ہم ترقی کے راستے کب دیکھےں گے   


کو شائع کی گئی۔ June 28, 2020    ·(TOTAL VIEWS 41)      No Comments


تحریر :کیڈٹ سلمان احمد
دیکھا جائے تو سائنس اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا آگے بڑھ رہی ہے۱ور وقت کے ساتھ مزید ترقی کررہی ہے،ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی نئی ترقیاں ہورہی ہےں،لوگ آسمان تک پہنچ کر خلاءمیں رہائش اختیار کر رہے ہےں، دنیا بھر کے لوگ مزید ترقی کے خواب دیکھ رہے ہیں لیکن ہم لوگ ان خوابوں سے بالکل ہی بے خبر ہےں،یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم لوگ بھی ان کی طرح خواب دیکھ سکتے ہے یا نہیں۔ ہاں ہم دیکھ سکتے ہیں بہ شرط یہ کہ ان خوابوں کے ساتھ محنت و مشقت کو بھی شامل کیا جائے جوان خوابوں کو عملی جامہ بھی پہنا سکے ۔ترقی کے میدان میں آگے بڑھنا ہمارے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ آج کا دور سائنس اور ٹیکنا لوجی کا دور ہے سائنس اور ٹیکنالوجی ہی کے ذریعے لوگوں نے ترقی کی اور آگے بڑھے۔بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک امریکہ، جاپان، چائنا اور برطانیہ جیسے ممالک نے سائنس اور ٹیکنالوجی ہی کے ذریعے ترقی کی ہے لیکن ہمارے ہاں حالات بالکل مختلف ہیں۔ ہمارے ہاں کے لوگ ان خوابوں اور سوچوں سے بے خبر ہےں اور اسکے پیچھے جاتے بھی نہیں۔
فرض کریں ‘ ترقی کے راستے ہم کس طرح تلاش کریں گے؟
ترقی کے راستے معلوم کرنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے تعلیم،تعلیم ہی کے ذریعے لوگوں نے ترقی کی اور اپنا نام روشن کیا ۔ باہر ممالک کے لوگوں نے ہی تعلیم حاصل کی اور پھر اس تعلیم کو استعمال کیا اور آگے بڑھے اور ترقی کی،اگر ادھر پاکستان کی تعلیم پر نظر ڈالی جائے تو بہتر ہے لیکن کسی حد تک۔ پاکستان میںتعلیم کی ترقی کے لئے بہت سے ادارے کام کررہے ہیں، دیکھا جائے تو حکومت نے تعلیم اور صحت کے لئے بڑے بڑے پروگرام شروع کئے لیکن ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں صرف ۶۲ لاکھ سے ذائد بچے سکولوں سے باہر ہےں۔ اگر پورے پاکستان کا ذکر کیا جائے تو پھر کیا ہوگا ۔ یہ ہمارے محکمہ تعلیم کے افسروں اور اسکے وز را کے لیے سوالیہ نشان ہے۔حکومت تو کام کر رہی ہے پے درپے نوٹیفیکیشن اور ہدایات تو جاری کررہی ہے لیکن ان ہدایات پر عمل کرنا ہے اور لوگوں میں اسکا شعور پیدا کرنا بھی تو حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت وقت کے لیے ضروری ہےکہ وہ ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنائیں اور ہر سکول پر مکمل چیک اپ (check up) رکھیں‘ پھر دیکھیںکہ تعلیمی میدان میں کس طرح تبدیلی رونما تبدیلی ہوتی ہے، پاکستان میں تعلیم کی ترقی میں روکاوٹ کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سکول ، کالجز اور یونیورسٹیاں تو بنتے جارہے ہےں لیکن پھر بھی مسئلہ یہ ہے کہ یہ تعلیمی ادارے سالوں تک ویسے ہی پڑے رہتے ہیں اور عمائدین علاقہ اس میں رہائش اختیار کرتے ہےں،اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت وقت کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اساتذہ پر مکمل چیک رکھے پھر دیکھو کس طرح تعلیمی میدان میں ترقی نہیں ہوتی لیکن یہ تعلیمی محکموں کے افسروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر حکومت ان افسرں پر چیک اپ کے لیے کمیٹیاں بنائے تو پھر دیکھیں کہ پاکستان میں تعلیم کا شعبہ کس طرح ترقی کرتاہے۔دوسرا یہ کہ بین الاقوامی سطح پر جتنے بھی کھیل اور مقابلے ہورہے ہیں اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور بھر پور صلاحیت اور ٹیلنٹ دکھا نا ملکی ترقہ میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔اگر دیکھا جائے تو پاکستانی حکومت صرف کرکٹ پر توجہ دے رہی ہے جبکہ باقی کھیلوں پر وہ توجہ نہیں ، مثلاً ہاکی، فٹ بال اور والی بال وغیرہ،پاکستان میں صرف کرکٹ کے کھلاڑی تو نہیں اور بھی مختلف گیمز کے بہترین کھلاڑی موجود ہےں،حکومت وقت سے ایک چھوٹا سا مطالبہ ہے کہ باقی کھیلوں پر بھی توجہ دی جائے تاکہ ان کھلاڑیوں کا وقت اور جذبہ ضائع نہ ہو ، موجودہ وزیر اعظم بھی تو ایک کھلاڑی رہ چکے ہےں، انھوں نے ہی ۲۹۹۱ءمیں پاکستان کا نام روشن کیا تھا ان کو تو کھیل کے بہت سارے فوائد اور اس میں ترقی کے لئے بہت سارے راستے معلوم ہےں ان کو چاہئے کہ ان راستوں کو تلاش کرے اور باقی ماندہ کھیلوں کو بھی ترقی دیں ۔پھر دیکھو ، کہ ہم کس طرح ترقی کے راستے کس طرح دیکھےں گے۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Free WordPress Theme