سعودیہ میں 35 سال بعد خاتون کو اپنے اصل والدین کا پتا چلا   


کو شائع کی گئی۔ August 30, 2021    ·(TOTAL VIEWS 43)      No Comments

ریاض (یواین پی) یہ دُنیا اتفاقات سے بھری پڑی ہے۔ ایسے ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سعودی عرب میں بھی ایک ایسا انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے جس پر سب حیران ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ہسپتال والوں کی غلطی سے 35 سال قبل دو بچیوں کو ان کے اصل کی بجائے کوئی اور والدین کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 35 سال بعد ایک سعودی خاتون کو پتا چلا کہ اس کے والدین کوئی اور ہیں جسے ہسپتال میں پیدائش کے وقت کسی اور بچی سے بدل دیا گیا تھا۔اس کا تعلق ایک خوش حال اور امیر گھرا نے سے تھا۔ ہسپتال ے غلطی سے اسے ایک غریب اور نادار خا ندان کے حوالے کردیا تھا جبکہ نادارکی بچی کو امیر خا ندان کے سپرد کردیا گیا تھا۔ مکہ کی خاتو ن کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سوچتی تھی کہ اس کا رنگ، شکل، ناک نقشہ اس خا ندان سے میل نہیں کھاتا ہے۔غریب خا ندان میں اس نے نشوونما پائی اور انہی کے رشتہ داروں میں اس کی شادی بھی ہوگئی۔ایک دن اس نے ہسپتال کا رخ کیا اور اپنا ڈی این اے کرایا۔ پتہ چلا کہ اس کا شک درست تھا- اس کا اس خا ندان سے کوئی تعلق نہیں تھا جس میں وہ پلی بڑھی۔ غلطی سرکاری ہسپتال کی تھی۔ مکہ کی خاتون ڈی این اے کی رپورٹ لے کر جنرل کورٹ پہنچ گئی اور مقدمہ دائر کردیا۔ یہ بھی پتہ لگالیا کہ اس کے اصل ماں باپ کو ن ہیں۔ محکمہ احتساب (دیوا ن المظالم) نے اس کے حق میں فیصلہ دیا۔خاتو ن نے مقدمے میں اپنے اس دکھ کا بھی اظہار کیا کہ اس کی ماں اسے دیکھے بغیر ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔محکمہ احتساب ے اس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے سرکاری ہسپتال سے اسے 20 لاکھ ریال ہرجانے کا بھی حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے اس کے نسب نامے کی تصحیح بھی کردی جبکہ امیر خا ندان کے حوالے کی جا ے والی لڑکی کے لیے 17 لاکھ ریال معاوضے کا فیصلہ سنایا گیا۔ دونوں کے معاوضے میں فرق کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ زیادہ نقصان امیر خا ندان کی لڑکی کا ہوا تھا۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme
Free WordPress Themes