر مرتب کیے گئے،پہلے باقاعدہ بندو بست میں خطے کے وسائل سے جن میں قابل کاشت اراضی جو کہ چار لاکھ تینتیس ہزار(4,33000)ایکڑ رقبہ پر مشتمل تھی حکومت محصولات مالیہ وغیرہ کا ٹخمینہ 299661روپے لگایا گیا تھا،دوسرا باقاعدہ بندو بست 1899تا1907وادی اگرور سے دوسرے بندو بست کے دوران تین لاکھ سے زیادہ تبدیلوں کی تصدیق کی گئی اور حکومت ہند کے حکم کے مطابق محفوظ جنگلات کی حد بندی اور کاغان اور بھوگڑ منگ کے آخری سروں پر فالتو زمین تھی مالیہ کے سروے کردہ نقشوں کے مطابق باقاعدہ انتظامی ریکارڈ میں شامل کر دیے گئے،دوسرے باقاعدہ بندو بست میں ہزارہ کو پانچ تخمینی حلقوں میں تقسیم کیا گیا،پہلا حلقہ میں ان میدانی علاقوں کو شامل کیا گیا جو باقاعدہ نہری نظام سے سیراب ہوتے ہیں،دوسرا تخمینی حلقہ غیر آبپاشی والے میدانی علاقے تیسرے تخمینی حلقے میں پہاڑوں کے دامن اور میدانوں کے سروں پر واقع علاقے چوتھے تخمینی حلقے میں نشیبی پہاڑیاں اور ان کے درمیان وادیاں شامل تھیں،اور پانچویں تخمینی حلقہ میں بلند ترین پہاڑی سلسلہ اور ان کے درمیان وادیاں شامل تھیں،بندو بست میں اول معیار زمین ہریپور میدانی کے بالائی حصے کی زمین قرار دی گئی جو آبیIکہلاتی ہے،آبیIIمیں ہریپور میدان کا شمال مغربی حصہ جو دریائے دوڑ کے ساتھ ہےاور دریائے دوڑ کا آخری سرا ہے اور تیسرا وسیع زرخیز خطہ اس کو دریائے سرن سیراب کرتا ہے،آبیIIمیں میدان پکھل بھی شامل ہے،زمین کا دوسرا گروپ میرا سرکل کہلاتا ہے،یہ زمین خانپور اور گندکر کی پہاڑیوں کے درمیان ہری پور میدان کے نچلے سرے پر واقع ہے،اس میں میدان رش اور مانگل کا خطہ شامل ہے،زمین کا تیسرا گروپ ہری پور میدان اور میدان پکھل کے اطراف دکنار میں علاقوں پر مشتمل ہے،زمین کا چوتھا گروپ گندگر،برھنک،ڈھانکر اور کان پور کی پہاڑیوں پر مشتمل ہے،زمین کا چوتھا گروپ کنہار سرکل پر مشتمل ہے،اس وادی کا آغاز کاغان کی ایک تنگ گھاٹی سے ہوتا ہے اور دریائے کنہار کے آر پار گڑھی حبیب اللہ سے ذرا نیچے تحصیل ایبٹ آباد کی شرقی اطراف تک چلا جاتا ہے،کنہار سرکل بلند تر پہاڑی علاقوں اور دیہاتوں پر مشتمل ہے،اس کے شمالی سرے پر وسیع وعریض وادی کاغان ہے،جو چلاس تک چلی جاتی ہے ،کنہار سرکل میں 76مربع میل پر ہزارہ کے گویا سب سے بڑے خطے پر محفوظ جنگلات ہیں،جو کاغان فارسٹ ڈویژن کے نام سے موسوم ہیں،پانچویں گروپ میں بوئی،بکوٹ،وادی کونش،وادی بھوگڑ منگ اور وادی کاغان شامل ہے،کاغان ارضیاتی لحاظ سے سب سے بڑا خطہ ہے بلکہ پورے ہزارہ ڈویژن کا ایک چوتھائی ہے،جو کہ ساڑھے تین لاکھ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے،مختلف النوع ارضیات کے باعث ہزارہ22حلقوں میں منقسم تھا،ہریپور میں آٹھ اور مانسہرہ ایبٹ آباد سات سات حلقے بنائے گئے،متنوع آب و ہوا کے باعث ہر تین ہزار فٹ کے بعد ارضیاتی خصوصیات تبدیل ہو جاتی ہیں،وسائل،پیداروار کو مدنظر رکھتے ہوئے مالیہ محصولات کے جو تخمینے دوسرے بندو بست میں لگائے گئے ان میں ہریپور216153روپے،مانسہرہ152845روپے مالیہ لینا ہوتا تھا،تخمینہ کی شرح زیر کاشت رقبہ پر ایک روپیہ تین آنے اور نو پائی فی ایکڑ اور دیگر زمین پر ایک روپیہ ایک آنہ چار پائی فی ایکڑ لگایا گیا تھا لیکن یہ شرح ہر جگہ نہیں رکھی گئی لیکن اکثر مواقع پر زمینوں کے نرخ کے اعتبار سے مالیہ کا تعین کیا گیا،ہریپور اور خان پور کے باغات کی زمین پر 18سے20رو پے فی ایکڑ مالیہ لگایا گیا،اس طرح بوئی،تناول یا اس ے ملتی جلتی کالسی زمینوں پر چار آنے سے 3آنے فی ایکڑ مالیہ لگایا گیا اور ایسے گاﺅں اور مضافات کی زمین جو فالتو تھی6پائی مالیہ فی ایکڑ لگایا گیا،دوسرے بندو بست کے دوران انعام یافتہ افراد کی تعداد908تھی جن میں سے294تاحیات تھے جبکہ614الگ ایک بندو بست سے دوسرے بندو بست تک تھے،یہ انعام پانچ روپے سے100روپے تک تھا،اس طرح دوسرے بندو بست میں یہ قانون بھی وضع ہوا کہ ہر سال دریاﺅں میں طغیانی کے باعث دریا برد ہونے والی اور نئی وجود میں آنے والی زمین کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے،چونکہ دریائے سرن،دریائے دوڑ،دریائے ہرنو جن پر سیلابی ریلا کے باعث بڑا کٹاﺅ ہوتا تھا اس لیے قانون کا اطلاق بھی ان ہی دریاﺅں پر کیا گیا تھا اور اس کے دیگر ندی نالوں کے آر پار کٹاﺅ کا شکار اراضی چار سال بعد پیمائش کی جائیگی ،تیسرا باقاعدہ بندو بست1942تا1946یہ برطانوی عملدآری کا آخری بندو بست کہلاتا ہے جس میں گزشتہ بندو بستوں کے دوران واقع ہونے والی تبدیلیوں کو باقاعدہ تصدیق کیا گیا اور حقوق کی کتابوں میں درستگی اور تصدیقات کے ساتھ مرتب کیا گیا،جو آزادی کے بعد تک تاحال دستاویزی ثبوت کے طور پر معاملات ومقدمات نمٹانے میں کلیدی شہادت کا کردار ادا کر رہا ہے،سطور بالا میں مختصر پس منظر جو برطانوی دور میں بندو بستوں کے نفاذ اور آب کا تھا قارئین کے سامنے پیش کیا گیا،تفصیلی طور پر جاننے کیلئے مالیاتی ریکارڈ کے ماخذ کو مطالعہ کیا جائے۔
آزاد مملکت کے معرض وجود میں آئے 74سال گزر گئے اور مزید چھ سالوں کے بعد پورے اسی سال ہوجائیں گے جو کہ باقاعدہ بندوبستوں کا دورانیہ تکمیل ہو رہا ہے،چہ جائیکہ ہم ایک بندو بست کا نفاذ بھی نہیں کر سکے 1898میں ہزارہ کے پاس چار لاکھ تینتیس ہزار(4,33,000) ایکڑ رقبہ قابل کاشت تھا اور تین سو مربع میل کم وبیش رقبہ جنگلات تھے اور ہزارہ کی برآمدات اٹک اور راولپنڈی منڈیوں میں جاتی تھیں،دیکھنا یہ ہے کہ آزاد مملکت کے74برسوں میں ہمارے پاس قابل کاشت رقبہ میں کتنا اضافہ ہوا ،کتنا بنجر ایریا ہم نے قابل کاشت بنایا اور جدید آلات سے استفادہ کر کے بے کار اراضی کو قابل استعمال و قابل کاشت بنایا ،ہمارے پیداروی خطے کیا اصلاح حال کا تقاض کر رہے ہیں ،ہمارے پانی کے ذخائر اور نہری نظام کتنا فعال ہے،ہزارہ پھلوں کا خطہ ہے تو کیا ہم نے پھلوں کی صفت میں کتنی ترقی کی،ہمارے جنگلات جو برطانوی عمل میں محفوظ کیے گئے تھے اسی طرح محفوظ ہیں اور کیا ہم نے ان74برسوں میں مزید کتنا ایریا پر جنگلات کی شجر کاری کی،آبادی میں بے تحاشہ اضافے کے باعث گاﺅں قصبات کا کافی پھیلاﺅ ہو رہا ہے ،آیا ایسا تو نہیں ہو رہا کہ ہمارے قیمتی پیداوار ،زرخیز میدان آبادی کے نیچے آ رہے ہیں اور خطہ میں پیداواری رقبہ کم پڑتا جا رہا ہے،ایسے حالات میں ہم نے قصبات ،گاﺅں اور آبادیوں کیلئے ایسی غیر پیداروی زمین متبادل کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ ہماری پیداواری صلاحیت کی اراضی آبادی اور تعمیرات کے نیچے آنے سے محفوظ رہے،اسی طرح ہمارا لائیو سٹاک،ہماری چراگاہیں اس امر کی متقاضی ہیں کہ ان میںحالات اور ضروریات کے پیش نظر بہتری لائی جائے،ہزارہ ایک برآمدی خطہ تھا مگر افسوس ہے کہ آج ملک پیک تک ہزارہ درآمد کر رہا ہے ،وسیع وعریض چراگاہوں اور چارے کے سٹاک کے باوجود ہمارے پاس مال مویشی اپنی ضروریات اور گزارے کے قابل بھی نہیں،اس بحث کا دامن کافی دراز ہے ،ہم ان ہی سطور پر اکتفا کرتے ہیں کہ شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ بندو بست کے عمل میں تیزی لائی جائے تاکہ ہمیں وہ اعداد وشمار حاصل ہوں جن کے بعد خطہ کی حقیقی معنوں میں تعمیر وترقی ممکن ہو سکے اور تاکہ معلوم ہو سکے کہ گزشتہ صدیوں کی نسبت دور حاضر کے ساتھ کیا ہے،ان74برسوں میں کھڑے تھے وہاں ہی ہیں یا پہلے کی نسبت ہم نے کچھ ترقی کی ہے،یہ سب کچھ تب ممکن ہے جب چوتھے باقاعدہ بندو بست کی تکمیل ممکن ہو سکے گی۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress Blog