ہود بحیثیت دجالی قوم   


کو شائع کی گئی۔ May 19, 2021    ·(TOTAL VIEWS 93)      No Comments

تحریر ۔۔۔ عروبہ عدنان
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا واسطہ دنیا کی ذہین ترین اور چالاک ترین قوم یعنی قومِ یہود سے ہے جسے ہم بلا شبہ دجالی قوم بھی کہہ سکتے ہیں۔۔۔ موجودہ امریکی حکومت پہ زور اسی قوم کا ہے بلکہ یوں کہا جائے تو مغالطہ نہ ہو گا کہ یہودیوں کی امریکہ پہ اجارہ داری ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے جس جس سے نفرت کی اسے تباہ و برباد کیا تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ نہ وہ اپنے سامنے کسی کو ٹھہرنے دیتا ہے اور نہ ہی اپنے سے زیادہ ترقی یافتہ ہونے دینا چاہتا ہے ۔ اس کی ایک مثال جاپان سے امریکہ کے بغض کی بھی ہے۔ 2011 میں جاپان امریکی ڈالر کو انٹرنیشنل کرنسی سے ہٹا کر ایک نئ کرنسی سامنے لانا چاہتا تھا ۔ اگر ایسا ہوتا تو امریکی معیشت تباہ و برباد ہو جاتی ۔۔۔ امریکہ نے تمام صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے جاپان کو ایک خفیہ پیغام دیا کہ اپنی معیشت کو ہماری پالیسیوں کے مطابق کر دو ورنہ ہم تم پر سمندری طوفانوں اور زلزلوں سے حملہ کر دیں گے ۔۔۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوا اور 11 مارچ 2011 میں جاپان میں سونامی اور زلزلے آئے جس کی وجہ سے جاپان کہ معیشت تباہی کے دھانے پہ پہنچ گئ ۔۔۔ جس ٹیکنالوجی کے بدولت امریکہ نے یہ کارگزاری کی اسے ہارپ ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے ۔۔۔ یہ ایک دجالی سوچ کا عملی نمونہ ہے ۔۔۔
ایک حدیثِ پاک میں اس کا تفصیلی ذکر ملتا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا کہ
“دجال کے حکم سے بارشیں ہونگیں اور وہ زمین کو حکم دے گا تو زمین سبزہ اگائے گی ،وہ قہر ڈالنے پہ قادر ہو گا ،زمین اس کے حکم پہ اپنے خزانے باہر نکال دے گی ،اس کا قبضہ تمام زندگی بخش وسائل مثلاً پانی ،آگ اور غذا پر ہو گا ،اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہونگے ،اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پہ ہو گی مثلاً فصلیں ،قحط اور خشک سالی”
اگر اس حدیث پہ غور کیا جائے تو ہم اس ہارپ ٹیکنالوجی نامی پروجیکٹ کا اصل مقصد باخوبی سمجھ سکتے ہیں اور وہ یہی ہے جو اس حدیث پاک سے بالکل واضح ہو رہا ہے کہ ہارپ ٹیکنالوجی دراصل یہی دجالی سوچ کا عملی نمونہ ہے ۔ ہارپ یعنی اس پروجیکٹ کی فنڈنگ امریکی ائیرفورس ،امریکی نیوی ،یونیورسٹی آف الاسکا اور ڈیفینس ایڈوانس ریسرچ پروگرام ایجنسی نے کی ہے ۔ ہارپ ٹیکنالوجی پہ عبور حاصل کرنے کے لیے 1993 میں امریکی ریاست الاسکا سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پہ گکونا کے علاقے میں دنیا کی سب سے خفیہ اور پراسرار تجربہ گاہ بنائ گئ ہے جسے اللہ تعالی کے پیدا کردہ قدرتی موسموں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔
اب چین کی بڑھتی ہوئ معاشی ترقی بھی امریکہ کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے یقیناً اب چینی قوم کے خلاف بھی امریکہ ہر طرح کے ہتھ کنڈے آزمائے گا کیونکہ یہ دجالی قوم کچھ بھی کر سکتی ہے ۔۔۔ گریٹ اسرائیل کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کےلیے دجالی قوم موسموں پہ بھی اپنا قبضہ کرنے کی کامیاب کوششیں کر رہی ہے ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دجال کے پاس جو ہتھیار موجود ہونگے ان میں سے ایک ہتھیار موسموں پہ اسکا دسترس بھی ہوگا ۔۔۔ یہودی دجال کو اپنا بادشاہ کہتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے بادشاہ جس کا ظہور بیت المقدس کو مسمار کر کے قائم کی جانے والی عمارت جسے وہ ہیکلِ سلیمانی کا نام دیتے ہیں کی ایک دیوار سے ہو گا ۔ جس کی پھر دنیا بھر میں حکومت ہو گی ۔ اتنی بڑی تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان اور کشمیر کے موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ کفار یعنی دشمنانِ اسلام موسموں کے ذریعے ہمیں کمزور بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں ان کو اس پہ دسترس حاصل ہو گئ ہے ۔ آزاد جموں کشمیر میں آنے والا زلزلہ بھی اس کی ہی ایک کڑی ہو سکتی ہے ۔ ہمیں یہ بات ذیہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہمارا واسطہ دنیا کی چالاک اور ذہین ترین قوم سے ہے جو موجودہ وقت سے دس سال پہلے کی سوچتی اور پلینگ کرتی ہے ۔۔۔ وہ اپنی اولادوں کی تربیت بھی اسی سوچ کے ساتھ کرتی ہے کہ انہیں آنے والے وقت کے مطابق تیار کرے ۔۔۔۔ ان کا قومی ترانہ اس بات کی مکمل تصدیق کرتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے آنے والے وقت کے لیے سوچتے اور تیاری کرتے ہیں وہ سوچتے ہیں مستقبل قریب میں وہ مشرق کی طرف بڑھیں گے اور مصر ،شام ،یمن سے لے کر تمام اسلامی ریاستوں پہ قہر بن کر ٹوٹیں گے ،اپنے نیزوں کی پیاس مسلم قوم کے خون سے بجھائیں گے اور ایک ہزار سال زمین پہ حکومت کریں گے !!!
وہ برملا یہ کہتے ہیں اور اپنی اولادوں کے ذہنوں میں بچپن سے رقم کر دیتے ہیں ۔۔. کیا ہم نے بھی کوئ تیاری کر رکھی ہے ؟؟؟ہم سہل پسند بن کر اپنی اولادوں کو بھی سہل پسند رہے ہیں ۔۔۔ ہمیں اپنی سوچ کے زاویے بدلنا ہونگے ، ہمیں باریک سے باریک پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا ہے ۔۔۔ ہمیں اپنی سوچ کو مجاہدانہ سوچ میں بدلنا ہے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ کے پنوں پہ ہماری تاریخ بحیثیت ایک زوال یافتہ قوم کی صورت نظر آئے ۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

WordPress Blog