طبی تشخیصی لیبارٹری کا معیار ِانتظام اور مقامی پاکستانی لیبارٹریوں کا تعارف

Published on January 30, 2021 by    ·(TOTAL VIEWS 263)      No Comments


تحریر۔۔۔محمد عباس بلوچ حیدرآباد
ایک معیاری لیبارٹری کا مطلب ایسی لیبارٹری ہے جہاں خون یا دوسرے تشخیصی نمونوں کی جانچ کے قابل اعتماد نتائج سو فیصد درستگی کے ساتھ بر وقت فراہم کیے جاسکیں تاکہ وہ صحت عامہ اور صحت کو یقینی بنانے والے اداروں کے لیے مفیدثابت ہو سکیں۔کسی بھی طرح کی پیمائش کرتے وقت ، کچھ نہ کچھ غلطی کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تشخیصی نظام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے غلطی کی سطح کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے۔ ۹۹ فیصد درستگی کی سطح پہلی نظر میں قابل قبول ہوسکتی ہے ، لیکن اس کے برعکس 1فیصد غلطی کسی حسساس نظام (جیسے کہ طبی تشخیصی عمل ) میں کافی بھاری نقصان پنہچا سکتی ہے ۔کیوں کہ تشخیصی عمل میں چھوٹی سی غلطی بھی کسی انسان کی جان لے سکتی ہے ۔
بہت ساری دوسری سنعتوں کی طرح، پاکستان میں تشخیصی صنعت (تشخیصی لیبارٹری) ترقی کی طرف گامزن ہے، اور صارفین علاج کے لیے صرف ایک ضروری تشخیص کے بجائے معیاری تشخیص کے خواہاں ہیں۔ پچھلے دس سے پندرہ سالوں کے دوران ، معیاری تشخیص میں بتدریج اضافہ کے ساتھ ساتھ عوام میں یہ شعور بھی آیا ہے کہ ایک صحیح اور معیاری تشخیص وقت ، رقم اور تکلیف سے بچا سکتی ہے۔ عام طور پر پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستانی ادارہ برائے اعداد و شمار کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ 2002 سے 2017 کے دوران سال بہ سال صحت کی دیکھ بھال پر صارفین کے اخراجات میں اوسطاً 9.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2017 میں صحت کی دیکھ بھال پر صارفین کے اخراجات کا تخمینہ 418 کروڑ روپے ($ 3،983 ملین) تھا۔ اس میں سے ایک چوتھائی یعنیٰ 114 کروڑ روپے (1،087 ملین) او ۔پی۔ڈی کے خدمات پر خرچ کیے گئے ، جس میں ڈاکٹر، اسپتال او۔پی۔ڈی اور تشخیصی خدمات(مسئلاً ڈاکٹروں کی فیس، لیب ٹیسٹ وغیرہ) جیسی چیزیں شامل ہیں۔ اور اس رقم میں صحت کی دیکھ بھال پرہونے والے سرکاری اخراجات شامل نہیں ہیں ۔
ہر کوئی جانتا ہے کہ لوگ بہتر کھانا چاہتے ہیں ، بہتر پہننا چاہتے ہیں ، اور بہتر ڈاکٹروں سے رائے لینا چاہتے ہیں۔ اس لیے تشخیصی صنعت بہت بڑے پیمانے پر کاروباری دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ تکنیکی طور پر ، ترقی ہوئی ہے… اور پچھلے تین سے چار سالوں میں ، بہت سے نئے مقامی بڑے گروپ ، جو مختلف کاروبار چلاتے ہیں ، اسپتالوں اور تشخیصی مراکز کے قیام کے زریعے صحت کی دیکھ بھال کی صنعت میں آنا شروع ہوگئے ہیں… اور پھر بین الاقوامی سرمایہ کار بھی موجود ہیں۔ ، جنہوں نے صحت کی دیکھ بھال کے کاروبار کو شروع کرنے کے لئے پاکستان کو ایک مثالی منزل قرار دیا ہے۔ لہذا آغا خان ، شوکت خانم ، چغتائی ، شیفہ اور ایسے ہی دیگر بڑے مشہور ادارے اس تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہیں اور یہ روش صرف تشخیصی صنعت میں نہیں ہے بلکہ ہماری معاشیات کا عام طرز عمل ہے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress Blog