ٹھٹھہ؛11 سالہ بچے کو گھٹکے کے جھوٹے کیس میں پھنسانے کی دھمکیاں

Published on December 7, 2018 by    ·(TOTAL VIEWS 389)      No Comments

ٹھٹھہ(رپورٹ حمید چنڈ) ایس ایس پی ٹھٹھہ کی منشیات کے خلاف بنائی گئی خصوصی ٹیم کے کالے کارنامے منظر عام پر آنے شروع ہوگئے، 11 سالہ بچے کو گھٹکے کے جھوٹے کیس میں پھسانے کے دھمکیاں دیکر جنسی تشدد کرنے کی کوشش، بچے کی جانب سے مزاہمت کے بعد سخت تشدد کرکے جاڑیوں میں پھینک کر باگ گئے، تفصیلات کے مطابق گذشتہ دن عوامی پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 11 سالہ محبوب میمن نے صحافیوں کو بتایا کے میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے اور میں اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہوں کمانے والا کوئی نہیں ہے اس لیے میں نے اسکول چھوڑ کر مکلی ورکشاہ پر چوٹی کنفیکشنری کی کئبن لگائی ہوئی ہے جہاں کافی عرصے سے پولیس اہلکار عرفان پٹھان اپنے دیگر اہلکاروں کے ساتھ آکر مجھے پریشان کرتا تھا اور مجھ سے مفت میں سگریٹ اور دیگر اشیاء لیکر جاتا تھا مگر کل مورخہ 5 ڈسمبر کو دوپہر تین بجے سفید کرولا گاڑی میں تین اہلکار جس میں ایک عرفان پٹھان اور دو نامعلوم اہلکار جن میں سے ایک نے پولیس کی پہنی ہوئی تھی اور دو سادے کپڑوں میں ملوث تھے مجھے زوری زبردستی سفید کرولا گاڑی میں ڈال کر بائے پاس مکلی پر لے گئے اور مجھے جنسی تعاون کرنیکا بولا جب میں نے منع کیا تو مجھے سخت تشدد کرکے جان سے مار ڈلنے کی دھمکیاں دیں مگر میرے مسلسل انکار اور چیخنے کے باعث مجھے پیٹ میں لاتیں مارتے ہوئے گالیاں دیں جسکت بعد مجھے وہاں چھوڑ کر باگ گئے، شدید تشدد کے باعث میں وہاں سے جیسے تیسے اپنی کئبن تک پہنچا تو ان میں سے ایک جو کرولا گاڑی چلارہا تھا میرے پاس آکر مجھے گالیاں دیں اور دھمکایا کے کسی کو شکایت دی تو فل فرائی میں چلادینگے تجھے جاکے بعد سگریٹ کا پاکیٹ لیکر بغیر پیسے دیے بغیر وہاں سے چلاگیا، اس موقعے پر متاثرہ بچے نے روتے ہوئے کہا کے آئے دن بہت ساڑے پولیس اہلکار مجھے جھوٹے مقدموں میں پھسانے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں 11 سالہ محبوب میمن نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی ٹھٹھہ شبیر احمد سیٹھار سے گذارش کرتے ہوئے کہا کے مجھے مذکورہ پولیس اہلکاروں سے بچایا جائے مجھے ڈر ہے کے اس پریس کانفرنس کے بعد مجھے مار دینگے اور انہوں پولیس سے نکال کر سخت سے سخت سزا دیں، یاد رہے کے ایس ایس پی ٹھٹھہ شبیر احمد سیٹھار کی خصوصی ٹیم کی جانب سے اب تک 10 سے زائد جھوٹے مقابلوں میں ہاف فرائی اور دو فل فرائی اور 20 کے قریب چرس کے جھوٹے مقدمات میں ایف آئی آر درج ہوچکیں ہیں جبکہ ایس ایس پی ٹھٹھہ کی جانب سے جھوٹے مقابلے اور ایف آئی آر درج کروانے والے خصوصی ٹیم کا احتساب اور سزائیں دینے کے بجائے انکو شاباسی کے طور پر تعریفی سرٹیفکیٹس تقسیم کیے جاتے ہیں اور بے گناہ عوام کو ہراساں کرنے پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

Readers Comments (0)




Weboy

Free WordPress Themes