ڈاکٹر ہوں ڈاکٹر نہیں   


کو شائع کی گئی۔ September 27, 2021    ·(TOTAL VIEWS 74)      No Comments

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر فیاض احمد
ہمارے معاشرے کی ایک درد ناک حقیقت ہے کہ پیدا ہونے سے پہلے ہی ہم اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجینئر بنانے کی پلاننگ شروع کر دیتے ہیں ہم معصوم بچوں کے ذہن کو شروع سے ہی اپنی خواہشات کا قیدی بنا لیتے ہیںحالانکہ ہمیں ان کی ذہنی صلاحیتوں کو جاننا چاہیے اگر بے سود ہم تو بس کاروبار کے حساب کتاب سے سوچنے لگ جاتے ہیںاور ساتھ ہی ساتھ ننھی کالیوں کو بھی اس کاروبار کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں ڈاکٹر کتنا مقدس پیشہ ہے مگر دور جدید میں ایک زبردست کاروبار ہے بلکہ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنی نسل پیدا نہیں کر تے بلکہ کاروبار کو بڑھانے کے ذرائع پیدا کرتے ہیں آجکل دنیا کی ترقی کی بنیاد ہی اس کی نسل کی ذہنی ہم آہنگی ہے وہ لوگ اپنے بچوں کو کاروباری ذرائع نہیں بلکہ ایک انسان پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنے بچوں ان کے ذہنی توجہ کی طرف مرکوز کرتے ہیں جس کی بدولت وہ ایک اچھے اور سچے انسان کی شکل میں پروان چڑھتے ہیں ان میں لالچ نہیں انسانیت ہوتی ہے مگر ہمارے یہاں تو اکثر وبیشتر کاروبار ہوتا ہے ہم ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے لئے ہر جائز اور ناجائز طریقے اختیار کرتے ہیں جو ہماری سوچ اور ضمیر سے بلا تر ہوتے ہیں کیونکہ ہم انسان نہیں ایک کاروبار پیدا کرتے ہیںہمارے معاشرے میں انسان کی عزت نہیں بلکہ اس کے رتبے کی حیثیت کو مد نظر رکھا جاتا ہے کاروباری لوگ اپنے چراغوں کو ڈاکٹری کے شعبے سے منسلک کرکے فخر محسوس کرتے ہیں کچھ لوگ معلم کو قابل احترام سمجھتے ہیں آجکل کے ڈاکٹر تو بس نام کے ڈاکٹر ہیں ایک زمانہ تھا جب حکماءاتنے قابل ہوتے تھے کہ انسان کے چہرے کی کیفیت کا اندازہ لگا کر اس کی بیماری کی ابتدا ءاور انتہاءتک رسائی حاصل کر لیتے تھے مگر آجکل کے ڈاکٹر رپورٹوں اور ٹسٹوں کا سہارا لینے کے باوجود مریضوں سے کاروبار شروع کر لیتے ہیں
ہمارے معاشرے میں لوگ زیادہ کمانے والے کو زیادہ پڑھا لکھا سمجھتے ہیں اس کی مثال ایک ڈسپنسر اور ایک ڈاکٹر کی ہے ڈسپنسر ڈاکٹر کی نسبت زیادہ کماتے ہیں جس کی بدولت لوگ ڈسپنسر کو ڈاکٹر کی نسبت زیادہ پڑھا لکھا سمجھتے ہیںناقص نظام تعلیم کی وجہ سے تعلقات کی بناءپر ڈگری اور پوزیشن ملتی ہے دنیا میں تعلیم کی قدر تو نہ ہونے کے برابر ہوتی جا رہی ہے ہم اپنی حیثیت اور لوگوں کو نیچا دیکھانے کے لئے زیادہ فیسوں والے سکولوں کو ترجیح دیتے ہیں اس کے معیار تعلیم کو دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کرام بھی اس میں برابر کے شریک ہیں نوکری تو سرکاری سکولوں میں کرتے ہیں مگر اپنے بچوں کو نیم سرکاری ادارے میں پڑھاتے ہیںاس سے کیا ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنی ہی پڑھائی پے یقین نہیںہمارے معاشرے میں جہالت تو اس قدر ہے کہ لوگ کم پڑھے لکھے کو زیادہ پر ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ ہم میں اس معیار کا تعین کرنے کا معیار ہی نہیں ہے اسی طرح آجکل لوگ اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے کی جستجو میں ہر طریقہ اپناتے ہیں ڈاکٹر بننے کے بعد ڈاکٹر بھی خود کو خدا سمجھتا ہے اور انسانوں کے ساتھ ایک قصائی والا سلوک کرتا ہے جبکہ اسی معاشرے میں ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر جو کم از کم بیس پچیس سال تعلیم حاصل کرتا ہے اور لوگوں کے لئے ایک نئی چیز ایجاد کرتا ہے مگر معاشرے میں اس کو ایم بی بی ایس ڈاکٹر سے کم سمجھا جاتا ہے یعنی وہ ڈاکٹر ہے اور معاشرے کے لحاظ سے وہ ڈاکٹر نہیں معیار تعلیم کا یہ شعور آپ خود دیکھ لیں دوائی والے ڈاکٹر کی عزت اور ایک سائنس دان والا ڈاکٹر صرف نام کا ڈاکٹر۔۔۔۔کیونکہ سائنس دان ایک کلینک تو دور کی بات ایک میڈیکل سٹور یا لیبارٹری بھی بنانے کا مجاز نہیںتعلیم کی یہ تقسیم تو بہت نرالی ہے ۔۔۔ایک آنکھوں دیکھا ماجرہ۔۔۔ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر کو لوگ کہہ رہے تھے آپ ڈاکٹر نہیں تو نہیں ہیں کیونکہ آپ دوائی دینے کی اختیارات سے آزاد ہیںمیں یہ سن کر بہت آبدیدہ ہوا کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کی کوئی قدروقیمت نہیں بلکہ حیثیت دیکھی جاتی ہے یعنی ہمارا معیار تعلیم اتنا کم ہے کہ ہم انسان کی پہچان کرنے سے قاصر ہیںخدا کے بندوں سنو خدا کے لئے۔۔۔۔ڈاکٹری شعبہ کو کاروبار بنانے سے پرہیز کریں لوگوں کا نجات دہندہ بنیں انسانیت کا جذبہ ہو لوگوں کا خدا بننے کے بجائے لوگوں کا مددگار بنیں تب زندگی میں اصل زندگی نظر آئی گی میری معاشرے سے التجائے نگارش ہے کہ معیار تعلیم اور تقسیم تعلیم کی درجہ بندی کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کے حقوق کی پاسداری کی جائے اور۔۔میں ڈاکٹر ہوں میں ڈاکٹر نہیں ہوں جیسے ناسوروں سے معاشرے کو پاک کیا جائے اگر یہی عمل جاری رہا تو معاشرے میں صرف دوائی والے ڈاکٹر ہی پیدا ہوں گے تب ہمیںڈاکٹرعبدالسلام اورڈاکٹر عبدالقدیر جیسے سائنس دان نہیں پیدا ہوں گے بلکہ کاروباری ڈاکٹر ہی منظر عام ہوں گے تب ملک کا دفاع دوائیوں سے کیا جائے گا کیونکہ ہم سائنسی ایجادات سے محروم ہوں گے آجکل کے دور میں دنیا کے نقشے پر نام رکھنے کے لئے سائنسی میدان میں بھی نام ہونا ضروری ہے ۔۔ذرا سوچئے

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes
WordPress Themes