تخت یا تختہ وزیر اعظم کی قسمت کا فیصلہ آج ہوگا

Published on March 6, 2021 by    ·(TOTAL VIEWS 294)      No Comments

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر بی اے خرم
سینیٹ انتخابات میں متحدہ اپوزیشن کے امیدوار سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جیت سے حکومتی ایوانوں میں سیاسی زلزلہ آنے سے حکومت وقت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ 341کے ایوان میں حکومت کو 180ارکان کی حمایت حاصل تھی لیکن حکومتی امیدوارڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ایوان سے صرف164ووٹ حاصل کر پائے حالانکہ ایوان میں حکومت کو عدی اکثریت حاصل تھی حکومت کے غیر منتخب ترجمان ،مشیران ، وفاقی وزراء،وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سمیت سبھی حکومتی امیدوارکی جیت کے دعوے کرتے تھکتے نہیں تھے ٹی وی چینلزپرحکومتی ترجمان تکبر کے فرعون بن کر خدائی دعوے کرتے تھے تکبر رب کائنات کو پسند نہیں تکبر کرنے والے خاک میں مل جایا کرتے ہیں حکومتی امیدوار کی شکست سے تبدیلی سرکار کا اقتدار لرزتا محسوس ہوا ایسے میں صدر پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو اعتماد کے ووٹ کا کہا گیاشکست کے پہلے روز اعلان ہوا کہ وزیراعظم آج کے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے لیکن بعد میں چھ مارچ کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا گیا صدر پاکستان نے آج سوا بارہ بجے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا
وزیراعظم عمران خان آج ہفتہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں اعتماد کا ووٹ لیں گے وزیراعظم نے تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دیوزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے 172 ارکان کی حمایت درکار ہو گی اعتماد کے ووٹ کے لئے طریقہ کات کچھ یوں ہوگا سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اجلاس کی صدارت کریں گے اجلاس کے آغاز پر کسی بھی وزیر کی جانب سے اعتماد کے ووٹ سے متعلق تحریک پیش کی جائے تحریک منظور ہونے پر ایوان میں کچھ دیر کے لیے گھنٹیاں بجائی جائیں گی تا کہ ارکان ایوان کے اندر پہنچ جائیں مقررہ ٹائم کے بعد گھنٹیاں بند کی جائیں گی پھر قومی اسمبلی کے ہال کے تمام دروازے بند کردیئے جائیں گے سپیکر قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کرنے والے ارکان کو دائیں جانب لابی میں جانے کا اعلان کرے گا جو وزیراعظم پر اعتماد نہیں کرتے انہیں بائیں جانب لابی میں جانے کا کہا جائے گا اس کے بعد سپیکر گنتی کا عمل شروع کریں گے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے341کے ایوان سے کم سے کم 172 ارکان کی حمایت حاصل کرنا لازم ہو گا وزیراعظم کی جانب سے 172 ارکان کی حمایت کرنے یا نہ کرنے سے متعلق رپورٹ سپیکر قومی اسمبلی صدر مملکت کو بھجوائے گا۔عمران خان نے مقررہ نمبرز حاصل کر لیے تو عمران خان کو اعتماد کا ووٹ مل جائے گا۔اعتماد کا ووٹ نہ لینے سے متعلق صدر کو رپورٹ بھجوانے پر صدر مملکت اپوزیشن لیڈر کو اکثریت دکھانے کے لیے کہیں گے۔ اپوزیشن لیڈر اکثریت نہ دکھا سکے تو صدر مملکت اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے سینیٹ الیکشن میں سندھ کے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس نے وزیراعظم عمران خان کو تحریک انصاف کے سات باغی اراکین کے نام ارسال کردئیے جی ڈی اے کی جانب سے وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کے جن ایم پی ایز نے انہیں ووٹ نہیں دئیے ان میں کریم گبول ،عباس جعفر،بلال غفار ،رابستان خان اور عمر عمیر ی سمیت دیگر شامل ہیںجن کی وجہ سے جی ڈی اے الیکشن میں جنرل نشست ہار گئی جی ڈی اے نے ایسے وقت میں وزیر اعظم سے گلہ شکوہ کیا جب وزیر اعظم خود مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں ایسے حالات میں جی ڈی اے کی ناراضگی خطرے کی گھنٹی بجنے کے مترادف ہے دوسری جانب اپوزیشن اتحادپاکستان ڈیموکریٹک کے تین بڑوں نے وزیر اعظم کے ایوان سے اعتماد کے ووٹ کے معاملے پر لاتعلق رہنے ،حکومت گرانے کیلئے تمام آپشنز کااستعمال اور سربراہی اجلاس بلانے پر اتفاق کیا ہے سابق صدر آصف علی زرداری نے نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ سے ٹیلی فونک رابطے کئے ہیں اور انہیں سینیٹ الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ہے زرداری نے قائد ن لیگ نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ پی ڈی ایم وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے عمل کا حصہ نہ نہیں بنے گی ،اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا عمران خان کا مسئلہ ہے ہم اس سے لاتعلق رہیں گے ، مسلم لےگ ن کے قائد مےاں نواز شرےف نے سابق صدر کی اس تجوےز پر اتفاق کےا ہے ۔بعد ازاں سابق صدر آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کرکے آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ہے ،دونوں رہنماﺅں نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا تسلسل آگے لیکرچلنے پراتفاق کےا ہے، دونوں رہنماﺅں کے درمےان اعتماد کا ووٹ لینے کے معاملے پر بھی بات چیت ہو ئی آصف زرداری کے رابطوں میں تےنوں رہنماﺅں نے حکومت گرانے کےلئے تمام آپشنز استعمال کرنے اور پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلانے پر اتفاق کیا ہے قوم سے وزیر اعظم ک کے خطاب کے بعد الیکشن کمیشن کی جان سے سخت رد عمل سامنے آیا جو وزیر اعظم کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے وزیر اعظم کے سر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں وزیر اعظم پاکستان کے لئے آج کا دن بڑا اہم ہے تخت یا تختہ فیصلہ آج ہوگا۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

Premium WordPress Themes