ہماری جمہوریت اور لوٹ مار پروگرام   


کو شائع کی گئی۔ June 18, 2020    ·(TOTAL VIEWS 73)      No Comments

مقصودانجم کمبوہ
شریف برادران اپنی ترقی کے منصوبے بیان کرتے ہوئے تھکتے نہیں ن لیگی ورکرز اور سیاستدان بھی سوشل میڈیا پر تصویر یں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں ۔ان سب کا کہنا ہے۔ کہ پاکستان اگر ترقی کرسکتاہے تو وہ شریف برادران کی جدوجہد سے ہی کر سکتا ہے۔ بلا شعبہ ملک میں میگا پراجیکٹس تعمیر ہوئے ہیں مگر ایسے منصوبے پر زیادہ توجہ دی گئی ہے جہاں انہیں کمیشن ملے۔ ہر وہ منصوبہ جو ان کو سیوٹ کرتا تھا وہ بہت جلد شروع ہو جاتا تھا۔ افسوس کہ شریف برادران اور زرداری خاندا ن نے ملک کو اس طرح لوٹا جیسے وہ مال غنیمت ہو یہ ہر شہری جانتا ہے۔ کہ لوٹ مار صرف اور صرف ان دونوں کی حکومتوں نے کی ہے۔ اب نیب انکی سلواریں اتار رہا ہے۔ سابق وزیر علیٰ شہباز شریف نے گذشتہ روز نیب میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے۔ کہ کرپشن میں نے نہیں کی میرے بیٹوں اور دامادوں نے کی ہے۔اسی قسم کا بیان میاں نواز شریف بھی دے چکے ہیں مگر ن لیگی ورکروں اور سیاست دانوں کو بلکل شرم نہیں آتی وہ ان کے نعرے اس طرح لگاتے ہیں جیسے وہ اس دور کے ولی اور فرشتہ ہیں۔ وہ بے گناہ اورسچے لوگ ہیں ۔ دارصل یہ ملک جہوریت کا دلدادہ ہے۔ اور جمہوریت بھی چوروں ڈاکوﺅں لٹیروں کی لونڈی ہے۔ جیسے چاہیں ملک کو گھسیٹ لیں۔ 72سالوں سے جمہوریت نے ملک و قوم کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں یہ حکمران لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں مگر انہیں جو مزہ اس جموریت میں آرہا ہے ۔ وہ کسی اور نظام میں نہیں ہے۔ میں پڑھ رہاتھا کہ چین کی آبادی ایک ارب پینتیس کروڑ ہے جبکہ وزیر 14۔امریکہ کی آبادی32کروڑ جبکہ وزیر14۔انڈیا کی آبادی ایک ارب 32کروڑ جبکہ وزیر 32۔برطانیہ کی آبادی 32کروڑ جبکہ وزیر 12ہیں۔ کیا بات ہے میرے پاکستان کی جہاں کی آبادی 19کروڑ جبکہ وزیر مشیر 96سے بھی زیادہ ہر رکن اسمبلی کو تنخواہ کے علاوہ بجلی کے 5000یونٹ فری وی آئی پی ہوائی ٹکٹ 45فری ۔ ماہانہ موبائل کے لئے ایک لاکھ کا بیلنس فری۔یہ ہے میرا پیارا پاکستان جو مدینہ ریاست بننے جا رہا ہے۔ بہت مشکل ہے ایسا ہونا جس ملک کے سیاسی ورکرزاور سیاست دان چوروں ڈاکوﺅں اور لٹیروں کے سرعام نعرے لگائیں ۔ وہاں مدینہ ریاست کا روپ دھارنابہت مشکل نظرآتاہے۔ ایسے کئی لوگ عمران خان کی گود میں بیٹھے ہیں جو بحران پہ بحران پیدہ کر رہے ہیں۔ عمران خان نے مدینہ ریاست کا نعرہ تو لگا دیا ہے۔ مگر ایسے فلسفے اور نظریے کی تکمیل بہت مشکل نظر آرہی ہے۔ چند ایک وزیر اور مشیروں کے سواسب کے سب مافیا کے یارہیں۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ عمرا ن خان کا دھڑن تختہ کیسے ہو میںوثوق سے کہتا ہوں اگر پاکستان آرمی حکومت کی پیٹھ پر نہ ہوتی تو کبھی کا عمران خان گھر چلاگیا ہوتا۔ 