یہ زلفیں تمھاری   


کو شائع کی گئی۔ February 20, 2020    ·(TOTAL VIEWS 67)      No Comments


مظہر گھایئل  
ریاضی کو سایئنس کی ماں کہا جاتا ہے لیکن ریاضی میں ماں کی کوءنشانی مجھے نظر نہ آءالبتہ جمع ضرب،نفی اور تقسیم کے علاوہ جو ریاضی جماعت نہم سے لے کر ایم ایس سی تک پڑھاءجاتی ہےمیں نے آج تک عملی زندگی میں اس کا استعمال نہیں دیکھا اور سارے سوالات فرض کریں سے شروع ہوکر بے نتیجہ جواب جس کا تعلق عملی زندگی سے نہیں ہوتا پر ختم ہوجاتے ہے ہیں جو لوگ ریاضی میں ایم۔فل اور پی ایچ ڈی کر جاتے ہیں وہ صرف ریاضی پڑھاتے نظر آیئنگے تو یہ کیسی سایئنس کی ماں ہے جس کی کوءپیداوار اور کوءعملی میدان موجود نہیں اگر شاید ہو بھی پر مجھے اس کا علم نہیں۔اور ریاضی کی علم میں انگریزی حروف کے صرف ایکس اور وائی ہی استعمال ہوتے ہیں دوسرے حروف کے ساتھ انکی کیوں دشمنی لگی ہے۔ماں تو رحم کی پیکر ہوا کرتی ہے لیکن ریاضی رحم سے عاری۔جتنے طلبا ریاضی میں مار کھاتے ہیں اتنی مار تو ہمارے تھانوں کے اندر ریمانڈ میں نہیں ہوتیں۔اور پھر بھی اس کو سایئنس کی ماں کہاجاتا ہے میں تو کہتا ہوں کہ ریاضی تو سایئنس کی فرعون ہے جس نے طلبا کو مار مار کر تھڑڈ ڈویجن تمھاکر مستقبل کو داﺅ پہ لگادی۔
ریاضی کو سمجھنا ہر کسی کا کام نہیں اس کے لئے ایک الگ ذہنیت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کسی کی عنبری زلفیں بھی انسان کو ایسے مسایئل میں پھنسا دیتی ہے کہ پھر اسی جال سے نکلنا الجبرا حل کرنے سے ذیادہ کھٹن ہوتا ہے۔تمھاری زلفیں اپنی چہرے پہ تقسیم کرنا چاہتا تھا لیکن ان زلفوں نے مجھے تقسیم کرکے رکھ دیا اور تقسیم کے ساتھ ضرب دے کر دنیا کے کام کاج سے نکال دیا۔میں ان زلفوں کو جمع کرنے کی ارمان کررہاتھا مگر ان زلفوں نے مجھے دنیا کی رونق سے منفی کرکے ہیرو سے زیرو بنادیا۔میں اپنے آپ کو سینکڑوں لوگوں میں خوش نصیب تصور کررہاتھا لیکن تمھاری زلفوں نے میرا جب فیصد نکالا تو ان ۵?%50%فیصد پاگلوں میں ایک میں بھی شامل تھا۔تمھاری زلفیں جب چہرے پہ بکھر جاتی ہے تو اسی وقت میرے ارمان کسور عام کی طرح ٹکڑوں میں بٹ جاتے ہیں۔لیکن جب یہ زلفیں کمر پہ حکومت قائیم کرتی ہے تو جیومیٹری کے تمام زاویئے میرے ذہن کو منتشر کر دیتی ہے۔لیکن جب یہ زلفیں آپ کی آنکھوں کے اوپر ناچتی ہے تو لوگوں سے میرا نسبت تناسب ختم ہوجاتا ہے۔لیکن جب پلکیں اوپر اٹھ جاتی ہیں تو میرے دل ودماغ کے تمام سیٹ ڈیلیٹ ہوجاتے ہیں۔
بس جتنی پیچیدہ ریاضی ہے اس سے کہیں ذیادہ پیچیدہ تمھارے زلفیں۔۔ اور ریاضی میں سب سے مشکل الجبرا اور ٹریگنو میٹری اور تمھارے زلفوں کے خم۔نہ جانے یہ زلفیں گھنیری کیوں انسان کو سلگتے ارمانوں کی اعشاریوں میں ذرے ذرے کرتا ہے۔
یہ ریاضی اور میرا ماضی یہ زلفیں اور آنکھیں شرابی نہ جانے کب اس جال زندان سے مجھے خلاصی نصیب ہوگی تم ادھر سلجھتی رہو اپنی زلفوں کو اور میں الجھتا رہوں تمھاری یادوں میں شاید تمھاری زلفوں کی اداووئں کو دیکھ سایئنس کی ماں بھی ان اداووئں کے حساب نہ دے سکے اور سایئنس کی ماں کی طرح پیچیدہ،،الجھے الجھے زلفیں بھی کبھی کبھی کسی سے راحت اور سکون کو زندگی سے چھین لیتی ہیں۔۔بس یہ ریاضی کسی خوش نصیب کےلئے کھیل کھیل اور یہ زلفیں کسی بدنصیب کیلئے جیل جیل۔۔۔۔بس کوءکردیا پاگل ریاضی نے اور کوءکردیا گھایئل زلفوں نے۔۔۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Free WordPress Theme