غربت اور پاکستان   


کو شائع کی گئی۔ September 17, 2021    ·(TOTAL VIEWS 70)      No Comments

ڈاکٹر شمشاد اختر
سولہ اکتوبردنیا بھر میںخوراک اور۷۱ اکتوبر غربت کے عالمی دن کے طور پر منائے جاتے ہیں اس تناظر میں دیکھا جائے تو عالمی سطح پر بہت سے ممالک خوراک کی قلت اور غربت جیسے مسائل سے بر سر پیکارہیں خصوصاََ مشرق وسطی اور ایشیاکے ممالک ہیںاس سلسلہ میں سر فہرست ملک پاکستان ہے ۔ ملک پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، زرعی اور ڈیری مصنوعات کی پیداوار میں پاکستان دنیا کے ٹاپ ۶ ممالک کی فہرست میں شامل ہے اللہ تعالی نے پاکستان کو ۴موسم ، محنتی کسان اور پر عزم افرادی قوت سے نوازا ہے،پاکستان دودھ کی پیداوار حاصل کرنے والے ممالک کی فہرست میں ۶ویں نمبر پر ہے ، پاکستان گوشت کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ ایکسپورٹ بھی کرتا ہے ،خوراک کے بنیادی جزو گندم ،چاول ،دالوں اور مختلف اجناس کی پیداوار میں بھی خود کفیل ہے ،پاکستان دنیا کے بہترین اور طویل ترین نہری نظام کی نعمت سے مالا مال ہے،ان تمام تر صلاحیتوں کے باوجودیہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان ان غریب ترین ممالک کی صف میں شامل ہے جس کے عوام غذا اور غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ غذا اور غذائیت کی کمی کی وجہ سے پاکستان میں زچہ بچہ کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے ۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ۶۹ لاکھ بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں جبکہ ۴۴فیصدبچے غذا کی کمی کا شکار ہیں ۔ یہ گزشتہ سال کا سرکاری اعداد و شمار ہے جبکہ حقیقی اعدادو شمار اس سے زیادہ ہے ۔ تھر اور چولستان میں ہر سال سینکڑوں بچے ناکافی غذا کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یا بیماریوں کا شکار ہو کر مستقل طور پرمختلف جسمانی عوارض کا شکار ہو کر زندگی میں ترقی کی دوڑمیں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ۔
باہرمختلف قومی اور بین الاقوامی سرویز میں پاکستان میں غربت کی شرح ۰۳ فیصد بیان کی جاتی ہے لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد ۰۵ فیصد سے زائد ہے ،یہ ۰۵ فیصد وہ آبادی ہے جسے غذائیت سے بھر پور غذا میسر نہیں ہے ۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ۶۳ ممالک میں ہوتا ہے جو کہ خطرناک حد تک غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں
پاکستان کا ۰۷ فیصد طبقہ زراعت پر انحصار کیے ہوئے ہے مگر حکومتوں کی ناقص پالسیز اور کسان کے استحصال نے اس شعبہ کو برباد کر دیاہے یہی وجہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجودہم ملک میں خوراک کی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہیں اور بہت سی زرعی اجناس دوسرے ممالک سے برآمد کروانے پر مجبور ہیں ۔پاکستان کو خوراک کی کمی کے ساتھ اس وقت پانی کی شدید قلت کا مسئلہ بھی در پیش ہے، جس طرح پاکستان کے خلاف ہمسایہ ملک بھارت ہرطرح کی جارحیت کر رہا ہے ،اس جارحیت میں پاکستان کا پانی بند کرنے یا محدود کر دینے کے ہتھکنڈے بھی شامل ہیں ،پاکستان کا زیادہ تر زرعی رقبہ بین الاقوامی دریاﺅں سے آنے والے پانی کے ذریعے سیراب ہوتا ہے اور بھارت پاکستان کے حصے کے دریاﺅں پر بڑے بڑے ڈیمز بنا کر پانی کے بہاﺅ کم یا محدود کر رہا ہے جس سے ہماری زراعت اور زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے اس وجہ سے پاکستان کو خوراک کی کمی کے ساتھ ساتھ پانی کی شدید قلت کا مسئلہ بھی درپیش ہے ۔ماہرین ماحولیات اورمعاشیات کے مطابق پاکستان کو روز بروزپانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ IMFکے مطابق خوراک کی قلت کے ساتھ پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا تیسرا نمبر ہے اگر اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ۵۲۰۲ءکا سورج اپنے ساتھ خشک سالی کا عذاب پاکستانی قوم پر مسلط کر سکتا ہے لہذااس حوالے سے فوری ٹھوس پالیسز ترتیب دینے کی ضرورت ہے ایسے میں ڈیمز بنانے کا اقدام قابل تحسین ہے ۔
پاکستان دن بدن معاشی بدحالی کی طرف بڑھ رہا ہے غربت اور مہنگائی کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں موجودہ حکومت کا تین سال میں عوام ریلیف دینے کا ہدف پورا ہوتے نظر نہیں آرہا کیونکہ اشیائے خور دو نو ش کی قیمتوں میں حالیہ خطرناک اضافہ غربت میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے ۔ ایسے میں ریاست مدینہ کو بطور رول ماڈل بنانے کا عزم تو خوش آئند دکھائی دیتا ہے مگر حقیقی تبدیلی تب رونما ہو گی جب حقیقتاََآئین ریاست مدینہ کے مطابق معاشی پالیسز وضع کی جائیں گی۔ اگر امرا ءسے محصولات ، زکوة کے ذریعے پیسہ لے کر غرباءمیں شفاف طریقے سے تقسیم کیا جائے تو خلافت عمر ؓ کی طرح وہ وقت پاکستان میں بھی ضرور آسکتا ہے جب زکوة دینے والے تو بہت ہوں لینے والا کوئی نہ ہو ۔پاکستان کو اس معاشی بد حالی سے نکالنے کے لئے حکومت کو ذاتی مفادات بالائے طاق رکھ کر ملک کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسیز وضع کرنا ہوں گی پاکستان کو اس وقت معاشی ،سیاسی حالات کی شدید ضرورت ہے جو ہمارے ملکی تشخص کی بقاءکے لیے بھی نا گزیر ہے۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes
WordPress Themes