گوادر بندر گاہ 7سال گزرنے کے بعد بھی آپریشنل نہ ہو سکا

Published on April 1, 2014 by    ·(TOTAL VIEWS 741)      No Comments

adamتحریر۔۔۔۔ آدم قادر بخش
انیس سو چونسٹھ میں گوادرکو بندر گاہ کے لیے موضوع قرار دیا گیا میاں نواز شریف نے90 کی دہائی میں گوادر بندرگاہ پر کام شروع کرنے کی تیاری کی لیکن جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف حکومت برطرف کر کے اقتدارپر قبضہ کر لیا سابق فوجی حکمران جنرل مشرف نے2002 میں چینی حکومت کے تعاون سے گوادر بندر گاہ کی تعمیرات کا آغاز کیا20جنوری2007 کو گوادر پورٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا بلوچستان کا خوبصورت ساحلی شہر گوادر اپنی جغرافیائی محل وقوع اور پورٹ سٹی ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں شہرت حاصل کر چکا ہے گوادر ڈیپ سی بند رگاہ دنیا کے بڑے گہرے بندرگاوں میں شمار ہوتا ہے گوادر بندر گاہ کو 7سال گزرگئے مگر گوادر پورٹ اب تک آپریشنل نہ ہو سکا پاکستان کے معاشی حب گوادر پورٹ میں متعدد چیرمین ان اور آوٹ ہوئے 7 سال کے عرصے میں کسی بھی چیرمین کے تعیناتی کے دور میں گوادر پورٹ کو آپریشنل کرنے کی جانب نہیں دکیلا گیا بلکہ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ سابق وزیر پورٹ اینڈ شپنگ نبیل گبول دورہ گوادر کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بولے پاکستان میں ایک مخصوص لابی ہے جو گوادر پورٹ کو مکمل آپریشنل نہیں ہونے دیتی اس لابی کا معاملہ اب تک حل نہ سکا کہ وہ کون سی لابی ہے پاکستان میں جو گوادر بندرگاہ کو آپریشنل نہیں ہونے دیتی ؟؟؟
سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں پورٹ آف سنگاپور کے ساتھ معائدہ کرکے گوادر بندرگاہ کو سنگارپور پورٹ اتھارٹی کے حوالے کردیا گیا پی ایس اے سے گوادر پورٹ آپریٹ نہ ہوسکا پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے پورٹ آف سنگاپور سے معائدہ ختم کر کے چینی پورٹ آپریٹنگ کمپنی کے ساتھ نیا معا ئدہ کیا معائدے کے بعد سے اب تک چینی پورٹ آپریٹنگ کمپنی کی جانب سے گوادر بندر گاہ پر باقاعدہ کام کا آغاز نہیں ہوسکا وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف ہر فورم پر گوادر پورٹ کا ذکر کرتے ہے گوادر کو مسقبل کا دبئی، ہانک کانگ اور سنگاپور جیسا شہر بنانا چاہتے ہے میاں نوازشریف نے چین کا بھی دورہ کیا اور چینی حکومت کے متعدد وفد گوادر کا دورہ کر چکے ہیں چینی کمپنی گوادر میں بجلی گھر اور اسٹیل مل لگانے کی خواہش بھی ظاہر کرچکے ہے مگر ان تمام پروجیکٹ پر کام کا آغاز تب ہو سکے گا جب گوادر پورٹ مکمل آپریشنل ہوسکے گا گوادر بندر گاہ کو مکمل آپریشنل کرنے کے لیے ضروری ہے گوادر بندر گاہ سے رینکر افسران کو فراغ کیا جائے جو گوادر پورٹ کے بننے کے بعد سے بندرگاہ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہے پورٹ میں نئے فریش تجربہ کار افسران کو بھر تی کیا جائے گوادر کے نوجوانوں کو پورٹ ریلیٹیڈ فنی تعلیم دی جائے ضلع گوادر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پورٹ میں روزگار فرائم کیا جائے لوگوں میں شعور بیدار کیا جائے تاکہ گوادر بندر گاہ عملی طور پر پاکستان کا معاشی حب بن سکے گوادر بندرگاہ سے گوادر سمیت بلوچستان اور پاکستان کو فائدہ پہنچ سکے ۔۔۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

WordPress Blog