یوم قرار داد پاکستان قومی وحدت کی علامت Article by Dr.B.A.Khurram   


کو شائع کی گئی۔ March 23, 2019    ·(TOTAL VIEWS 48)      No Comments

تحریر۔۔۔ ڈاکٹربی اے خرم
اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنے معرض وجود میں آئے 72سال مکمل کرچکا ہے گزرے سالوں میں وطن عزیز نے بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کیا ہم نے اپنی غلط حکمت عملی اور نالائقی سے اپنے ملک کا ایک اہم حصہ گنوا دیا ہمارے ملک میں لسانی و صوبائی عصبیت میں ہوا دی گئی ہم پاکستانی نہیں بلکہ پنجابی،سندھی،پختون اور بلوچ کہلوانے میں فخر سمجھتے ہیں حالانکہ ہمیں پاکستانی ہونے پہ فخر ہونا چاہئے اس ملک کو جہاں سیاست دانوں نے یرغمال بنائے رکھا وہاں ایک عام شہری نے بھی اپنی بساط کے مطابق اسے لوٹنے اور نوچنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،ملک عزیز پہ حکمرانی کرنے والے سیاست دانوں نے قوم کو’’روزی روٹی‘‘ کے چکروں میں الجھا کے رکھ دیا ہے اشرافیہ نے ہمیشہ سے سرمایہ دارانہ نظام کا نہ صرف پرچار کیا بلکہ اس کے تحفظ کے لئے بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ’’اشرافیہ‘‘ نے اپنے اقتدار اوردولت اکھٹی کرنے کیلئے آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیشہ قوم کو بیوقوف بنائے رکھا ’’سرے محل‘‘ سے لیکر ’’لندن فلیٹس‘‘ تک سیاست دانوں نے عوام کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا یہ سب پاکستانی قوم بخوبی جانتی ہے کیونکہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے
ملک بھر میںیوم پاکستان23مارچ کو روایتی جوش و جذبہ اور شایان شان طریقے کے ساتھ منایا جاتا ہے اس موقع پر وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ ہو تی ہے جس میں پاکستان کی بری،بحری اور فضائی افواج کے دستے حصہ لیں لیتے ہیں ،جنگی جہازوں کے فضائی مظاہرے پیش کیے جائیں جاتے ہیں جبکہ بیرون ممالک میں تمام سفارت خانوں میں بھی قومی پرچم لہرانے کی تقاریب کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتاہے23مارچ کو نماز فجرکے بعد ملک و ملت کی سلامتی اور استحکام کیلئے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں اس دن کے حوالے سے اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں جبکہ ریڈیو پاکستان ،پی ٹی وی اور نجی ٹی وی چینلز سے بھی خصوصی دستاویزی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں جس میںیوم پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے سکولوں کالجوں اور دیگر اداروں میں سکاؤٹس اور گرلز گائیڈز کی جانب سے خصوصی ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔یوم پاکستان کی مناسبت سے ملک بھر میں سیاسی و سماجی،ثقافتی ،ادبی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے یوم پاکستان بھرپور انداز سے منانے کیلئے تقریبات کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے کراچی میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح اور لاہور میں شاعر مشرق سرعلامہ اقبال کے مزاروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہیں اور حکومتی شخصیات حاضری دیتی ہیں ملک بھر میں 23 مارچ کے حوالے سے جوش و ولولہ ہمارے قومی اتحاد کی نہ صرف علامت ہے بلکہ سیاسی پارٹیوں سمیت سول سوسائٹی بھی اس ولولہ انگیز جذبے میں برابر کی شامل ہیں 23 مارچ کے حوالے سے شاندار اور پروقار تقریبات کا اہتمام دراصل پوری دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان امن پسند ہے اور ملکی سلامتی و دفاع کیلئے مضبوط ارادوں اور عزم صمیم کے جذبات رکھتا ہے یوم قرار داد پاکستان ہماری قومی وحدت کی علامت ہے، 23 مارچ کو منانے کے حوالے سے ملک بھر میں جوش و جذبہ، ولولہ جذبات کا آئینہ دار ہے ، پوری قوم متحد ہے اور پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، پوری قوم کو افواج پاکستان پر ناز ہے، ملکی دفاع اور سلامتی کے حوالے سے پوری قوم سمیت افواج پاکستان کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے
بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں مارچ1944ء کو اپنے خطاب میں فرمایا کہ پاکستان’’ اسی دن وجود میں آگیا تھا جس دن ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا ، یہ اس زمانے کی بات ہے جب یہاں مسلمانوں کی حکومت ابھی قائم نہیں تھی مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید پر ہے وطن اور نسل پر نہیں جب ہندوستان کا پہلا فرد مسلمان ہوا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا بلکہ ایک جدا گا نہ قوم کا فرد بن گیا ہندوستان میں ایک نئی قوم وجود میں آگئی ‘‘ دو قومی نظریئے کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر 23مارچ 1940ء کو مسلمانان برصغیر نے بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں لاہور کے منٹو پارک میں آزاد مملکت خداداد قائم کرنے کے فیصلے پر مہرثبت کردی23 مارچ، 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی قراردار پاکستان جو ہماری تہذیبی اساس ہے کو قراردادلاہور کے نام سے 23مارچ 1940ء کو بنگال کے وزیر اعلی مولوی فضل الحق نے قرارداد لاہور پیش کی جس میں کہا کہ’’ اس وقت تک کوئی آئینی منصوبہ نہ تو قابل عمل ہوگا اور نہ مسلمانوں کو قبول ہوگا جب تک ایک دوسرے سے ملے ہوئے جغرافیائی یونٹوں کی جدا گانہ علاقوں میں حد بندی نہ ہو۔ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے، انہیں یکجا کر کے ان میں آزاد مملکتیں قائم کی جائیں جن میں شامل یونٹوں کو خود مختاری اور حاکمیت اعلی حاصل ہو‘‘مولوی فضل الحق کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کی تائید یوپی کے مسلم لیگی رہنما چودھری خلیق الزماں، پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، سرحد سے سردار اورنگ زیب سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسی نے کی قرارداد 23 مارچ کو اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔ملک عزیز اس وقت گھمبیر صورت حال میں ہے اندرونی اور بیرونی محاذوں میں چوکس رہنے کی ضرورت ہے ہمارا ہمسایہ اپنے گندے عزائم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے کنٹرول لائن پہ آئے روز بلا اشتعال فائرنگ ان کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے ملک میں بیٹھے کچھ لوگ بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے یوم پاکستان کے پر مسرت موقع پہ ہر شہری اور سیاست دانوں کو اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ ہمارے وطن کی سلامتی میں ہی ہم سب کی بھلائی اور سلامتی ہے ذاتی و سیاسی مفادات کی جنگ میں ہمارا ذاتی فائدہ تو ممکن ہے لیکن وطن کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے ہمیں رنجشیں مٹا کر اندورنی و بیرونی محاذوں پہ کندھے سے کندھا ملا کر ملک دشمن عناصر کو شکست سے دوچار کرنا ہوگا۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Free WordPress Theme