خیرسگالی کے تحت غیرعسکری طالبان کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے، چوہدری نثار علی خان

Published on April 6, 2014 by    ·(TOTAL VIEWS 187)      No Comments

4
اسلام آباد ۔۔۔ وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت اور طالبان کمیٹی کے مذاکرات کے عمل میں معاملات مثبت انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں، حکومت کا بنیادی نکتہ نظر پاکستان کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے امن کا قیام ہے اور فریقین کی جانب سے خیرسگالی کا اظہار خوش آئند ہے، حکومت نے جذبہ خیرسگالی کے تحت 13 غیرعسکری طالبان کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے، دوسری جانب سے بھی اسی جذبے کی توقع ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پنجاب ہاؤس میں حکومتی اور طالبان کمیٹی کے مابین طویل مذاکراتی دور کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل اتنا آسان نہیں، ملٹری آپریشن یا تشدد کی راہ اختیار کرنا بہت آسان ہے لیکن امن قائم کرنا بہت مشکل کام ہے جس کیلئے حکومت سنجیدگی سے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلہ پر منفی بیانات اس عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تنقید کرنے والوں کو چند ہفتوں پر بھی نظر ڈالنا چاہیے کہ کس حد تک امن آیا اور کس حد تک دھماکوں میں کمی آئی ہے لیکن ہم پرامید ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج کے مذاکرات میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بات چیت ہوئی ، ہم چاہتے ہیں کہ اب اصل نکات کی طرف بڑھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مذاکرات کا عمل واضح تفصیلات کے ساتھ دونوں اطراف سے آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیرسگالی کے تحت مزید 13 غیرعسکری طالبان کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے کچھ لوگ اس فہرست میں شامل تھے اور کچھ اس کے علاوہ ہیں۔ قبل ازیں مارچ میں 19 غیرعسکری افراد کو رہا کر چکے ہیں جس کے بعد یہ تعداد 30 کے قریب پہنچ جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے بھی نام لے کر ایسے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جن کانہ ہی اس لڑائی سے کوئی تعلق تھا لیکن وہ ان کے قبضہ میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسر اجمل، سلمان تاثیر کے صاحبزادے اور سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے سمیت غیرملکی اور دیگر ملکی قیدیوں کی رہائی کا کہا ہے ،امید ہے اس طرف سے بھی اسی جذبہ خیرسگالی کا اظہار ہوگا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ خیرسگالی دونوں جانب سے ہوگی تو عمل آگے بڑھے گا اور ملک کے طول و عرض میں اعتماد کی فضاء بحال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی دعائیں اس ڈائیلاگ کے عمل کے ساتھ ہیں اور ہم بڑی یکسوئی اور سنجیدگی سے آگے بڑھ رہے ہیں جو بھی فیصلہ ہوگا ملک اور قوم کے مفاد میں کریں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان کی طرف سے مذاکرات کیلئے ایسی جگہ کا تعین کرنے کا مطالبہ آیا تھا کہ جہاں آنا جانا آسان ہو اس پر بھی بات ہوئی ہے تاکہ یہ عمل آسان ہو۔ درپردہ، اندرونی معاملات جو چل رہے ہیں ہم پرامید ہیں کہ کامیابی ملے گی۔ چوہدری نثار علی خان کے کہا کہ چھوٹے سے چھوٹے ایجنڈے پر بات چیت کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اور ہم کم سے کم وقت میں تشدد کے مکمل خاتمہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ قبل ازیں طالبان کی طرف سے نامزد کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کیلئے حکومتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ جو اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں ان پر غور ہوا ہے تاکہ خیرسگالی کے جذبات کو آگے بڑھا کر مکمل امن قائم ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ مذاکرات کا آئندہ دور دو سے تین دن میں ہوگا جس کیلئے مناسب جگہ کے تعین پر غور ہو رہا ہے، حکومت غیرعسکری قیدیوں کی رہائی پر غور کر رہی ہے جب ہم واپس جائیں گے ہمیں تفصیلی معاملات سے آگاہ کردیا جائے گا تاکہ اسے ہم طالبان کے سامنے رکھیں اور ان سے بھی مطالبہ کریں گے کہ خیرسگالی کی فضاء قائم رکھیں۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress Blog