30برس حکومت کرنے والے حکمران تلملا رہے ہیں ۔ اور سازشوں کے جال بن رہے ہیں۔ مگر آرمی آڑے آجاتی ہے۔ ابھی تک اپوزیشن سوائے شعوروغوغا مچانے کے کوئی تحریک نہیں چلا سکی اور نا ہی چلاسکے گی۔ ان ظالموں کو ہر شہری پہچان اور جان چکا ہے۔ کہ یہ ملک کے لٹیرے ہیں۔ مگر یہ لوگ عادت سے مجبور ہیں۔ ان کو سوائے نعرے مارنے کے کوئی چیز نہ ملی ہے۔ ہم سب چور ہیں۔ اس لئے چوروں اور لٹیروں کے نعرے مارنا ہماری عادت بن چکی ہے۔ ہمیں یہ بات معلوم ہے۔ کہ ایسی جمہوریت ہی ہمیں تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ جس کے وزیر اور مشیر سب چور اور ڈاکوہوں ہماری جمہوریت اس قدر مہنگی ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ نہیں کر سکتی ۔ اس جمہوریت میں صرف اور صرف چور اور ڈاکوﺅں کو ہی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں ۔ قبضہ گروپوں ،ذخیرہ اندوزوں ، بلیک میلروی اور کرپٹ مافیا نے جمہوریت کو اپنی لونڈی بنا رکھا ہے۔ یہ ملک بڑی مشکل سے آگے بڑھے گا کیونکہ ہم آگے بڑھنے والوں کی ٹانگیں کاٹ کھاتے ہیں۔ جمہوریت کے گیت گانے والے فوج سے اس لئے نالاں ہیں کہ مارشلاءمیں انکی بدمعاشی نہیںچلتی۔ تھانے ، چوکیاں،عدالتیں انکی ذاتی خواہش کے مطابق کام نہیں کرتیں ۔انصاف صرف ان چوروں ، لٹیروں کے تابع ہوتاہے۔ ترقی و تعمیر کے بڑے کام صرف مارشلاءکے دور میں ہوئے ہیں۔ ایوب کے دور میں ڈیم بنے ہیں۔ اور ترقی کی شرح کو آج تک کوئی حکمران نہیںپہنچ سکا ضیاءالحق کے دور میں ہم نے روس فتح کیا ہے۔ جس نے بھارت کوپاکستان کا بازو الگ کرنے میں مدد کی تھی ۔ بھارت ضیاءالحق سے بہت خوف زدہ تھا اس لئے وہ کھوکھرا پار بارڈ پر یلغارنہیں کر سکا ۔ آجکل بھارتی حکمران ہمارے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے خوف زدہ ہیں۔انکا ایک آدھ منصوبہ بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکا ۔ کشمیر کی آزادی تک بھارت سے ہماری جنگ رہے گی۔ کارگل کی جنگ میاں نواز شریف کی حماکتوں سے ناکام ہوئی ورنہ آج کشمیر آزاد ہوتا۔ ہمارے سیاست دان پاکستان کو بھارت کی کالونی بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ بھارتی جاسوس یادیو کی پھانسی بھی سیاست دانوں نے روک رکھی ہے ۔شریف برادران مکمل طور پر ہر جاسوس کو آزاد دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں۔ کہ پاکستانی فوج امن نہیں چاہتی۔ اور سیاستدان امن کے حامی ہیں۔ اسی لئے ڈیم نہیں بن رہے یہ لوگ بھارت کے غلام ہیں۔ ان سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔ ہر سال بھارت کے بجٹ میں ہمارے بعض سیاستدانوں کے لئے رقم مختص کی جاتی ہے۔ پاکستانیو! آنکھیں کھولو لٹیروں سے جان چھڑاﺅ اور ایسی جمہوریت کو زمین بوس کر دو جو عوام کو زلیل کرتی ہے اور بھوکا مرواتی ہے۔

Readers Comments (0)




Weboy

Free WordPress Theme