ڈاکٹر عبدالقدیر کو اس رحمتوں والے ماہ ربیع الاول میں اللہ نے واپس بلا لیا شیخ احمدالدباغ   


کو شائع کی گئی۔ October 10, 2021    ·(TOTAL VIEWS 361)      No Comments

پاکستان کا ایٹم بم اور شیطانی حملوں سے نجات کی ڈھال وظائف طریقہ محمدیہ ہے یہ وظائف ایک روحانی ایٹم بم ہے
لندن (شاہدجنجوعہ )محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج اس دنیا فانی کو چھوڑ کر الله کے پاس چلے گئے۔ آج ہر اہل ایمان دکھی ہے ہرپاکستانی اشکبار ہے ۔ محسن پاکستان کی بدولت پاکستان آج ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے۔ اگر پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت نہ ہوتی تو جو پاکستان کے حالات ہیں دشمنانِ پاکستان اسے نیست نابود کرنے کے ناپاک عزائم میں کب کے کامیاب ہوچکے ہوتے۔
اس دورفتن میں مخلوقِ خدا کو الله رسولؐ سےوالہانہ محبت و اطاعت کی ڈوری میں باندھنےکی کوششوں میں ہروقت مشغول ولی عصر ‎شیخ احمدالدباغ مدظلہ نے اس موقع پر انتہائی دکھی دل کیساتھ‏ محسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان رحمۃاللہ کیساتھ ملاقات کی یادوں کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فرمایا کہ
ﷲ‎سبحانہ وتعالی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے درجات بلند فرمائے اور محسن پاکستان کو ان مجاہدین اسلام، صحابہ رضى الله عنهم کے ساتھ جمع فرمائے جنھوں نے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کیلئے غزوات الرسولؐ میں شرکت فرمائی ۔ شیخ احمد الدباغ جو اسوقت کراچی میں موجود ہیں انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیلئے خصوصی دعا فرماتے ہوئے کہا الہیٰ اس مرد مجاہد کو سیدنا ابوبکر و عمر ،علی اور خالد بن ولید کیطرح عالم برزخ میں وہ مقام عطاء فرما کہ انہوں نے پاکستان کو ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔
شیخ احمد الدباغ سے ایک خصوصی ملاقات پر محسن پاکستان نے فرمایا کہ میں آٹھ نمازیں پڑھتا ہوں بشمول تہجد، اشراق اور چاشت کے۔ طریقہ محمدی کی کتاب کے بارے میں فرمایا کہ شیطانی دنیا کے لئے یہ ایٹم بم ہے۔
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” مَنْ رَابَطَ يَوْمًا وَلَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَ لَهُ كَأَجْرِ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا أُجْرِيَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ مِنَ الْأَجْرِ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ الرِّزْقُ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ “
صحیح مسلم، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ
ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرہ دینا، ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اور اگر ( پہرہ دینے والا ) انتقال کر گیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کررہا تھا، ( آئندہ بھی ) جاری رہے گا، اس کے لیے اس کا رزق جاری کیا جائے گا اور وہ ( قبر میں سوالات کرکے ) امتحان لینے والے سے محفوظ رہے گا ۔جو پوری زندگی کے لئے کے لئے ملک کی حفاظت کا ذریعہ بنے اس کا کیا مقام ہو گا۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog
WordPress主题